Skip to content
جمعہ نامہ: مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے : ’’رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں‘‘۔مکی دور میں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں کی نہ کوئی حکومت تھی اور نہ روم و ایران سے رابطہ تھا ۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں سے واقف کراکر امت کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ ان سے بےنیاز نہیں رہ سکتی ۔ انقلابات زمانہ سے یہ دعوت متاثر ہوتی ہےکیونکہ غلبہ اسلام سے اس کا براہِ راست تعلق ہے۔ آتش پرستوں سے اہل کتاب کی شکست ان کی حوصلہ شکنی کرتی ہے ۔ انہیں ڈھارس بندھائی جاتی ہے کہ:’’ اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے‘‘۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ الٹ پھیر کیسے ہوگا تو جواب دیا گیا:’’ اللہ ہی کا اختیار پہلے اور بعد میں بھی ہے ‘‘۔ یعنی دنیو ی اسباب و علل سے علی الرغم قوموں کے عروج و زوال کا مکمل اختیار رب کائنات کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ وہ جسے چاہتا غالب کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے رسی کھینچ لیتا ہے۔ گردشِ ایام کے سارے نشیب و فراز اذنِ خدواندی کی مرہونِ منت ہیں۔
اس آیت نےمشرکین مکہ کو حیرت زدہ کردیا تو ان میں سے ایک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے سال بھر کی مدت میں ایک کے عوض دس اونٹ کی شرط باند ھ لی ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ا نبیٔ کریم ﷺ سے ذکرکیا تو آپ نے فرمایا مدت کو دس سال کرکے اونٹوں کی تعداد سو کردو۔ رب کائنات کے ارشاد پر ایمان اور یقین کا یہی تقاضہ ہے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے‘‘۔یہ بشارت جنگ بدر کی فتح کے ساتھ پوری ہوئی اور اہل ایمان نے دوہری خوشی منائی ۔ یہ کیسے ہوگیا؟ اس سوال کا قرآنی جواب ہے :’’ اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے ‘‘۔ یہاں طول طویل حکمت عملی بیان کرنےکے بجائے اس کا سہرا مشیت ایزدی کے سر باندھ دیا گیا۔
فرمانِ ربانی ہے :’’۰۰۰یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘۔ اس آفاقی حقیقت کے اظہار کا وقت مسلمانوں کو بظاہر شکست یعنی غزوۂ احد کے بعد آیا ۔ اس کی علت ّ یہ بتائی گئی کہ :’’ تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں‘‘۔ اس چھانٹ پھٹک کے بعد سچے اور پکے اہل ایمان کے ذریعہ ظالموں کی سرکوبی کی جاتی ہے لیکن اس سے قبل مومنین کی حوصلہ افزائی کی خاطر یہ بھی فرمایا جاتا ہے کہ :’’ دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ۔ ا ِس وقت اگر تمھیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے‘‘۔ یعنی دنیا کے حالات اذنِ خداوندی سے بدلتے رہتے ہیں ۔
عصرِ حاضر کا عالمی منظر نامہ پھر سے دو قطبی ہورہا ہے۔ سنہ 1949 میں سرد جنگ شروع ہوئی تو امریکہ کے ساتھ برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ پر مشتمل یورپی ممالک نے مشترکہ دفاع کی خاطرنارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل دی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین سے نمٹنا اس کامقصد تھا۔ سنہ 1952 میں اس تنظیم کے اندر یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی کی بھی شمولیت ہوگئی۔سنہ 1999 میں سوویت یونین کے بکھراو کے بعد سابقہ مشرقی بلاک کے ممالک کا بھی خیر مقدم کیا گیا ۔ اس طرح ارکان کی مجموعی تعداد 29 ہو گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ اس کی ضرورت کے قائل تھے اورنہ اس پر خرچ کرنا چاہتے تھے ۔ اس لیے ناٹو کے مستقبل پر سوالات ہونے لگے کہ ستر برس بعد بدلی ہوئی دنیا میں کیا اس اتحاد کی معنویت کیا ہے؟
پہلی بار2001 یورپ کے باہر نیٹو کے فوجیوں کی تعیناتی ہوئی تھی اور2019میں افغانستان کے اندر تقریباً 17،000 فوجی موجود تھے ۔ افغانستان میں اسلامی جہاد نے نیٹو کا فوجی دبدبہ ملیا میٹ کردیا ۔ فی الحال یوکرین میں جاری تباہی و بربادی(جس میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد دس لاک سے تجاوز کرچکی ہے) اسی نیٹو کی کار فرمائی ہے۔ یوروپی غنڈہ گردی کے خلاف برازیل ، روس ، ہندوستان ، چین اور جنوبی افریقہ نے 2010 میں برکس نامی تنظیم قائم کی ۔ اس کے ارکان کی تعداد پانچ سے بڑھ کر دس ہوچکی اور مزید تیس ممالک شرکت کے خواہشمند ہیں ۔ یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ یہ 2050 تک عالمی معیشت پر غالب ہوجا ئےگی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اتنا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یوکرین کونیٹو میں شامل کرکے روس پر شکنجہ کسنے کی مذموم سازش کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں پوتن کوجنگی مجرم قرار دیا گیا اور وہ برکس کے پچھلے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔ اس بار انہوں نے اپنے ملک میں اس کا اہتمام کیا تو امریکہ کے بغل بچہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔ برکس میں شامل جنوبی افریقہ کی بدولت ممکن یہ الٹ پھیر ہوگیا۔
برکس کاسب سے بڑا فائدہ ایران کو ہوا کہ جس نےامریکی پابندی کے باوجود اپنی فوجی طاقت میں زبردست اضافہ کرکے جوہری دھماکہ تک کردیا۔ اس دوران نےایران اسرائیل کو چہار جانب سے ایسے گھیرا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا گھر حملوں کی زد میں آگیا۔ برکس نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کرواکر مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کا خاتمہ کردیا ۔ اس میں مصر اور عرب امارات کی شمولیت امریکی مفادات کے لیے شدید خطرہ اور اسرائیل کے وجود کی خاطر بن گئی ۔وہ دن دور نہیں جب امریکہ کا سایہ ٔ عافیت اسرائیل کے سر سے اٹھ جائے گا اور فلسطین کی آزادی کا راستہ کھل جائے گا ان شاء اللہ ۔ یہ بات کسی کے تصورِ خیال میں نہیں تھی مگر ارشادِ قرآنی ہے: ’’ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اِس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)‘‘۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...