Skip to content
امت کے شہداء اور منہج سلف
✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
📱09422724040
عزیزم و رفیق سمیع اللٰہ خان صاحب نے ایک ویڈیو پوسٹ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل کی، جس میں کسی بدزبان نام نہاد عالم نے منہج سلف کا غلط حوالہ دیتے ہوئے شہداء کے مقام و مرتبہ پر تاویلات پیش کی ہیں، وہ نہ صرف علمی خیانت ہے بلکہ امت میں انتشار اور تفریق پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ شہداء کا مقام اسلامی نصوص میں واضح اور غیر مبہم ہے، اور اس طرح کے بیانات نہ صرف علمی سطح پر بلکہ عملی طور پر بھی امت کو گمراہ کرنے کی سازش ہیں۔ اللٰہ نے ہمیں شعور و فہم عطا کیا ہے، اور اس کا صحیح استعمال یہی ہے کہ ہم امت کے درمیان اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں، نہ کہ اختلافات اور تنازعات کو ہوا دیں۔ ایسے افراد کی باتوں میں آنے کے بجائے ہمیں علمی اعتبار سے درست اور مستند ذرائع سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ امت میں تفریق کے بجائے وحدت کی فضا قائم ہو۔
شہداء کا مقام اسلام میں بے حد بلند و بالا ہے۔ قرآن اور احادیث میں انہیں حیاتِ جاودانی عطا کی گئی ہے اور ان کے درجات پر کسی قسم کا شک و شبہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ شہادت اسلام میں ایمان، قربانی، اور اخلاص کی علامت ہے۔ بدقسمتی سے، کچھ لوگ اپنی محدود فہم یا ذاتی مفادات کے تحت دین کی بنیادی تعلیمات کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ جب کوئی عالم دین یا کوئی شخص شہداء کے مقام کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے یا نئی تاویلات اور تشریحات پیش کرتا ہے، تو یہ نہ صرف علمی خیانت ہوتی ہے بلکہ امت میں انتشار اور فرقہ واریت کا باعث بھی بنتی ہے۔
منہج سلف صالحین کا اصل مقصد امت کی رہنمائی اور اتحاد ہے، نہ کہ تفریق اور تنازعات کو ہوا دینا۔ ایسے علماء جو اپنی زبان یا علم کا غلط استعمال کرتے ہیں، وہ امت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ علم کا مقصد شعور اور ہدایت ہے، اور اس کا استعمال امت کو متحد کرنے اور مسائل کا حل پیش کرنے میں ہونا چاہیے، نہ کہ اختلافات اور فتنہ پھیلانے میں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دین کی تعلیمات کو صحیح تناظر میں سمجھیں اور ایسے علماء یا افراد سے دور رہیں جو فتنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہم سب کو اپنے علم اور شعور کا درست اور ذمّہ دارانہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ امت میں اتفاق اور بھائی چارہ فروغ پائے۔
منہج سلف، اسلامی عقائد اور عمل کے ان اصولوں اور روایات کی پیروی کو کہا جاتا ہے جو نبی کریمﷺ اور ان کے صحابۂ کرامؓ کے دور سے منقول ہیں۔ یہ ایک اعتدال پسند اور متوازن راستہ ہے جو قرآن و سنّت پر سختی سے قائم رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ منہج سلف، یا سلف صالحین کا طریقہ، اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور یہ اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ سلف صالحین سے مراد نبی کریمﷺ، ان کے صحابہ کرامؓ، تابعین اور تبع تابعین ہیں، جنہوں نے اسلام کو اس کی اصل صورت میں سمجھا اور عمل کیا۔ ان کے طریقے کو "منہج سلف” کہا جاتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جسے دین میں درست اور محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
منہج سلف (سلف صالحین کا طریقہ) اسلام کی فہم اور عمل کا وہ طریقہ ہے جو پہلی تین نسلوں، یعنی صحابۂ کرامؓ، تابعین اور تبع تابعین نے اختیار کیا۔ ان کی فہم اور عمل کو اسلامی عقیدے اور شریعت میں معتبر اور مثالی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں منہج سلف کی چار اہم خصوصیات کی وضاحت کی جا رہی ہے:
قرآن و سنّت کی مکمل اتباع:
منہج سلف کی پہلی اور بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قرآن و سنّت کو دین کا اصل اور واحد ماخذ سمجھتے ہیں۔ سلف صالحین نے اپنی زندگیاں اس اصول پر گزاریں کہ ہر معاملے میں قرآن و سنّت کی تعلیمات کی پیروی کی جائے۔ ان کے نزدیک دین میں بدعات (نئی ایجادات) کا کوئی گزر نہیں تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ دین میں کسی نئی چیز کو شامل کرنے کا حق صرف نبی کریمﷺ کو حاصل تھا۔ قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جو کچھ تمہیں رسول دے، اسے لے لو، اور جس سے تمہیں روک دے، رک جاؤ” (سورۃ الحشر: 7)
اس لیے سلف صالحین نے قرآن اور سنّت سے باہر کے کسی بھی اضافے یا تبدیلی کو سختی سے رد کیا اور امت کو اسی اصول کی پیروی کی تلقین کی۔
اعتدال اور توازن:
سلف صالحین کا دوسرا اہم وصف اعتدال اور توازن ہے۔ ان کا رویہ ہمیشہ درمیانی رہا اور وہ ہر قسم کے افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) سے دور رہے۔ دین میں شدّت یا غلو (انتہاپسندی) کو انہوں نے ناپسند کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دین میں درمیانی راستہ ہی صحیح راستہ ہے۔ رسول اکرمﷺ کی تعلیمات کے مطابق، اعتدال کا راستہ ہی بہترین ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے: "بہترین دین وہ ہے جو آسان اور اعتدال والا ہو” (صحیح بخاری)
یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے ایسے اعمال یا نظریات کو رد کیا جو دین میں شدت یا نرمی کی حدوں سے تجاوز کرتے ہوں۔ انہوں نے زندگی کے ہر پہلو میں توازن کو برقرار رکھا، چاہے وہ عبادات ہوں، اخلاقیات ہوں، یا سماجی معاملات۔
امت میں اتحاد:
سلف صالحین ہمیشہ امت میں اتحاد اور یگانگت کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو کم کرنا اور انہیں دور کرنا انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔ نبی کریمﷺ کی تعلیمات کے مطابق، امت کے اندر اختلافات اور نفرت کو پیدا کرنا، اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن پاک اور رسولﷺ کی تعلیمات کے مطابق، امت کے اندر اتحاد برقرار رکھنا اور اختلافات سے بچنا ایک بنیادی اصول ہے:
"اور تم سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو، اور تفرقہ مت ڈالو” (سورۃ آل عمران: 103)
سلف صالحین نے ہمیشہ فرقہ بندی اور نفرت کو ناپسند کیا اور امت کو ایک جسم کی مانند سمجھا جس کے تمام حصے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک اختلافات کو علمی اور معقول طریقے سے حل کرنا ضروری تھا، نہ کہ فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینا۔
شہداء اور صالحین کا احترام:
اسلام میں شہداء اور صالحین کا مقام بہت بلند ہے، اور سلف صالحین نے ہمیشہ ان کی عظمت کا احترام کیا۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے شہداء کو زندہ اور کامیاب قرار دیا ہے: "اور جو اللّٰہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے” (سورۃ البقرہ: 154)
سلف صالحین نے ہمیشہ شہداء کی قربانیوں کو سراہا اور ان کی عظمت کو یاد کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ شہداء اور صالحین اسلامی تاریخ کے وہ عظیم انسان ہیں جنہوں نے دین کی بقا کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان کی قربانیاں امت کے لیے مشعل راہ ہیں، اور ان کی عزت و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔
منہج سلف کا طریقہ قرآن و سنّت کی مکمل اتباع، اعتدال اور توازن، امت میں اتحاد اور شہداء و صالحین کے احترام جیسے اصولوں پر مبنی ہے۔ ان خصوصیات نے سلف صالحین کو اسلامی معاشرے کے لیے ایک بہترین نمونہ بنا دیا، اور ان کی فہم و عمل آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان دین میں بدعات سے بچ سکتے ہیں، اعتدال و توازن کو اپنا سکتے ہیں، اور امت میں اتحاد کو فروغ دے سکتے ہیں۔
امت کے شہیدوں پر تنقید کا منہج سلف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص "منہج سلف” کا دعویٰ کرتا ہے، امت کے شہیدوں کی قربانیوں کو کم تر سمجھتا ہے یا ان پر تنقید کرتا ہے، اور اس عمل سے امت میں انتشار اور تفرقہ پھیلانے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کا یہ عمل سلف صالحین کے منہج کے بالکل برعکس ہے۔ سلف کا طریقہ ہمیشہ اتحاد، محبت اور احترام کا رہا ہے، اور انہوں نے ہمیشہ امت کو تقسیم سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ سلف صالحین نے ہمیشہ مسلمانوں کے شہداء کو عظیم مقام دیا اور ان کی قربانیوں کی قدر کی، اور ان کی قربانیوں کو امت کی بقاء اور کامیابی کے لئے اہم سمجھا۔ وہ کسی بھی ایسے عمل یا رویے کے خلاف تھے جو امت میں انتشار اور تفرقہ پیدا کرے۔
شہید کا مقام قرآن و حدیث میں بہت بلند اور معزز ہے۔ "شہید” اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللّٰہ کے راستے میں، دین اسلام کی سربلندی یا کسی حق کی حمایت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دے۔ قرآن و حدیث میں شہیدوں کے درجات اور ان کی عظمت کے بارے میں کئی آیات اور احادیث موجود ہیں۔
شہید کا مقام قرآن اور سنّت میں واضح ہے:
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: "اور جو لوگ اللّٰہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں” (سورۃ البقرہ: 154)۔ یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ جو لوگ اللّٰہ کے راستے میں شہید ہوتے ہیں، وہ حقیقت میں زندہ ہوتے ہیں، لیکن دنیا والے ان کی اس حقیقی زندگی کو نہیں جانتے۔ شہیدوں کی موت ظاہری طور پر نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت وہ اللّٰہ کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کا مقام بہت اعلیٰ ہے۔
ایک اور جگہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جو لوگ اللّٰہ کی راہ میں مارے گئے، انہیں اللّٰہ کے انعام اور فضل کی خوشخبری مل چکی ہے”۔ (سورۃ آل عمران: 169-170)۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ شہداء کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نہ صرف عزت ملتی ہے، بلکہ وہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے خوش ہیں۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللّٰہ کے راستے میں شہید ہو جائے، وہ سب سے افضل انسان ہے” (صحیح مسلم)۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ شہید کا درجہ اللّٰہ کے نزدیک بہت بلند ہے، اور امت کو ان کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کا احترام کرنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللّٰہ کی راہ میں شہید ہونے والے کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔” (صحیح مسلم)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید کا درجہ اتنا بلند ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن قرض کی ادائیگی کا معاملہ الگ ہے۔
نبی کریمﷺ نے شہداء کے متعلق فرمایا: "شہید کو اللّٰہ کے نزدیک چھ چیزیں ملتی ہیں: اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے، وہ قیامت کے دن کے بڑے خوف سے محفوظ ہوتا ہے، اسے عزت کا لباس پہنایا جاتا ہے، اسے ایمان کی مہر لگائی جاتی ہے، اور اسے ستر حوریں ملتی ہیں۔” (ترمذی)۔ یہ حدیث شہید کے درجے کی وضاحت کرتی ہے کہ اسے دنیا و آخرت میں بلند مقام دیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص سچے دل سے شہادت کی خواہش کرے، اللّٰہ اسے شہیدوں کا مقام عطا فرمائے گا، اگرچہ وہ اپنے بستر پر مر جائے۔” (صحیح مسلم)۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شہادت کی نیت رکھنے والے کو بھی اللّٰہ تعالیٰ شہیدوں جیسا درجہ عطا فرماتا ہے، چاہے وہ شخص عملی طور پر شہید نہ ہو۔
قرآن و حدیث میں شہداء کو ایک عظیم مقام عطا کیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں زندہ قرار دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے ان کے بلند درجات اور انعامات کا ذکر کیا ہے۔ شہادت ایک عظیم قربانی اور اللّٰہ کی رضا کا ذریعہ ہے، اور اس کا اجر نہایت عظیم ہے۔ اسلام میں شہداء کو عزت و وقار کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے، اور ان کی قربانیوں کو امت کی ترقی اور بقا کے لئے لازمی سمجھا جاتا ہے۔
جو لوگ شہداء کی قربانیوں کو کم تر سمجھتے ہیں یا ان پر تنقید کرتے ہیں، وہ منہج سلف کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔ سلف صالحین نے کبھی بھی شہیدوں کی تنقیص نہیں کی اور نہ ہی ان کی قربانیوں پر کوئی سوال اٹھایا۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور محبت کے داعی تھے اور ہر ایسے عمل کی مخالفت کرتے تھے جو امت کے اندر تفریق اور انتشار پیدا کرے۔ منہج سلف کا اصل مقصد امت کو جوڑنا اور اس کی حفاظت کرنا تھا۔ اس طریقے کے تحت شہداء کی عظمت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کی قربانیوں کو امت کی کامیابی اور بقا کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ جو لوگ شہداء کے مقام کو کم کرتے ہیں یا ان پر تنقید کرتے ہیں، وہ منہج سلف کی تعلیمات کے برعکس چلتے ہیں اور امت میں انتشار اور تفرقہ کا باعث بنتے ہیں۔
نبی کریمﷺ نے امت کے اندر افتراق اور نفرت کو سختی سے منع فرمایا اور ہر ایسے عمل کی مذمت کی جو امت میں انتشار کا باعث بنے۔ اگر کسی گروہ یا فرد کی جانب سے امت کے افراد کو شہیدوں پر تنقید کرکے یا منفی کلام کرکے تقسیم کیا جاتا ہے، تو وہ اسلام کی اصل روح، یعنی اتحاد و اخوت کے پیغام سے دور ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
"میری امت کے اندر اختلافات نہ پیدا کرو، کیونکہ اختلاف سے امت میں کمزوری پیدا ہوتی ہے” (سنن ترمذی)۔
"جو شخص مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے” (صحیح بخاری)۔
لہذا، جو شخص امت میں انتشار پھیلانے یا تفرقہ بازی کی کوشش کرتا ہے، وہ نہ صرف منہج سلف کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
منہج سلف کا پیغام ہمیشہ اتحاد، اخوت، محبت اور دین کے بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونا رہا ہے۔ سلف صالحین نے کسی بھی ایسی حرکت کی مذمت کی جو امت میں نفرت یا تقسیم پیدا کرے۔ ان کے نزدیک دین کا اصل راستہ وہی ہے جو نبی کریمﷺ نے امت کے لئے طے کیا۔
قرآن اور سنّت میں اتحاد کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو” (سورۃ آل عمران: 103)۔ سلف صالحین نے ہمیشہ اسی اصول کی پیروی کی اور امت میں اتحاد کو ترجیح دی۔
سلف صالحین نے ہمیشہ دین میں بدعات سے بچنے کی تلقین کی۔ انہوں نے قرآن اور سنت کی پیروی کو اولین ترجیح دی اور نئی روایات یا رسومات کو دین میں شامل کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔
اگر کوئی شخص "منہج سلف” کا دعویٰ کرتے ہوئے امت کے شہیدوں کی قربانیوں پر منفی کلام کرتا ہے یا امت میں انتشار پیدا کرتا ہے، تو وہ دراصل منہج سلف کی اصل روح کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ منہج سلف کا اصل مقصد قرآن و سنّت کی تعلیمات پر عمل کرنا، بدعات سے بچنا، اور امت میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینا ہے۔ جو شخص ان اصولوں کے خلاف جاتا ہے، وہ سلف صالحین کے طریقے سے دور ہے اور اسلام کی روح کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اسلام کا بنیادی پیغام اتحاد، محبت، دوسروں کے احترام اور انسانیت کی خدمت پر مبنی رہا ہے۔ سلف صالحین کا طریقہ بھی اسی اصول پر مبنی تھا، اور اس میں کسی بھی طرح کے تفرقے یا انتشار کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا، کسی بھی طرح کا عمل جو امت کو توڑنے کا باعث بنے، منہج سلف نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ واقعی افسوسناک ہے جب کوئی عالم دین اپنے علم اور منہج کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے، جس سے امت میں تفریق اور فتنہ پیدا ہو۔ شہداء کا مقام و مرتبہ اسلامی تاریخ میں نہایت عظیم ہے اور اس پر بے جا تاویلات پیش کرنا شہادت کی عظمت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں اپنے علم کا استعمال اتحاد اور خیر کی طرف کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ امت میں وحدت اور ہم آہنگی برقرار رہے۔ اللّٰہ ہمیں صحیح شعور عطا فرمائے اور امت کے درمیان تفریق کا باعث بننے سے بچائے۔
(23.10.2024)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...