Skip to content
مہاراشٹرانتخاب :بٹنے اور کٹنے والےکون ہیں؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ممبئی کے اندر فی الحال یوگی ادیتیہ ناتھ کے پوسٹر لگے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے ’بٹیں گے تو کٹیں گے‘۔ یوگی کی ہر بات کو فرقہ پرستی کی عینک سے دیکھا جاتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا اطلاق آپس میں دست و گریباں مہا یوتی پر ہوتا ہے ۔ ایک دوسرے کو لڑانے والے فی زمانہ اس طرح ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں کہ انہیں کسی کاٹنے والے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر احسان جتایا ہے کہ ’ہم نے وزیر اعلیٰ بناکر تم پر احسان کیا‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ایکناتھ شندے کو احسان فراموشی کا سبق کس نے سکھایا۔ بی جے پی نے وزرات اعلیٰ کے عہدے سمیت بھرپور دولت کا لالچ دے کر ایکناتھ شندے سے غداری کروائی اور اب ان سے وفاداری کی توقع کررہی ہے۔ ایکناتھ شندے بی جے پی کی مجبوریوں کو خوب جانتے ہیں۔انہیں پتہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے کو اقتدار سے ہٹانے کی خاطر بی جے پی کے پاس انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کا چہرہ دیویندر فڈنویس ہے۔ ان کی قیادت میں انتخابی کامیابی ناممکن ہے۔ مہاراشٹر کے مراٹھا ان کو کسی صورت ووٹ نہیں دیں گے۔
پچھلے اسمبلی انتخاب میں یہی ہوا کہ اقتدار، دھن دولت ، سنگھ کی تنظیم وسازش اور مودی فیکٹرسب دھرے کے دھرے رہ گئے اور بی جے پی کی نشستیں کم ہوگئیں۔ اس لیے کوئی مراٹھا یا اوبی سی چہرہ لازمی تھا اسی لیے ایکناتھ شندے کو لانا پڑا اور ا ب اگر مہایوتی نے ایکناتھ شندے کو کنارے کیا تو عوام اسے ٹھکانے لگا دیں گے۔اس معاملے کو پچھلے دو اسمبلی انتخابات کے نتائج سے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ 2014 میں بی جے پی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کا کوئی چہرہ نہیں تھا اور اس نے کسی پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس وقت اس کے 122 ؍ امیدوار کامیاب ہوگئے تھے۔ اس کا کریڈٹ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو دیا گیا مگر 2019 کے پارلیمانی انتخاب میں نریندر مودی نے پہلے سے بڑی کامیابی درج کرائی تھی اورمہاراشٹر کے اندر بی جے پی پانچ سال اقتدار میں بھی رہ چکی تھی ۔ ساری سرکاری لوازمات (مشنری ) اس کے ہاتھوں میں تھی اس کے باوجود وہ 122سے گھٹ کر 105پر آگئی یعنی اسے 17نشستوں کا نقصان سہنا پڑا تھا ۔
اس ناکامی پہلی وجہ وزیر اعلیٰ کے طور دیویندر فڈنویس کا برہمن چہرہ تھا ۔ اس کے علاوہ دوسرا سبب ان کا اپنی پارٹی کے اندر حریفوں کو ختم کرکے کانگریس اور این سی پی کے لوگوں کو توڑ کر ساتھ لانا تھا ۔ اس کا دوہرا نقصان ہوا ۔ اول تو باہر سے آنے والوں کو ٹکٹ دینے سبب اپنے قدیم وفادار کارکنان کے اندر بد لی پھیل گئی دوم اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہر نے مخالفین کا بھلا کردیا ۔ اس نے این سی پی کو 41 سے بڑھا کر 54 پر پہنچادیا۔ کانگریس بھی 42 سے 44 پر چلی گئی ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ نہ توڑ پھوڑ کو پسند کرتے ہیں اور نہ برہمن چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بار وزیر اعلیٰ کے عہدے پر مراٹھا ضرور ہے مگر بی جے پی کا رہنما اب بھی وہی ’پھر سے آکر رہوں گا ‘ کا نعرہ لگانے والا برہمن ہی ہے۔ بی جے پی پھر ایک بار زیادہ سے زیادہ نشستیں جیت کر اسے دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی ہے۔ جہاں تک مخالفین کے اندر تفرقہ بازی کا سوال ہے پہلے تو افراد کو توڑ کراپنے ساتھ ملایا گیا تھا اب تو پارٹیوں کو توڑ کر ساتھ لے لیا گیا ہے۔ بی جے پی کو اس غلطی کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ بی جے پی کی مہا یوتی میں جاری یہ جوتم پیزار ہی اس کی سب سے بڑی دشمن ہے۔
پچھلی بار کانگریس اور این سی پی دونوں نے ایک ساتھ مل کر انتخاب لڑا اور برابر برابر یعنی ہر ایک نے 125نشستوں پر اطمینان کرلیا۔ باقی ماندہ 38نشستیں یو پی اے میں شامل دیگر جماعتوں کے لیے چھوڑ دی گئیں ۔ اس بار دو کے بجائے تین حصہ دار ہیں اس لیے برابر برابر 85 نشستوں پر راضی ہوگئے ۔ باہمی تعظیم و احترام کی یہ فضا ہو تو آپس میں جھگڑا فساد نہیں ہوتا۔ 15 سیٹوں پر ان تینوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت ہونا باقی ہے۔ باقی بچی 18 سیٹیں ایم وی اے کی دیگر اتحادی پارٹیوں میں تقسیم کیے جانے پر بھی گفتگو ہو چکی ہے۔ کانگریس، این سی پی-ایس پی اور شیوسینا یو بی ٹی کے علاوہ ایم وی اے میں سماجوادی پارٹی، سی پی ایم اورپی ڈبلیو پی شامل ہے۔ ان میں سے سماجوادی نے پچھلی بار اپنی ایک سیٹ کا اضافہ کیا تھا جبکہ پی ڈبلیو پی کو 3نشستوں کا نقصان ہوا تھا۔ سی پی ایم بغیر کسی فائدے یا نقصان کے ایک نشست پر قائم و دائم تھی۔
پارلیمانی انتخاب میں اس بار کئی باتیں زیر بحث تھیں مثلاً مودی سرکار کی من مانی اور اس کا چار سو پار کرکے آئین کو تبدیل کرنا ۔ ریزرویشن سے مستفید ہونے والوں کو اس میں اپنے لیے خطرہ نظر آیا اور وہ بی جے پی مخالف ’انڈیا اتحاد‘ کے ساتھ ہوگئے۔ صوبائی انتخاب میں آئین کا معاملہ ویسے نہیں چل سکے گا بلکہ اس بار کی انتخابی مہم کے دوران پارٹی سے غداری کا مسئلہ خوب چلے گا ۔پارلیمانی انتخاب میں کانگریس کے سب سے زیادی امیدوار کا میاب ہوئے مگر چونکہ وہ ٹوٹی نہیں ہے اس لیے اسے اس مدعا کا کوئی خاص فائدہ نہیں ملے گا ۔ مہاراشٹر کو ۶؍ علاقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مغربی وشمالی مہاراشٹر میں شرد پوار ہمدردی کا فائدہ اٹھائیں گے اور کوکن و ممبئی میں ادھو ٹھاکرے غداری کا معاملہ اچھالیں گے اور یہ جذباتی شیوسینکوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ آر ایس ایس کے گڑھ ودربھ اور اس سے متصل مراٹھواڑہ میں کانگریس کے صوبائی صدر نانا پٹولے اور ان پارٹی بہتر حالت میں ہے۔ یہ تینوں اگر اپنے علاقہ میں رائے دہندگان پر اثر انداز ہوئے تو اچھے نتائج کی توقع ہے۔
سیاسی جماعتیں اگر اپنے بل پر انتخاب لڑیں تب بھی محض کامیاب ہونے والوں امیدواروں کی تعداد کا موازنہ فریب دیتا ہے مثلاً مہاراشٹر میں کانگریس 17 فیصد ووٹ پاکر بھی حلیفوں کی مدد سے 13سیٹیں جیت گئی اور بی جے پی 26فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ۹؍ پر سمٹ گئی۔ اسی طرح آدھے فیصد ووٹ کے فرق نے ہریانہ میں بی جے پی کو ۱۱؍ نشستوں کی بڑھت دلا دی ۔ اس سے زیادہ پیچیدہ صورتحال اس وقت رونما ہوجاتی ہے جب کئی جماعتیں آپسی الحاق سے انتخاب لڑتی ہیں ۔ پچھلی مرتبہ یعنی 2019بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان الحاق تھا مگر نشستوں کی تقسیم یکساں نہیں تھی۔ بی جے پی 152 ؍ نشستوں پر انتخاب لڑا اور اس کا اسٹرائیک ریٹ 69 فیصد تھا جبکہ شیوسینا نے45 فیصد کے تناسب سے 56 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس بار پھر بی جے پی ایکناتھ شندے کو پہلے جیسی نشستیں نہیں دینا چاہتی کیونکہ اجیت پوار کو بھی اس میں کھپانا ہے۔ وہ اپنی سیٹیں کم کرنے کے بجائے شندے کی جیب کاٹ کر اجیت پوار کی تجوری بھرنا چاہتی ہے اسی لیے باہمی کھینچا تانی زوروں پر ہے۔
2019کے مقابلے ایکناتھ شندے کا دعویٰ اس لیے مضبوط ہے کیونکہ اس وقت شیوسینا کا نہیں بلکہ بی جے پی کا وزیر اعلیٰ تھا ۔ اس بار صورتحال بالکل برعکس ہے اس کے باوجود اگر ایکناتھ شندے کی حق تلفی کی جائے تو ان کی ناراضی فطری ہے۔ بی جے پی نے پہلے مرحلے میں اپنے لیے 95 شیوسینا کے لیے صرف 45 ؍ اور این سی پی کو تو بس 37 پر لڑنے کا موقع دیا۔ اس لیے باقی ماندہ 106 نشستوں کے لیے مہا بھارت چھڑی ہوئی ہے۔ موجودہ سیاست میں دو بنیادی مسائل ہیں ایک تو افراد اور دوسرا باہمی اعتماد۔ دولت کے حریص ابن الوقت سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر ذرہ برابر بھروسا نہیں ہے۔ سبھی کو ڈر ہے کہ اگر دوسرے کو موقع مل جائے تو وہ میرا پتہ صاف کردے گا۔ یہاں تک کہ اگر بھاگوت کو موقع ملا تو وہ مودی کی چھٹی کردیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن گڈکری جیسے سنگھ کے بھروسہ مند لوگوں کو اقتدار کے گلیارے سے دورہی رکھا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کو فی الحال یہ غم ستا رہا ہے کہ بی جے پی کومودی آر ایس ایس سے بے نیاز کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
مودی و شاہ کو دیگر جماعتوں سے لاکراپنی پارٹی میں موقع پرستوں کو نوازنے کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اپنے شاخ سے الگ ہوکر آنے والے ان پتوں کی وفاداری سنگھ کے مرکز سے احکامات نہیں ہوتی ۔ انہیں کے بل پر پارٹی کے صدر جے پی نڈا انتخاب کے دوران کھلم کھلا اعلان فرما دیتے ہیں کہ ابتدائی دور میں جب بی جے پی طفل مکتب تھی اس کا انحصار سنگھ پر ہوا کرتا تھا لیکن گبرو جوان ہوگئی ہے اس لیے اسے آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ر ہی۔ وہ اب خود کفیل ہوچکی ہے ۔ آر ایس ایس کی اس سے بڑی توہین کوئی اورنہیں ہوسکتی۔ ایسے میں جبکہ ایک ہی سنگھ پریوار کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ۔ مخالف محاذ میں شامل جماعتیں بھی ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہی ہیں تو بیچاری عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے۔ عام آدمی کے لیے انتخابات ایک کھیل تماشا بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کے آنے سےکچھ عارضی روزگارکے مواقع اور اوپر کی آمدنی ہوجاتی ہے نیز مفت میں تفریح کا سامان ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ اگر فسطائی طاقتوں کے جبر سے نجات مل جائے یا ان کا زور ٹوٹ جائے تو وہ بونس ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...