Skip to content
تحفظ ناموس رسالت بورڈ بلڈحانہ کی جانب سے سیرت سرور کونین کوئز کا شاندار انعقاد
بلڈھانہ۔ ۲۲ اکتوبر (بذریعہ ذوالقرنین احمد )
: تحفظ ناموس رسالت بورڈ، بلڈھانہ کے زیر اہتمام ضلع بھر کی اسکولوں میں سیرت سرور کونین کوئز کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہزاروں طلبہ نے حصہ لیا۔ گزشتہ اتوار چکھلی میں فائنل مقابلہ جاتی امتحان منعقد ہوا جس کے بعد جلسہ تقسیم انعامات کا اہتمام کیا گیا اور ضلع و تعلقہ کی سطح پر ٹاپ کرنے والے طلبہ کو مومنٹوز، اسناد نقد و دیگر انعامات سے نوازا گیا۔ ضلع سطح پر گروپ الف سے وصی اللہ سیف اللہ شیخ، نگر پریشد اردو اعلیٰ تحتانی مدرسہ، ناندورہ نے اول انعام، خدیجہ فضل الرحمٰن سید، شیواجی ہائی اسکول و جونیئر کالج ،مہکر نے دوم انعام اور تمثیل طاہرہ ریاض الحق، ضلع پریشد اردو اعلیٰ تحتانی مدرسہ براے طالبات، پیپل گاؤں راجا تعلقہ کھام گاؤں نے سوم انعام حاصل کیا۔ اسی طرح گروپ ب سے مہوش فاطمہ یاسین شیخ، اردو گرلس ہائی اسکول و جونیئر کالج، ملکہ پور نے اول انعام، آمنہ فردوس منیرالدین سید، اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج، جلگاؤں جامود نے دوم انعام اور نوشین انجم ذبیح اللہ شیخ، مولانا آزاد جونیئر کالج، ناندورہ نے سوم انعام حاصل کیا۔ ان کے علاوہ تعلقہ سطح پر منتخب ضلع کے تمام 85 طلبہ کو بھی مومینٹو، سرٹیفکیٹ اور نقد انعام سے نوازا گیا۔ ساتھ ہی اس کوئز کے انعقاد میں خصوصی تعاون کرنے والے اساتذہ و دیگر حضرات کا مومنٹو دے کر خصوصی استقبال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق تحفظ ناموس رسالت بورڈ علاقے کی ایک معروف دینی تحریک ہے۔ ناموس رسالت کی حفاظت کرنا، عام مسلمانوں کو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دینا، طلبہ میں سیرت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا وغیرہ مقاصد کے تحت یہ تنظیم سرگرم عمل ہے۔ اپنے ان مبارک مقاصد کے حصول کے لیے رواں سال عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بلڈھانہ ضلع کی تمام اسکولوں کے طلبہ کے لیے سیرت سرور کونین کوئز کا شاندار انعقاد بورڈ کی جانب سے عمل میں آیا ۔ اس مقابلے کو تین سطحوں پر منعقد کیا گیا۔ مرحلہ اول میں اسکولی سطح پر تحریری امتحان لیا گیا۔ یہ مقابلہ گروپ الف اور گروپ ب کے تحت دو زمروں میں لیا گیا۔ گروپ الف میں پنجم تا ہشتم اور گروپ ب میں نہم تا دوازدہم کے طلبہ شامل تھے۔ تمام طلبہ کو سیرت پاک پر مشتمل 300 سوالات والا کتابچہ فراہم کیا گیا تھا۔ 5 اکتوبر 2024 کو ضلع کے تمام 13 تعلقوں کی 87 اسکولوں کے طلبہ کے لیے پہلے مرحلے میں اسکولی سطح کا امتحان لیا گیا جس میں تقریباً ساڑھے پانچ ہزار طلبہ نے حصہ لیا۔
پہلے مرحلے میں ہر اسکول کے دونوں گروپ کے ٹاپ تین تین جس میں 84 لڑکے اور 357 لڑکیاں اس طرح کل 441 طلبہ کو تعلقہ سطح کے دوسرے مرحلے کے امتحان میں شرکت کا موقع ملا۔ 13 اکتوبر 2024 کو ضلع کے تمام 13 تعلقوں میں منعقدہ اس مقابلہ جاتی امتحان میں طلبہ نے حصہ لیا۔ دوسرے مرحلے کے امتحان کے نتائج کی بنیاد پر ہر تعلقے کے دونوں گروپ سے تین تین اس طرح کل 85 طلبہ کو فائنل مقابلے کے لیے اہل قرار دیا گیا۔ 20 اکتوبر 2024 کو چکھلی کے ثانیہ اردو ڈی ایڈ کالج میں ضلع سطح کا فائنل مقابلہ منعقد ہوا جس کے نتیجے میں گروپ الف سے ضلع کے ٹاپ تین اور گروپ ب سے ٹاپ تین طلبہ کا انتخاب کیا گیا۔ فائنل فاتح طلبہ کا انتخاب آسانی سے نہیں ہوسکا کیونکہ گروپ الف کے تینوں اور گروپ ب کے دو طلبہ نے مساوی نمبرات حاصل کیے تھے۔ اس لیے ان پانچ طلبہ کا دوبارہ دس معروضی سوالات پر مبنی تحریری پرچہ لیا گیا جس کے نتیجے میں دونوں گروپ سے اول، دوم و سوم طلبہ کا انتخاب ہوگیا۔
بورڈ نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ کسی بھی حال میں قرعہ اندازی نہیں کی جائے گی تاکہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ فائنل مقابلے کے بعد ثانیہ ڈی ایڈ کالج کے اسمبلی ہال میں ایک شاندار جلسہ تقسیم اسناد و انعامات کا اہتمام کیا گیا۔ اس جلسے کی صدارت ضلع بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید ماجد رضا صاحب نے کی جبکہ مدرسہ فیضان اولیاء ناندورہ کے مفتی حضرت مولانا تصدق حسین صاحب، حضرت مولانا منظور صاحب، مولانا محسن مصباحی صاحب، مولانا ریحان مدنی صاحب وغیرہ نے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ نظامت حافظ و قاری مولانا انتسام حسین صاحب و قاضی رئیس الدین سر نے فرمائی ۔ اس موقع پر فائنل مقابلے میں شریک طلبہ، سرپرست، اساتذہ، امت المسلمین اور تحفظ ناموس رسالت بورڈ بلڈھانہ کے ذمہ داران و دیگر حضرات موجود تھے۔ صدر ومہمانان خصوصی نے اپنے خطابات میں ناموس رسالت کی عظمت، اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کی ضرورت اور سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت پر مختصر مگر جامع گفتگو کی۔ اس کوئز کے دوران جو بات سامنے آئی وہ یہ کہ کوئز میں حصہ لینے والے نیز انعامات حاصل کرنے والے طلبہ میں لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں کا تناسب بہت کم ہے جس پر ہمارے علماء، اساتذہ و سرپرست سبھی کو غور کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
Like this:
Like Loading...