Skip to content
پھانسی کے سایے میں!
مرتب: عبدالعزیز
موت کا ڈر بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیتا ہے۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو موت سے آنکھیں چرانے کے بدلے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کرتے ہیں اور مطلق پلک نہیں جھپکاتے۔ لاہور میں مارشل لا کے دنوں میں مولانا مودودی کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور کچھ عرصے بعد فوجی عدالت نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس پر آشوب دور میں بھی جب پھانسی کا پھندہ تقریباً ان کی گردن میں پڑچکا تھا اور موت کے بھیانک سائے آنکھوں کے سامنے رینگنے لگے تھے، مولانا مودودی نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر سلطان احمد صاحب کی زبانی مولانا مودودی کے کردار کا یہ رخ بھی سنئے۔
’’دوشنبہ 11مئی 1953ء کو شب کے دو بجے سے ذرا قبل میں پلنگ پر لیٹا تھا اور آنکھ لگی ہی تھی کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، اٹھ کر ریسیور کان سے لگایا تو کوئی پوچھ رہا تھا: ’’مولانا کے فیصلے کی آپ کو خبر مل گئی؟ ہیلو… انھوں نے مودودی صاحب کو پھانسی کی سزا دی ہے! … نقی علی صاحب کو نو سال اور نصراللہ خاں صاحب کو تین سال قید بامشقت اور …ہیلو… کون صاحب ہیں؟ جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘
اندھیرے میں تھوڑی بہت روشنی جو تھی وہ ایک دم غائب ہوگئی۔ کانوں میں سائیں سائیں کی آواز آرہی تھی۔ بولنے والا ابھی بول رہا تھا، مگر میں نے ریسیو ر رکھ دیا اور باہر آکر پلنگ پر بیٹھ گیا۔ سامنے شعبان کی آخری راتوں کا چاند پھیکا اور زرد تھا۔ معلوم نہیں صبح تک کتنے چہرے اسی طرح زرد اور اداس ہوجائیں گے! میں نے سوچا۔
’’کون تھا؟‘‘ یحییٰ صاحب نے اچانک قریبی پلنگ سے کروٹ بدل کر وپوچھا’’کیا بات تھی؟‘‘
’’میں نام پوچھنا بھول گیا‘‘۔ میں نے گلوگیر آواز میں رک کر جواب دیا۔ ’’کیا کہتا تھا؟‘‘
’’پوچھتا تھا مولانا کے فیصلے کی ابھی تک کوئی اطلاع ملی یا نہیں؟‘‘ یہی سوالات پر سوالات کرتے جارہے تھے۔ ان کی آواز ٹیلیفون کی طرح دور سے آتی معلوم ہوتی تھی۔
’’صبح تک غالباً فیصلہ معلوم ہوجائے گا!‘‘ ان کو پریشانی سے بچانے کے لئے گول مول جواب دیا۔ ’’میں بھی اخبارات کے دفاتر سے معلوم کرتا ہوں۔ میرے روکتے روکتے وہ ٹیلیفون تک جاچکے تھے، لیکن ذرا دیر بعد ان کی آواز آئی کہ ٹیلیفون خراب ہے۔ گھنٹی نہیں بجتی۔
دماغ میں خیالات تیزی سے گھوم رہے تھے۔ ’’یا الٰہی! کیا یہ انجام ہونا تھا؟‘‘ کیا داعیان حق اتنی آسانی سے کارزارِ حیات سے الگ کئے جاسکتے ہیں؟ کیا ؎اقامت دین کی کوششوں کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ نہیں، نہیں۔ میں نے غلط کہا۔ تیرے دین کا کام جاری رہے گا۔ لیکن کیا اس تحریک کے جان باز کے رخصت ہونے کا وقت قریب آگیا ہے؟ خدایا! توہی ہم کو صبر دے اور توہی ہمارا حامی و ناصر رہ!!!
معلوم نہیں اور کس کس کو خبر ہوئی؟ جیل کے اندر تو شاید سب کو معلوم ہوچکا ہوگا۔ مولانا کے گھر والے اس خبر کو کس طرح سنیں گے؟ صبح کو اخبارات میںپڑھ کر ملک میں کیسی سنسنی پھیلے گی؟ بہتر ہوگا صبح تک انتظار کیا جائے۔
نماز فجر کے وقت ملک سعید صاحب اور یحییٰ صاحب کو پہلی بار رات کی خبر سنائی۔ دونوں دھک سے رہ گئے۔ غنیمت ہے کہ اسی وقت جماعت کھڑی ہوگئی اور ہر شخص کے دل کی کیفیت یا اس پر روشنی یا خدا پر! نماز کے بعد طے پایا کہ صفدر کو لے کر سیدھے چودھری نذیر احمد ایڈوکیٹ کے یہاں چلیں، کیونکہ ان کی یہی ہدایت تھی۔ وہ ابھی ناشتہ سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ ہم پہنچ گئے۔ وہ خبر سن کر بالکل سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔
’’میرا اندازہ یہ تھا کہ معاملہ اس حد تک تو نہیں جائے گا‘‘۔ اخبارات طلب کئے گئے! اس میں چھوٹی سی خبر درج تھی اور تمام سزا یافتگان کی میعاد و جرمانہ کی تفصیل بھی۔
’’میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ ایسا ہر گز نہ ہوگا۔ تاہم فوراً اس کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے‘‘۔ اس کا دروازہ انڈیمنٹنی آرڈیننس نے پیشگی بند کردیا ہے۔ چودھری صاحب نے کہاکہ ’’بہر حال سزا کا حکم نامہ اور دیگر کاغذات فوراً حاصل کئے جائیں، پھر غور کریں گے‘‘۔
مرکز ہوتے ہوئے سیدھے سنٹرل جیل پہنچے اور اندر ملنے کی درخواست دی۔ ایک گھنٹہ سے زیادہ انتظار کے بعد اجازت ملی اور جیل کے بیرونی آہنی پھاٹک کی کھڑکی کھلی، ابوالخیر صاحب مودودی، عمر فاروق مودودی، سعید ملک صاحب، شرفی صاحب، صفدر صاحب اور میں آگے پیچھے جھک کر تاریک ڈیوڑھی میں داخل ہوگئے۔ جیل کے لوگ اس دروازے سے باہر جانے کے لئے نہ نکلتے ہوں گے جتنی بے تابی سے ہم اندر گھسے۔ ہمارے اندر پہنچتے ہی پُرشور طریقے پر کھڑکی اور اس کا قفل بند کردیا گیا۔ سب کے ہاتھوں پر نشانی کی مہر لگائی گئی اور پھر سب کو ایک سپاہی سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر کی طرف لے چلا۔ کافی کشادہ اور لمبی جگہ تھی۔ دوسرے سرے پر ویسا ہی آہنی پھاٹک بند تھا۔ ڈیوڑھی کے سرے پر دائیں بائیں دو راستے مختلف کمروں کی طرف جاتے تھے۔ اس سے ملحق دونوں طرف طرف بڑے بڑے کمرے تھے۔ سیدھے ہاتھ پر ذرا بلندی پر ایک تختۂ سیاہ آویزاں تھا۔ جس پر میلے پیتل کے ہندسوں میں پھانسی پھانے والوں اور سزا بھگتنے والوں اور زیر سماعت مقدموں کے قیدیوں کی تعداد درج تھی۔
جونہی ہم سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں داخل ہوئے عجیب منظر دیکھا۔ جیل کے کچھ رفقاء وہاں موجود تھے۔ ایک طرف چودھری محمد اکبر صاحب یاس و سنجیدگی کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔ مولانا امین اصلاحی صاحب کمرے کے درمیان کھڑے تھے۔ میں نے کبھی ان کا چہرہ فکر و غم سے ایسا ستا ہوا نہیں دیکھا۔ دروازے کے قریب طفیل محمد صاحب سے گلے مل رہے تھے۔ نکھیں بیحد سرخ تھیں اور پلکوں پر چھلکے ہوئے آنسوؤں کے عکس کی وجہ سے خون کی بوندوں کے مشابہ تھے۔ طفیل صاحب کو مولانا سے جو تعلق خاطر رہا ہے اس کی وجہ سے ان کی ابتر حالت کا ہر شخص کو اندازہ تھا۔ بلا توقف ہمارے رہبر سپاہی نے ہم سے مولانا سے ملنے کے لئے جلدی کا تقاضا کیا۔ ناچار واپس لوٹے اور دوبارہ ڈیوڑھی میں آکر اندرونی پھاٹک کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے۔ چند لمحوں میں کھڑکی کا قفل کھول دیا گیا اور چھوٹے سے دروازے میں سے دھوپ اندر آنے لگی۔ اس سے گزر کر جب سیدھے کھڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہم ایک کھلی ہوئی چھوٹی سی گلی میں ہیں ، جس کے دونوں طرف کی دیواریں غیر معمولی بلند تھیں۔ آگے بڑا وسیع میدان بلکہ پارک تھا۔ زردی مائل گھاس اور جا بجا چھوٹے چھوٹے درخت۔ جیسے ہی کھلی دھوپ میں پہنچے تو سامنے نصر اللہ خاں عزیز کھڑے نظر آئے۔ جلدی جلدی سب سے ہاتھ ملائے اور زبان سے ربنا افرغ علینا صبراً (اے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر) کہنے لگے۔ ’’مولانا سے ملنے جارہے ہوں گے؟ اور سب لوگ وہ کھڑے ہیں ‘‘۔ ہاتھ کے اشارے پر دیکھا کہ دور ایک درخت کے نیچے نعیم صاحب ، عبدالوحید صاحب، ملک غلام علی صاحب اور رفقاء کے چہرے نظر آئے۔ ہم کو دیکھ کر ان لوگوں نے ہاتھ ہلائے۔ بیک وقت وہ ہماری طرف اور ہم ان کی طرف بڑھے لیکن رہنما سپاہی نے جو آگے جاچکا تھا پلٹ کر پکارا۔ ان لوگوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ واپسی پر ملاقات کرلینا ہے۔ اس لئے مجبوراً ہم داہنی جانب پختہ سڑک پر چل دیئے۔ تھوڑی دور جاکر ایک بڑے احاطہ کے سامنے کھڑے ہوگئے، جس کی دیواریں کافی بلند تھیں اور ان میں لوہے کی نوکیلی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ سیاہ موٹی چادر کا بھاری دروازہ سامنے تھا۔ کھٹکھٹانے پر اندر سے ایک سپاہی نے چھوٹے سے سراخ کا ڈھکنا ہٹاکر جھانکا اور اطمینان ہونے پر تالا اندر سے کھول دیا۔ دو سیڑھیاں چڑھ کر ہم صحن میں داخل ہوگئے۔ دائیں بائیں دونوں لمبی بیرکیں بنی ہوئی تھیں۔ جن کی چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیوں میں لوہے کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بند تھے۔ کوئی دروازہ کی طرف منہ کئے بیٹھا تھا اور کوئی لیٹا ہوا تھا۔ یہ سب لوگ وہ تھے جن کو موت کی سزا حکم سنایا جاچکا تھا۔
بائیں ہاتھ کی بیرک کی آخری کوٹھڑی میں داخل ہوگئے۔ باہر کے لکڑی کے دروازے پر اسٹول رکھا ہوا تھا جس پر ایک نگراں بیٹھا تھا۔ دروازے کے اندر بہت چھوٹا سا کھلا ہوا آنگن جس کی وجہ سے ہوا اور روشنی کافی تھی اور سامنے لوہے کی موٹی سلاخوں کا دوسرا دروازہ تھا، جس پر بھاری تالا پڑا ہوا تھا۔ صحن کے اندر بائیں طرف دیوار میں دروازہ تھا جو برابر والی کوٹھڑی کے صحن میں نکلتا تھا اور اسی طرح ان دروازوں کا سلسلہ آخری کوٹھڑی تک ایک پتلی سی گلی کی صورت میں چلا گیا تھا۔
ہم کو دیکھ کر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی حسب معمول کشادہ روئی کے ساتھ اٹھے اور آگے بڑھ کر سلاخوں کے باہر سب سے ہاتھ ملایا۔ فرزند کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے مخصوص انداز میں سب کی خیریت پوچھنے لگے۔ سب لوگ نیچی نگاہ کئے کھڑے تھے اور عجیب سا حجاب گفتگو میں حائل تھا۔ ’’آپ کو کب حکم سنایا گیا؟‘‘ کسی نے تھوڑی دیر کے بعد بالآخر سوال کیا۔ ’’کل نماز عصر کے بعد ہی مجھ کو مطلع کردیا گیا تھا اور مغرب تک یہاں منتقل کردیا گیا‘‘۔ ’’کوئی سامان آپ کے پاس چھوڑا گیا؟‘‘ ’’بجز میری عینک اور ایک کتاب کے میری یہاں کوئی چیز نہیں‘‘۔ میں نے اندر نگاہ ڈالی۔ کوئی آٹھ فٹ اور بارہ فٹ لمبی جگہ تھی۔ دروازے کے اوپر ایک بڑا روشن دان تھا جس میں ایک بجلی کا بلب لگا ہوا تھا اور پشت کی دیوار پر اس کے بالمقابل ایک دوسرا روشن دان جو موٹی موٹی سلاخوں سے بند تھے۔ فرش پختہ تھا، جس پر ایک کمبل بغیر سلوٹ کے بچھا ہوا تھا اور دروازے کے قریب ایک دوسرا کمبل قرینے سے تہ کیا ہوا بطور تکیہ کے رکھا تھا، جس کے اوپر ایک مجلد کتاب تھی۔ صفحات کے بیچ میں ہاتھ کا پنکھا بطور نشانی رکھا ہوا تھا۔ بائیں دیوار کے ساتھ دو چھوٹے مٹی کے گھڑے جن پر کائی جمی ہوئی تھی اور ان پر مٹی کا ایک ٹوٹا ہوا پیالہ رکھا ہوا تھا۔ کسی کی زبان سے نکلا: ’’آپ کو یہاں کوئی خاص تکلیف؟‘‘
’’بات یہ ہے کہ یہاں سب سزائے موت پانے والے قیدی ہیں۔ اس لئے اس جگہ کی فضا دوسرے مقامات سے مختلف ہے۔ موت کو سامنے پاکر ان میں سے ہر ایک کی حالت کچھ اور ہے۔ کوئی رات بھر روتا چیختا رہا۔ کوئی بلند آواز سے قرآن مجید پڑھتا رہا۔ اس طرح رات بھر شور و غل اور چیخ و پکار سے ذہنی سکون بالکل نہ مل سکا‘‘۔ ’’یہ بجلی رات بھر جلتی رہتی ہے؟‘‘ ’’جی ہاں! لیکن روشن دان کی وجہ سے تھوڑا سا دیوار کا سایہ ہوتا ہے۔ اس لئے دروازے کی طرف سر رکھنے میں روشنی منہ پر نہیں آتی‘‘۔
’’مولانا میں اپیل کے سلسلے میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا‘‘۔ میں نے بات شروع ہی کی تھی کہ مولانا نے جواب دیا: ’’بھئی؛ میرا مسلک آپ کو معلوم ہے۔ میرے نزدیک ان لوگوں سے جو میرا اصل جرم خوب جانتے ہیں، معافی کا طلب گار بننے سے زیادہ قابل برداشت ہے کہ آدمی پھانسی پر لٹک جائے‘‘۔
’’مولانا! یہ تو مجھے معلوم تھا لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ جب قرار داد پاکستان کے بعد ہم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست تسلیم کرچکے اور اس کی عدالت اور پولس سے رجوع کرنے کو جائز مان چکے تو اب ہم اپنا انصاف حق کیوں نہ طلب کریں؟ پھر اپیل معافی کی نہیں بلکہ قانونی نکات اور مقدمے کے حقائق کے زور پر ہوگی۔ آخر ی بات یہ کہ اپیل کمانڈر انچیف کے پاس جائے گی، جو کسی پارٹی کا آدمی نہیں‘‘۔ ’’میرے خیال میں اس کا کوئی موقع نہیں رہنے دیا گیا ہے، اس لئے اس کو یونہی چلنے دیجئے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس سر زمین کے کتنے ضمیر زندہ ہیں؟‘‘ آپ کم از کم ہم کو تو نہ روکیں۔ آخر یہ حدود الٰہی تو ہے نہیں جو ان کے خلاف کوئی کوشش نہ جاسکتی ہو۔ تعزیرات کے خلاف یقینا اپیل کی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر جبکہ ایک صریح ظلم ہوا ہو‘‘۔
’’بھئی، مجھے تو یہ بات پسند نہیں، ورنہ میں حکم دینے کا تو حق ہی نہیں رکھتا۔ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے یا میرے خاندان کے کسی فرد کی طرف سے کوئی رحم کی درخواست پیش نہ کی جائے‘‘۔ ’’آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں‘‘۔ شرقی صاحب نے اچانک پوچھا۔ ’’مجھ کو عینک کے خانے کی ضرورت تھی، کیونکہ دب کر ٹوٹنے کا اندیشہ رہتا ہے اور کچھ خلال کے تنکے‘‘۔ ’’یہ لیجئے‘‘ شرکی صاحب نے جیب سے پلاسٹک کا بنا ہوا خانہ نکالا اور ہاتھ کے بیگ میں سے خلال کے بہت سے تنکے۔ اتفاق تھا یا مزاج شناشی کی وجہ سے مولانا کی ضروریات کا دیرینہ تجربہ؟‘‘ اس اثنا میں ایک آدمی دو موٹی موٹی روٹیاں اور المونیم کی پلیٹ میں گھیا کی بھانجی لے آیا اور دروازے کے نیچے سے مولانا کو دے کر چلا گیا۔ یہ دن کا کھانا تھا۔
مجھ کو سخت پیاس لگ رہی تھی اور کئی بار جی میں آیا کہ کوٹھڑی کا پانی مانگوں اور چکھوں، لیکن مولانا کا کہنا یاد آگیا کہ ’’جب محفل میں سے کوئی پانی مانگے تو گلاس نہ لانا، پورا جگ بھر کر لانا۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں مولانا کو خود ہی پورا گھڑا پلانا نہ پڑے۔ مولانا ابوالخیر صاحب گفتگو شروع کرنے لگے اور ہمارے رہنما نے واپس چلنے کو کہا۔ مودودی صاحب نے فاروق میاں کے کاندھے پر ہاتھ رکھ تشفی اور تسلی دی۔ ’’بیٹا ذرا نہ گھبرانا۔ اگر میرے پروردگار نے اپنے پاس بلانا منظور کرلیا ہے تو بندہ بخوشی اپنے رب سے جا ملے گا اور اس کا ہی ابھی حکم نہیں تو پھر یہ چاہے الٹے لٹک جائیں مجھ کو نہیں لٹکاسکتے؟‘‘ چلتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ سامنے کی کوٹھڑی میں عبدالستار صاحب نیازی ہیں ان سے ہم لوگ ملاقات کرتے جائی۔
سب سے آخر میں میں نے ہاتھ ملایا۔ بادامی رنگ کے موٹے سوت کا کرتا اور کھلا پیجامہ جن پر نیلی دھاری کا کھلا چارخانہ بنا ہوا تھا۔ کرتے کے آستین بازوؤں تک چڑھی ہوئی تھی۔ مولانا قیدیوں کے لباس میں ہونے اور آہنی سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہونے کے باوجود قیدی نہیں معلوم ہوتے تھے۔ مقابل میں کوٹھڑیوں کا رخ اتنا ترچھا رکھا گیا تھا کہ سامنے کے قیدی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ ہم جب اندر داخل ہوئے تو نیازی صاحب بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اٹھے۔ لباس ان کا بھی مولانا مودودی جیسا تھا مگر بجائے پیجامہ کے شلوار پہنے ہوئے تھے۔ دراز قد، بھرا ہوا جسم، آنکھوں پر عینک اور منہ پر داڑھی! فرش پر کمبل کے اوپر بہت سی کتابیں بے ترتیب رکھی ہوئی تھیں۔ ہر ایک سے ہاتھ ملایا اور بھاری دبنگ آواز میں گفتگو شروع کی۔ کہنے لگے : ’’آپ لوگ بالکل نہ گھبرائیے۔ مولانا مودودی تو بڑی شخصیت ہیں، یہ لوگ مجھ کو بھی پھانسی پر نہیں چڑھا سکتے۔ ہمارا واسطہ جن لوگوں سے پڑا ہے وہ بڑے بزدل ہیں۔ وہ کچھ نہیں کرسکتے!‘‘ تھوڑی دیر ٹھہر کر رخصت ہوئے۔ پیچھے چلتے چلتے ایک نگاہ مودودی صاحب کی کوٹھری کی طرف پھر ڈالی۔ وہ بیٹھے ہوئے کتاب غالباً ’سیرت شاہ اسمٰعیل شہیدؒ‘ پڑھ رہے تھے۔ احاطہ کے باہر نکلے تو دور سے ایک سپاہی کے ہمراہ اختر علی خان صاحب آتے ہوئے نظر پڑے۔ پاس آئے تو سب سے ہاتھ ملایا اور مزاج پرسی کی۔ ململ کا صاف شفاف کرتا اور چوڑی موری کا پیجامہ زیب تن تھا۔ کسی سے ملاقات کرکے واپس آرہے تھے۔ بات چیت کا موقع نہ مل سکا۔ آگے چلے تو آنکھیں اپنے منتظر رفقاء کو تلاش کرنے لگیں، لیکن افسوس کہ وہ سب جاچکے تھے۔ نیچے اترکر سب لوگوں کو ضروری احوال سے آگاہ کیا اور مختصر سی ہدایت اور تشفی دینے کے بعد سب کو اپنے اپنے کام پر جانے کا مشورہ دیا۔ ہر طرف مغموم چہرے تھے۔
زنان خانے میں میں نے ایک صاحبزادہ کے ذریعے پیغام تشفی بھیجنا چاہا تو ایک بزرگ نے مشورہ دیا کہ خود ہی کہنا بہتر ہے۔ پس اندر اطلاع کرائی گئی اور فاروق میاں مجھ کو اس دروازے پر لے گئے جو دفتر کے اندر سے گھر کی طرف کھلتا تھا۔ میں اپنے آپ کو ہچکیاں اور سسکیاں سننے کے لئے تیار کر رہا تھا کہ دوسری طرف صاف اور بلند آواز میں سلام کی آواز آئی جس میں نہ کمزوری تھی نہ کپکپاہٹ۔ ’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ‘‘۔ ’’میں ابھی مولانا سے مل کر آرہا ہوں۔ یقین کیجئے یہ سزا صرف دہشت زدہ کرنے کے لئے سنائی گئی ہے، جس کو ہر گز عمل میں نہیں لایا جائے گا۔ آپ لوگ ہراساں نہ ہوں‘‘۔ ’’میں ہر حال میں تقدیر پر شاکر ہوں‘‘ بیگم مودودی نے آہستہ مگر پرعزیمت لہجے میں کہا۔ ’’خدا کا شکر ہے میں تو کیا میرے بچے تک ہراساں نہیں ہیں۔ ان سب کو معلوم ہوچکا ہے‘‘۔ ’’مولانا کی والدہ محترمہ کا کیا حال ہے؟‘‘ ’’وہ بہر حال ماں ہیں‘‘ مختصر سا جواب تھا لیکن اس جملے میں تلاطم جذبات کا ایک طوفان بند تھا۔ زیادہ دیر ٹھہرنے کا یارانہ تھا ، پھر میں اجازت لے کر چلا آیا اور نقی علی صاحب کے گھر پہنچا۔ وہاں بھی غمزدہ کا حال ابتر اور شریک زندگی کا صبر و سکون باعث طمانیت تھا۔ ’’ہماری خواتین کے ضبط و صبر کا یہ عالم رہا تو ہم نہایت حوصلے اور جرأت کے ساتھ انشاء اللہ اپنے رفقاء کو واپس لانے اور اس مقصد کو پانے کی پوری کوشش کریں گے۔ جس کے لئے آج ہمارے یہ ساتھی سب کچھ برداشت کر رہے ہیں‘‘۔ ’’آپ اطمینان رکھیں، ہم لوگ اللہ پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں‘‘۔ مجھے جواب ملا ’’اللہ تعالیٰ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا‘‘۔ ملک نصر اللہ خان صاحب کے گھر میں مجھے جب جانے کا موقع ملا تو ان کی اہلیہ محترمہ کو بھی باوجود شدید علالت کے (اب وہ مرحومہ ہوچکیں خدا انھیں غریق رحمت کرے) صابرہ اور شاکرہ پایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا صبر کب رنگ لاتا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...