Skip to content
پولیس کی جانب سے مدرسہ کے طلباء ء کو زدوکوب ۔ ریاستی جمعیۃ کی جانب سے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت
حیدرآباد : ۱۹؍ اکتوبر 2024ء
مدرسہ درالعلوم صدیقیہ‘ شانتی نگر‘ لالہ گوڑہ‘ سکندرآباد کے ناظم مولانا عبدالمنان نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ کل کچھ پولیس والے ان کی غیر موجودگی میں مدرسہ آئے تھے اور بچوں سے ملاقات کی اور ان کا فون نمبر لے کر چلے گئے۔ بعدازاں لالہ گوڑہ پولیس اسٹیشن سے انہیں فون کال موصول ہوا جس پر وہ پولیس اسٹیشن پہنچے۔ان سے مدرسہ کے کاغذات طلب کئے گئے۔ان سے کہا گیا کہ ان کے مدرسہ کے تین طلباء جن کی عمر ۱۷؍ ۹؍ اور۱۰؍ سال پر مشتمل ہے ۔ان کو پولیس اسٹیشن مدعوکریں ‘ جب وہ تین بچوں کو لے کر پولیس اسٹیشن پہنچے تھے ان بچوں کو پولیس اسٹیشن کے اندر لے جاکر ان بچوں کو مبینہ طور پر زدو کوب کیا گیا اور ان سے جبراً یہ اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا کہ مدرسہ میں دینی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
مدرسہ کے ناظم صاحب کو ڈرایا اورمصالحت کے نام پر ایک سیاسی جماعت کے ذریعہ دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ ریاستی جمعیۃ اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔مدرسہ کے ناظم صاحب کے ہمراہ اور مقامی مدرسہ کے ذمہ داران ۴۰؍ افراد پر مشتمل ایک وفد نے آج محترم حافظ پیر خلیق احمدصابر صاحب سے ملاقات کی اور تمام ترتفصیلات سے واقف کرایا ۔حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب مدظلہ صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کی ہدایت پر جنرل سکریٹری صاحب نے تلنگانہ چیف منسٹر کے سکریٹری سے فون پر رابط کرکے پو لیس عہدیداروں اس رویہ سے واقف کرایا۔
اور فوری اقدام کرنے بات کی گئی۔ چیف منسٹر کے چیف سکریٹرکے کہنے پر (ACPْ) جئے پال ریڈی نے سے جنرل سکریٹر ی سے رابط کیا اور ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اور انہوں سے اس سلسلہ میں کارائی کرنے کا تیقن دیا ۔ ریاستی جمعیۃ علماء اس سلسلہ میں قانونی چارہ جوئی کریگی اور اس علاقہ کے پولیس عہدیداران کے خلاف شکایت بھی درج کرائیں گی۔واضح رہے کہ ریاستی جمعیۃ علماء شروع ہی سے مدرسہ کے ناظم صاحب اور طلباء کے سلسلہ میں فکر مند تھی اور مدرسہ کے ذمہ داران سے رابط میں ہے
مدرسہ درالعلوم صدیقیہ‘ شانتی نگر‘ لالہ گوڑہ‘ سکندرآباد کے ناظم مولانا عبدالمنان نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ کل کچھ پولیس والے ان کی غیر موجودگی میں مدرسہ آئے تھے اور بچوں سے ملاقات کی اور ان کا فون نمبر لے کر چلے گئے۔ بعدازاں لالہ گوڑہ پولیس اسٹیشن سے انہیں فون کال موصول ہوئی جس پر وہ پولیس اسٹیشن پہنچے۔ان سے مدرسہ کے کاغذات طلب کئے گئے۔ان سے کہا گیا کہ ان کے مدرسہ کے تین بچوں کو پولیس اسٹیشن لے آئیں‘ جب وہ تین بچوں کو لے کر پولیس اسٹیشن پہنچے تھے ان بچوں کو پولیس اسٹیشن کے اندر لے جاکر ان بچوں کو مبینہ طور پر زدو کوب کیا گیا اور ان سے جبراً یہ اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا کہ مدرسہ میں دینی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے کچھ بچوں نے خوف میں آکر اعترافی بیان بھی دے دئیے۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے رکن قانون ساز کونسل مسٹر مرزا رحمت بیگ کو مدرسہ روانہ کرتے ہوئے تفصیلات طلب کیں اور اعلیٰ پولیس عہدیداروں کو اس واقعہ سے آگاہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔
Like this:
Like Loading...