Skip to content
عبادتوں میں قبول اور عدم قبول کا احتمال ہے لیکن حضور اقدس ﷺپر درود قبول ہی ہوتا ہے۔مولانا حاظ پیر شبیر احمد کا بیان
حیدرآباد (23؍ اکتوبر 2024ء)
حضرت مولانا حاظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صلوٰۃ وسلام دراصل اللہ تعالیٰ کے حضور میں کی جانے والی بہت اعلیٰ درجہ کی ایک دعا ہے جو رسول اللہ سے اپنے ایمانی وابستگی ووفاداری کے اظہار کیلئے آپﷺ کے حق میں کی جاتی ہے اور یہ دعا آپﷺ سے محبت اور آپ کے حقوق اور اداب میں سے ہے۔ اس کا حکم خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک میں بڑے پیارے اور مؤ ثر انداز میں دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اس پیغمبر پر ،اے ایمان والو!تم بھی آپ پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔حق تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت سے احکامات ارشاد فرمائے ، بہت سے انبیائے کرام کی توصیفیں اور تعریفیں بھی فرمائیں، ان کے اعزاز واکرام بھی فرمائے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایاتو فرشتوں کو حکم فرمایا کہ ان کو سجدہ کیا جائے لیکن کسی اعزاز واکرام میں یہ نہیں فرمایا کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں تم بھی کرو۔ یہ اعزاز واکرام صرف سید الکونین فخردو عالم ہی کیلئے ہے کہ اللہ جل شانہ نے صلوٰۃکی نسبت اولاً اپنی طرف اور اس کے بعد اپنے پاک فرشتوں کی طرف کرنے کے بعد مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتے صلوٰۃبھیجتے ہیں، اے مومنوں! تم بھی صلوٰۃ وسلام بھیجو۔اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ اس عمل میں اللہ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ مومنین کی شرکت ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اللہ جل شانہ نے اپنے بندوں پر ظاہر کیا ہے کہ ان کے نزدیک اپنے پیارے حبیب کا کیا رتبہ ہے اور کیا شان ہے کہ اللہ جل شانہ اور ملائکہ مقربین ملاء اعلیٰ میں آپ کی کیا ثنا کرتے ہیں پھر ملاء سفلیٰ میں اسی درود کا حکم فرما دیا تاکہ عالم علوی سے عالم سفلی تک ہر جگہ آپ کی تعریف اور ثنا سے گونج اْ ٹھے اور زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا محبوبیت اور رفعت شان محبوب سے معطر اور منور ہو جائے۔ امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعے حضو ر کی شرافت کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ ہر حال میں بلند مرتبہ ہیں اور آپ یا آپ کی ازواج مطہراتؓ کے بارے میں کوئی غلط عقیدہ یا احترام و توقیر میں کوتاہی کی نجاست کسی کے اندر ہو تو اس آیت کے ذریعہ اس کو دور کیا گیا ہے۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ درود شریف کا حکم دینے سے پہلے اس شاندار تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مومنین یہ جان لیں کہ کائنات کی ہر چیز تو اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تعریف بیان کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق اپنے محبوب کی ثنا و تعریف کرتا ہے اور رحمت خاص مسلسل بھیجتا ہے اور فرشتے ہر وقت اس کی دعا میں مشغول رہتے ہیں’ اسی سے آپ کا رتبہ اور آپ کی محبوبیت عند اللہ ظاہر ہوتی ہے:اس طرح رسول اللہ کے محاسن وکمالات ، آپ کی پیغمبرانہ خدمات اور امت پر آپﷺ کے عظیم احسانات کا یہ حق ہے کہ امتی آپ ﷺکے حضور میں عقیدت ومحبت اور وفاداری اور نیازمندی کا ہدیہ اور ممنونیت و سپاسگذاری کا نذرانہ پیش کریں۔ اسی کیلئے درود وسلام کا یہ طریقہ مقرر کیا گیا۔
درود شریف کی امتیازی خاصیت یہ ہے کہ خلوص دل سے اس کی کثرت اللہ تعالیٰ کی خاص نظر رحمت، رسول اللہ کے روحانی قرب اور آپ کی خصوصی شفقت و عنایت حاصل ہونے کا خاص الخاص وسیلہ ہے جیسا عمل ویسی جزا کے قاعدے کے موافق کثرت سے درود سلام پڑھنے والے پر اور اس کی آل واولاد پر بے شمار رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوتی ہیں لہذا یقینا ً اس کے دارین کے مقاصد پورے ہوتے ہیں اور سعادتیں حاصل ہوتی ہیں۔مشائخ فرماتے ہیں کہ ساری عبادتوں میں قبول اور عدم قبول کا احتمال ہے لیکن حضور اقدس پر درود قبول ہی ہوتا ہے لہذا ہم گناہ گاروں کی یہ عبادت باوجود ناقص ادائیگی کے انشاء اللہ قبول ہے اور سب سے لذیذ اور شیریں تر خاصیت درود شریف کی یہ ہے کہ اس کی بدولت عشاق کو حضور پْر نور کی خواب میں زیارت کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالی ہم کو صحیح علم اور عمل کی توفیق عطافرمائیں۔آمین
Like this:
Like Loading...