Skip to content
شیخ حسینہ کی خفیہ جیلیں: خوفناک حقائق
ازقلم: شیخ سلیم،ممبئی
شیخ حسینہ کے دور میں سینکڑوں افراد پراسرار طور پر غائب ہو گئے اور انہیں ایک خفیہ فوجی حراستی مرکز میں قید کیا گیا، جسے ’آئنہ گھر‘ کے کوڈ نام سے جانا جاتا تھا۔ حال ہی میں، بنگلہ دیش میں ایک طلبہ تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان خفیہ جیلوں کی خوفناک تفصیلات سامنے آئیں۔
شیخ حسینہ کی حکومت کے مخالفین کو اس خفیہ جیل میں قید کر دیا جاتا تھا۔ جبری گمشدگیوں کا شکار افراد اب سامنے آ کر ان قیدخانوں میں ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ‘آئنہ گھر’، جس کا مطلب ہے "آئینوں کا گھر”، ان خفیہ مراکز میں سے ایک تھا، جہاں قیدی خود کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔
حسینہ کے اقتدار کا آغاز 2009 میں ہوا، اور اس کے بعد سے سیکورٹی فورسز نے سینکڑوں افراد کو اٹھا لیا، جن میں سے اکثر ریاستی مخالفین تھے۔ کچھ افراد کو مار دیا گیا اور ان کی لاشیں بے رحمی سے پھینک دی گئیں، جبکہ دوسروں کو ’آئنہ گھر‘ جیسے خفیہ مراکز میں قید کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، 2009 کے بعد سے 700 سے زائد افراد جبری گمشدگیوں کا شکار ہوئے، اور حقیقی تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان مراکز میں قید کیے گئے افراد کو جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں سخت خفیہ رکھا گیا۔ جیلوں میں قیدیوں کے بال باقاعدگی سے کاٹ دیے جاتے تھے، اور وہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی اذیتوں کا شکار رہتے تھے۔
ماروف زمان، بنگلہ دیش کے سابق سفیر، جو 467 دنوں تک قید میں رہے، 2019 میں منظر عام پر آئے۔ انہوں نے گوگل میپس پر ڈھاکہ کی فوجی چھاؤنی کی نشاندہی کی، جو آئنہ گھر کے نام سے مشہور ہوئی۔
بنگلہ دیشی بیرسٹر احمد بن قاسم، جو 2016 میں قید کیے گئے تھے، کو آٹھ سال بعد خفیہ جیل سے رہا کیا گیا۔ قاسم کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ہتھکڑیوں میں مسلسل قید رکھا گیا، اور انہیں کسی بھی قسم کی بیرونی معلومات تک رسائی نہیں دی گئی۔
شیخ حسینہ کے دور میں ہونے والے مظالم کی انتہا وہ وقت تھا جب اگست میں طلباء کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک ایک مکمل عوامی انقلاب میں بدل گئی۔ پولیس کی فائرنگ سے ہزاروں بےگناہ طلباء کی جانیں گئیں، لیکن عوامی احتجاج کم نہ ہوا۔ فوج نے مداخلت سے انکار کر دیا، اور بالآخر 5 اگست کو شیخ حسینہ کو ڈھاکہ چھوڑ کر فرار ہونا پڑا، جس کے ساتھ ہی بنگلہ دیشی عوام نے ایک ظالم حکمران سے نجات حاصل کی۔
یہ خفیہ جیلیں شیخ حسینہ کے دور کے بدترین پہلوؤں میں سے ایک تھیں، اور ان کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے عوام اب ایک بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔
—
Like this:
Like Loading...