Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے
✍🏻سمیہ بنت عامر خان
بجلی کے تار پر چہچہاتے پرندے ، سرگوشیاں کرتی ہوائیں، کبھی نیلگوں تو کبھی ست رنگی آسمان۔ کھڑکی سے منظر کشی کرتی میری نگاہیں قدرت کی کاریگری میں گم ہوگئیں۔ اچانک سے یہ آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ یہ منظر میرے لیے کتنا حسین اور دلکش تھا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ یہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہو۔ اتنے میں کانوں میں اسرائیلی بربریت کی آواز گونج اٹھی۔ ٹی وی پر مسلسل فلسطینی بوڑھے بچوں جوانوں کی لاشوں کا ڈھیر، ادھ جلی لاشیں، معصوم کٹے ہوۓ ہاتھ، خون میں لت پت سرزمین فلسطین دیکھ کر دل مضطرب ہوگیا۔ دل میں ایک کسک اٹھی کاش میں ان کے لیے کچھ کرسکوں، میں پل بھر کی منظر کشی سے مسحور ہونے والی لڑکی ان جانباز فلسطینی اقوام کے حق میں دعا ہی کرسکتی تھی اور دعا کرتی رہتی ہوں اور دل میں ایک خواہش رکھتی ہوں کہ ان کے لیے اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار جیسے شیر دل شجاعت پسندغازی تیار کرسکوں ۔
آہ ۔۔۔۔!!! راہ وفا کا میر کارواں، حق کا شیدائی۔ جی ہاں اسماعیل ہنیہ کے غم کو گزرے ایک مہینہ ہی گزرا تھا کہ کل شب ایسے ہی پر سخت اور پر عزم جنگجو یحییٰ سنوار جن کی قیادت نے حماس کو ایک مضبوط عسکری اور سیاسی قوت میں تبدیل کر دیا جو ناصرف اسرائیل بلکہ بین الاقوامی کمیونٹی کےلیے بھی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ یحییٰ سنوار کی تمنا تھی کہ ان کو موت بستر پر نا آئے اور نہ ہی کسی بیماری سے جاں بحق ہو بلکہ شیر دل یحییٰ سنوار کی خواہش تھی کہ وہ دشمنوں کا سامنا کرتے ہوۓ رب العالمین کی جانب پیش کئے جائیں اور اسی تمنا کی ساتھ مالک حقیقی سے جاملے۔ ایسی عظیم شخصیات کا ذکر ہم نے کہانیوں اور نبی کے زمانے کے واقعات میں دیکھا ہے۔ مگر اس فانی دنیا میں ایسے چند ہی لوگ نظر آتے ہیں جن کی عظمت کو دیکھ کر دنیا کی چکاچوند ماند پڑ جاتی ہے۔ ان کے عزم و استقلال اور شہادت کی خبر سن کر دل میں ان کے جیسے عزم و استقلال اور شہادت کی تمنا بیدار ہوتی ہے۔
یحییٰ سنوار ایسی شخصیت تھے جن کے عزت و مقام سے دنیا کے بڑے طاغوت ان کے نام سے لرزتے تھے۔ آج ان کے بچھڑنے پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل اداس ہے، اور ہر زبان ان کی عظمت کے قصوں سے لبریز ہے۔ ایسی بلند مرتبہ اور عظیم شخصیات سے محبت ایمان کی علامت ان سے دشمنی نفاق کی علامت کہلاتی ہے۔ ایسے عظیم مرتبت لوگوں کو اہل ایمان محبتوں اور دعاؤں کا مرکز بنا لیتے ہیں، ہر مکتب ہر فرقہ انھیں اپنی محبتوں کا محور بنالیتا ہے۔ اس دور مادیت میں ایسی محبتیں، شجاعتیں بہت کم ہی نظر اتی ہے۔
اللہ سے دعاگو ہوں کہ اللہ ہمیں بھی ایسا مضبوط غازی بنادے، ہمارے دلوں سے نفاق، بزدلی اور فانی دنیا کی محبت کو ختم کر دے۔
آمین یارب العالمین
Like this:
Like Loading...