Skip to content
تمباکو اور شراب کی طرح سوشل میڈیا ایپس پر وارننگ لیبل ضروری: امریکی سرجن جنرل
نیویارک،18جون ( آئی این ایس انڈیا )
امریکہ میں صحت عامہ کے اعلی ترین افسر سرجن جنرل ڈاکٹر وویک ایچ مورتی نے سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر انتباہی لیبل لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے والدین کو خبردار کیا ہے کہ پلیٹ فارم کا استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک کالم میں انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔مورتی نے لکھاکہ نوجوانوں میں ذہنی صحت کا بحران ایک ہنگامی صورتحال ہے اور سوشل میڈیا اس میں ایک اہم وجہ کے طور پر ابھرا ہے۔سرجن جنرل نے لکھا کہ جو نوجوان سوشل میڈیا پر دن میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت گزارتے ہیں انہیں پریشانی اور ڈپریشن کی علامات کے دگنے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس عمر کے لوگوں میں 2023 کے موسم گرما تک سوشل میڈیا کا اوسطاً یومیہ استعمال 4.8 گھنٹے تھا۔مزید یہ کہ تقریباً نصف نوجوانوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ان میں اپنے جسم کے بارے میں بدتر ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ڈاکٹر مورتی کے مطابق سرجن جنرل کی وارننگ کا لیبل سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر لاگو کیا جانا چاہیے جیسا کہ الکوحل والے مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات کے ڈبوں پر انتباہی پیغامات درج ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ مورتی امریکی پبلک ہیلتھ سروس کمیشنڈ کور کے سربراہ ہیں لیکن ان کے پاس کمپنیوں کو ایسی وارننگ نوٹس لگانے کے لیے پابند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ صرف کانگریس کی قانون سازی سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔مورتی نے ماضی میں انتباہی لیبلز کی ماضی میں افادیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ باقاعدگی سے والدین اور نوعمروں کو یاد دلایا جائے گے کہ سوشل میڈیا محفوظ ثابت نہیں ہوا ہے۔ان کے بقول تمباکو کے استعمال کے بارے میں انتباہی لیبلز کے ذریعے بیداری بڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے اقدام سے رویے بدل سکتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...