Skip to content
ادبِ اطفال کے مصنّفین کا ورک شاپ
ازقلم:محمد رضی الاسلام ندوی
کل جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ کی طرف سے مصنّفینِ اطفال کا ایک ورک شاپ مرکز جماعت کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ، جس کے بعض اجلاسوں میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا – یہ ادارہ ماشاء اللہ گزشتہ میقات سے سرگرم عمل ہے اور فکر اسلامی کے فروغ اور تحریر و تصنیف کی ترغیب و تشویق کے لیے مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتا رہتا ہے –
ورک شاپ کی ابتدا میں جناب سلیم اللہ خاں امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند دہلی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے ، پھر ماہرین کی طرف سے ادبِ اطفال کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی لیکچرز ہوئے – مولانا انعام اللہ فلاحی معاون مرکزی تعلیمی بورڈ جماعت اسلامی ہند نے ‘اسلامی اقدار کی روشنی میں بچوں کے ادب کی ضرورت و اہمیت’ کے عنوان پر خطاب کیا – ڈاکٹر شاداب موسیٰ اسسٹنٹ سکریٹری جماعت کا عنوان تھا : ‘بچوں میں علمی و فکری نشو و نما کے مراحل’ – ڈاکٹر فیضان شاہد نے ‘بچوں پر مختصر کہانیوں کے نفسیاتی ، سماجی اور اخلاقی اثرات’ کے عنوان پر لیکچر دیا – ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے بچوں کے اسلامی ادب کا تنقیدی جائزہ لیا – ڈاکٹر عادل حیات نے اس سوال کا جواب دیا کہ بچوں میں تشدد کا رجحان کیسے پیدا ہوتا ہے؟
جناب آصف اقبال نے علاقے کے دو سو بچوں کا ایک سروے کیا تھا ، جس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ مطالعہ کے سلسلے میں بچوں کی عادتیں کیا ہیں؟ انھوں نے پاور پریزینٹیشن کے ذریعے اس سروے کے نکات پیش کیے اور اس کے نتائج سے شرکائے ورک شاپ کو روٗشناس کرایا –
صدارتی خطاب کی ذمے داری راقم سطور کو دی گئی تھی – میں نے عرض کیا کہ ادبِ اطفال کے مصنّفین کو تین باتوں کا ضرور خیال رکھنا چاہیے :
(1) کہانی لکھتے وقت بچوں کے ذوق اور نفسیات کو ملحوظ رکھیں اور غیر محسوس طریقے سے اپنی تحریروں میں اسلامی اقدار ، تعلیمات اور تہذیب کو سمونے کی کوشش کریں –
(2) مستند مواد پیش کریں ، خاص طور سے اسلام کے بارے میں – غلط سلط واقعات بیان کرنے سے احتراز کریں –
(3) بہت سادہ اور آسان زبان استعمال کریں –
میں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند کی تشکیل کے اول دور میں جماعت کے وابستگان نے بچوں کے لیے معیاری دینی لٹریچر تیار کیا تھا ، لیکن بعد میں اس پہلو سے کمی ہوگئی تھی – مقامِ شکر ہے کہ اب اس جانب توجہ ہورہی ہے –
یہ ورک شاپ صبح دس بجے سے عصر تک چلا – اس میں ادبِ اطفال سے دل چسپی رکھنے والے پچاس سے زائد ریسرچ اسکالرس اور دیگر افراد شریک ہوئے ، جن کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ ، جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی ، این سی ای آر ٹی ، شعبہ تعلیم حکومت دہلی اور دیگر اداروں سے تھا – ان میں تقریباً نصف تعداد خواتین کی تھی – بعض وہ حضرات بھی تشریف لائے تھے جو کئی دہائیوں سے ادب اطفال پر کام رہے ہیں -ورک شاپ کے تین اجلاس ہوئے ، جن کی نظامت نور الاسلام رحمانی ، نعیم رضا اور محمد معاذ صاحبان نے کی – آخر میں تمام شرکا کو سرٹیفکٹ دیے گئے –
بچوں کے لیے معیاری اسلامی لٹریچر تیار کرنا موجودہ وقت کی شدید ضرورت ہے – اس کے لیے نوجوانوں کی ٹریننگ کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے – تربیتِ اطفال سے دل چسپی رکھنے والوں کو چاہیے کہ اس طرح کے پروگرام ملک کے دوسرے حصوں میں بھی منعقد کرنے کی کوشش کریں –
Like this:
Like Loading...