Skip to content
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عالمی سطح پر فی الحال دو تنازعات چھائے ہوئے ہیں ۔ یوکرین و روس کی جنگ 24 ؍ فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی اور فلسطین و اسرائیل کی کشمکش کا آغاز 8؍اکتوبر 2023 کو ہوا۔ یوکرین اور روس درمیان جنگ بہت جلد اپنے ایک ہزار دن پورے کرے گی مگر اس میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کی جملہ تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔ ان دونوں میں پہلا فرق طاقت کےتوازن کا ہے۔یوکرین کے ساتھ تمام ناٹو ممالک عملی تعاون کررہے ہیں ۔ اس کے سامنے دنیا کی ایک سُپر پاور روس ہے ا کو دوسری عظیم طاقت چین کی حمایت حاصل ہےگویا معاملہ برابری کا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل کا بھی ناٹو ممالک کی کھل کر تعاون تو کر ر ہےہیں مگر فلسطین کو روس اور چین کی صرف زبانی حمایت مل رہی۔ ایران اور اس کے ننھے منے حواریوں کے علاوہ کسی بڑے ملک کا عملی تعاون فلسطین کو نہیں مل رہا ہے۔اس کے باوجود اہل ایمان کے جذبہ ٔ جہاد نے طاقت کا توازن ایسے الٹا کہ پہلے ایران نے مریکہ کے ذریعہ فراہم کردہ اسرائیلی تحفظ کے نظام’تھڈ‘ کو برباد کردیا اور پھر حزب اللہ نیتن یاہو کے پشتینی مکان تک میزائل حملہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ معروف شاعرِ اسلام ماہر القادری جذبۂ شہادت کی بابت فرماتے ہیں؎
شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے بہت شاداب ہوتی ہے
جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضاء گزرتے ہیں
وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے
ان نامساعد حالات میں مشرق وسطیٰ کی کشمکش کے جاری رہنے کی بنیادی وجہ اسلامی جہاد میں شامل یحیٰ سنوار ، حسن نصراللہ یا اسماعیل ھنیہ جیسی عظیم المرتبت شخصیات اور ان کو ملنے والی الٰہی مدد و نصرت ہے ۔ مذکورہ بالاتنازعات میں شامل افراد کے علاوہ اغراض و مقاصد میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یوکرین اور روس کی جنگ بنیادی طور پر علاقائی برتری کے لیے برپا کی جانے والی ایک خونریز کشمکش ہے۔ ناٹو ممالک یوکرین کواپنا فوجی اڈہ بناکر وہاں سے روس کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے حریف کو قابو میں رکھا جاسکے ۔ ایک زمانے میں سوویت یونین نے کیوبا کو یوکرین کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی تھی مگر امریکہ نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ اس بار روس کو اعتراض ہے۔ اس نے دونوں ممالک کے درمیان روسی بولنے والے خطے کو یوکرین سے آزاد کروا کر ایک بفر زون بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ اس کے برعکس فلسطین کے اندر اسرائیلی جارحیت کے خلاف خود مختاری کا مقدس جہاد ہے۔ ظالم و غاصب اسرائیل کے بالمقابل فلسطینی عوام و خواص حریت و آزادی کے حصول کی خاطر بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ اس زبردست مزاحمت کے پسِ پشت جذبۂ شہادت کارفرما ہے۔ بقول شاعر ؎
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو ہے جو شہید کا وہ قوم کی زکوٰۃ ہے
شہید یحیٰ سنوار کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ کے معروف پورٹل مڈل ایسٹ نے ان کی تین سالہ پرانی تقریر کا چھوٹا سا حصہ انگریزی ترجمہ کے ساتھ نشر کردیا۔ اس میں انہوں نے نہایت سکون و اطمینان سے اپنی موت کا ذکرکیا تھا ۔ وہ سب سے پہلے کہتے ہیں غاصب دشمن کی جانب ان کے لیے سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے تاکہ ’میں بارگاہِ تعالیٰ میں ان کے ہاتھوں سے شہید کے طور پر جاوں ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمرکے 59ویں پڑاو میں پہنچ چکے ہیں۔وہ ایمانداری سےکورونا یا ہارٹ اٹیک یا کار ایکسیڈنٹ وغیرہ کے بجائے ایف 16 یا میزائل کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار ے جانے کو ترجیح دیں گے۔ 60کے بعد انسان اپنی موت سے قریب ہوجاتا ہے ۔ اس لیے وہ طبعی موت کے بجائے شہادت کو پسند کریں گے ۔ شہادت کے لغوی معنیٰ تو گواہی کے ہوتے ہیں مگر شاعر کہتا ہے؎
اگرچہ دونوں کا مطلب لغت میں ایک ہوتا ہے
گواہی اور ہوتی ہے شہادت اور ہوتی ہے
اسرائیلی سرکار کا جھوٹا پرچار تھا کہ یحیٰ سنوار سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے قیدیوں کا ڈھال بنا رکھا ہےلیکن خودصہیونیوں نے خود تسلیم کیا کہ ان کی شہادت نہ کسی سرنگ میں ہوئی اور نہ وہاں کسی یہودی یرغمال کو ڈھال کے طور پررکھا ہواتھا ۔ اس طرح غاصب صہیونیوں کے ایک جھوٹ کا پول کھل گیا ۔ انہوں میدان جنگ میں لڑتے ہوئے شہادت کا جام نوش کرکے اپنی موت سے فلسطین کی تحریک آزادی کو حیات جاوداں عطا کردی ۔ ٹیپو سلطان نے اپنی شہادت سے پہلے کہا تھا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی پر بہتر یک روزہ شیر کی زندگی ہے ۔ فرنگی دشمن کے دلوں میں ٹیپو کے تئیں ایسی ہیبت تھی کہ موت کے بعد بھی وہ ان کے قریب آنے سے گھبرارہے تھے ۔ یحیٰ سنوار کے حوالے سے بھی یہودی فوجیوں کا یہی حال تھا ۔ انہوں اپنی موت سے قبل آزادی کی ایسی شمع روشن کی ہے کہ جس کا نور پھیل کر رہے گا۔ فراق گورکھپوری نے کیا خوب کہا تھا ؎
لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی
اس دور کا مورخ عصرِ حاضر کی تاریخ رقم کرتے وقت یحیٰ سنوار کو ہر گز نظر انداز نہیں کرسکےگا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں قوم کے دل سے پہلے تباہی و بربادی اور پھر جیل کا ڈر نکالا مگر اس دارِ فانی سے کوچ کرتے وقت موت کا خوف بھی نکال دیا۔ اس دنیا میں ظالموں کا سب سے بڑا ہتھیار ڈر ہے ۔ وہ دنیوی تباہی و بربادی سے ڈراتا ہے۔ جیل بھیجنے کا خوف دلاتا ہے اور موت سے خوفزدہ کرتا ہے۔ یحیٰ سنوار نے ان تینوں قسم کے ڈر کی بیخ کنی کردی ۔ کسی کو اگر تباہ برباد کردیا جائے تو وہ ریلیف کیمپ میں رہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کا 80 فیصد انفرا اسٹرکچر یہی سوچ کر تباہ کیا کہ فلسطینی ڈر جائیں گے لیکن وہ بھول رہے ہیں یحیٰ سنوار کی ولادت کسی محل میں نہیں بلکہ خان یونس کے ایک راحت کیمپ میں ہوئی تھی۔ یہ 62 سال پرانی1962 کی بات ہے اس کے باوجود وہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ آزادی جنگ میں شامل ہوگئے ۔ انہوں نے تباہی اور فقر و فاقہ کی رکاوٹ کو پھلانگ کر نعرۂ حق بلند کردیا ، بقول کیفی اعظمی ؎
اعلان حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد
یحیٰ سنوارکے سرگرمیوں سے ڈر کر ظالموں نے ان کو جیل بھیجنے کا حربۂ ثانی آزمایا ۔لیکن آزادی کے متوالے جیل جانے سے نہیں ڈرتےاس لیے کہ وہ زنداں سے پرے سوچتے ہیں ۔ ان کو 27سال کی جوانی میں عمر قید کی سزا سنا کر ہمیشہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا ۔ مگر وہ بالکل نہیں ڈرے۔ جیل کے اندرانہیں قید تنہائی ملی تو اس کو انہوں نے موقع غنیمت جان کر عبرانی سیکھنے اور دشمنوں کی تہذیب و اطوار جاننے میں صرف کیا ۔ ایسا لگتا کہ انہیں یقین تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جیل سے نکال کر جنگ آزادی میں حصہ لینے کا موقع ضرور عنایت فرمائے گا ۔2011 میں گیلاد شالت کے بدلے رہا ہونے تصور بھی کسی نے نہیں کیا تھا لیکن یحیٰ سنوار کا توکل بحال رہا۔ 24 سال بعد دشمن کی جیل سے چھوٹنے کے بعد دوبارہ دارو رسن کا ڈر ان کے پیروں کی زنجیر نہیں بنا بلکہ بڑے ذوق و شوق سے انہوں نے اپنی جدوجہد دوبارہ شروع کردی ۔ حفیظ میرٹھی اس کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں؎
آئے گا پھر چمن پہ تصرف کا وقت بھی
پہلے قفس کی آب و ہوا دیکھتے چلیں
دار و رسن نے کس کو چنا دیکھتے چلیں
یہ کون سر بلند ہوا دیکھتے چلیں
حماس نے جیل سے رہائی کے بعد جس طرح ان کی پذیرائی کی اس سے ان کے صحت مند تنظیمی ڈھانچے کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں جیل چھوٹ کر آنے والے سے احتیاطی فاصلہ رکھا جاتا ہے مگریحیٰ سنوار کے کاموں کو سراہتے ہوئےپانچ سال کے اندر2017 میں انہیں غزہ یونٹ کاسربراہ بنا دیا گیا ۔ پانچ سا ل بعد 2022 میں دوبارہ ان کو عہدے پر بحال رکھا گیا اور امسال ماہِ اگست میں جب حماس کےہر دلعزیز رہنما اسماعیل ہنیہ کی ایران میں شہادت ہوئی تو یحیٰ سنوار سربراہی پر فائز کیے گئے ۔یہ حماس کا اسلامی امتیاز ہے کہ راحت کیمپ میں پلے بڑھے غریب فرد کو تقویٰ اور دلیری کی بنیاد پر تنظیم میں بلند ترین ذمہ داری سونپی گئی ۔ اس کے باوجود وہ میدان جنگ سے نہیں ہٹے بلکہ ڈٹے رہے۔ پہلے کی طرح دشمن سے آخری سانس تک برسرِ پیکار رہے اور لڑتے ہوئے اپنی قوم کو موت کے خوف سے نجات دلا کر رخصت ہوئے۔ یحیٰ سنوار کی پرعزم زندگی پر سرفراز بزمی کا یہ خراجِ عقیدت خوب صادق آتا ہے؎
میرے راستوں میں قدم قدم جو لہو کے نقش و نگار ہیں
تری چاہ ہیں ، ترا شوق ہیں ، ترا عشق ہیں ، ترا پیار ہیں
مجھے خوف طولِ سفر نہیں ، کہاں منزلیں کہاں دار ہیں
کبھی خیبروں میں تلاش کر کبھی حیدروں میں تلاش کر
جو ڈٹی ہوئ ہیں محاذ پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...