Skip to content
غزہ کے فلسطینی مجاہدین کی بہادری ،شجاعت اور قربانیاں
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطینی علاقوں پر قبضے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ آج اسرائیل تقریباً 80 فیصد فلسطینی زمینوں پر قابض ہو چکا ہے، اور باوجود اوسلو معاہدے کے، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ نئی یہودی بستیاں تعمیر ہو رہی ہیں اور فلسطینی علاقے روز بروز سکڑتے جا رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی محض نام کی رہ گئی ہے، اور حقیقی طاقت اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں میں ہے۔
فلسطین کی اس طویل اور دکھ بھری کہانی کے باوجود، جس طرح غزہ کے مجاہدین نے اور اُنکے لیڈران نےاسرائیلی فوجی طاقت کے خلاف اپنی زمین، عزت اور وقار کے لیے مزاحمت کی ہے، وہ دنیا بھر میں شجاعت اور بہادری کی ایک بے مثال داستان بن گئی ہے۔بڑے بڑے لیڈرز شہید ہو چکے ہیں ،پچھلے پانچ سو سالوں میں مختلف قوموں کی آزادی کی جدوجہد اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی کئی مثالیں ملتی ہیں، لیکن غزہ کے عوام کی موجودہ جدوجہد نے ایک منفرد حیثیت حاصل کر لی ہے۔
دنیا میں ایک عرصے سے مسئلہ فلسطین کو نظرانداز کیا جا رہا تھا، لیکن سات اکتوبر 2023 کو غزہ میں شروع ہونے والے "طوفان اقصیٰ” نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ یہ واقعات فلسطینی عوام کی مشکلات کو دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں کر گئے۔ غزہ کے مجاہدین کی جانب سے کی گئی کارروائیوں نے نہ صرف مسئلہ فلسطین کو زندہ کیا بلکہ دنیا کو مجبور کیا کہ وہ اس پر دوبارہ غور کرے۔
غزہ کے عوام کی یہ مزاحمت محض ایک عسکری جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نظریاتی، قومی اور روحانی جنگ بھی ہے، جو فلسطینیوں کی زمین کی آزادی اور ان کے وقار کے تحفظ کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی جدید فوجی طاقت، ٹیکنالوجی، اور عالمی حمایت کے باوجود، غزہ کے مجاہدین نے محدود وسائل کے ساتھ اپنی سرزمین کا دفاع کیا ہے۔ یہ مزاحمت نہ صرف بہادری کی ایک عظیم مثال ہے، بلکہ عالمی سطح پر استعماری طاقتوں کے خلاف آزادی کی تحریکوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہے۔
پچھلے پانچ سو سالوں میں کئی اقوام نے اپنی آزادی کے لیے لڑائیاں لڑیں، مگر فلسطینیوں کی مزاحمت ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ ایک تاریخی مثال خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ہونے والے سیاسی بحران کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی قوموں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ لیکن فلسطینیوں کی جدوجہد کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسی صیہونی ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں جسے عالمی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
اس جدوجہد کو الجزائر کی جنگ آزادی سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ الجزائر نے 1962 میں ایک طویل اور خونریز جنگ کے بعد فرانسیسی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ لاکھوں الجزائریوں کی قربانیوں نے دنیا بھر میں استعماری نظام کے خلاف جدوجہد کی علامت بنائی۔ تاہم، غزہ کی مزاحمت اس سے بھی زیادہ طویل اور پیچیدہ ہے، کیونکہ یہاں اسرائیلی فوجی طاقت کا مقابلہ محدود وسائل کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر کیے جانے والے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ 1948 کے بعد سے اسرائیل نے مسلسل فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کیا، لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل کیا، اور ان کی آبادیوں کو تباہ و برباد کیا۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی قبضے میں مزید اضافہ ہوا، اور مغربی کنارے سمیت غزہ پر بھی مسلسل فوجی کارروائیاں کی جاتی رہیں۔
غزہ کی ناکہ بندی، جو 2007 سے جاری ہے، نے یہاں کی معیشت اور عوام کی زندگیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بار بار کی جانے والی بمباری اور فوجی حملے یہاں کے عوام کے لیے زندگی کو ایک مسلسل عذاب بنا چکے ہیں۔ اسرائیلی افواج کی طرف سے نہ صرف عام شہریوں بلکہ بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے ظلم کی ایک اور واضح مثال 2014 کی جنگ ہے، جس میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے ان مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا، مگر عالمی برادری کی خاموشی نے اسرائیل کو مزید ظلم ڈھانے کا موقع دیا۔
تمام تر اسرائیلی ظلم و جبر کے باوجود، اہل غزہ نے کبھی اپنی جدوجہد کو ترک نہیں کیا۔ محدود وسائل اور جدید ہتھیاروں کی کمی کے باوجود، انہوں نے اپنے دشمن کے خلاف کامیاب مزاحمت کی ہے۔ دنیا بھر میں غزہ کے مجاہدین کی جرات و شجاعت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنی سرزمین کی حفاظت کی ہے بلکہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ظلم و ستم کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا ہے۔
غزہ کے عوام نے اپنی مزاحمت کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ آزادی، عزت اور وقار کے لیے ہر قسم کی قربانی ضروری ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
اہل غزہ کی مزاحمت، بہادری اور شجاعت نے تاریخ میں ایک نئی اور منفرد مثال قائم کی ہے۔ ان کی جدوجہد ظلم اور جبر کے خلاف استقامت اور استقلال کا بہترین نمونہ ہے۔ اسرائیل کی بربریت اور جنگی جرائم کی کوئی مثال پچھلے چند صدیوں میں نہیں ملتی، مگر غزہ کے عوام کی استقامت اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت اور جبر ہمیشہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔
پچھلے ایک سال میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر معصوم شہری شامل ہیں۔ تاریخ ایسی بربریت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسرائیل کی حمایت میں مغربی طاقتیں کھل کر سامنے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بےبس نظر آتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک جیسے مصر، اردن، سعودی عرب اور امارات نے صرف زبانی مذمت کی حد تک فلسطین کا ساتھ دیا ہے، جبکہ حزب اللہ اور یمنی حوثی تحریک ہی وہ قوتیں ہیں جو اہل غزہ کی عملی مدد کر رہی ہیں۔
یہ صورت حال ایک بڑے انسانی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، اور اہل غزہ کی یہ جدوجہد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنے حقوق کی خاطر کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...