Skip to content
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات:’’بٹیں گے تو کٹیں گے‘‘رہیں گے ایک تو حفاظت ہوگی
مسلم امیدواراورمسلم رائے دہندگان وقت اور حالات کو سمجھیں
ازقلم:سید فاروق احمد سید علی
اورنگ آباد دکن

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کی جنگ شروع ہوچکی ہے ۔تاریخوں کا اعلان کردیا جاچکا ہے۔تمام سیاسی پارٹیوں سمیت آزاد امیدوار بھی رسہ کشی میں لگ گئے ہیں ۔کچھ نے اب تک امیدواروں کو قطعیت اس لئے نہیں دی ہے کہ اپوزیشن یا اقتدار میں براجمان پارٹیوںنے اپنے امیدوار فائنل نہیں کئے ہیں یعنی کہ وہ دوسرے امیدواروں کی بنیادپر اپنے امیدوار اتارنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مہاراشٹر کے وہ مسلم اکثریتی علاقے جہاں سے ۹۰ فیصدی اس بات کا ایقان ہے کہ ان علاقوں سے مسلم امیدوار بآسانی فتح سے ہمکنار ہوسکتا ہے ان علاقوں میں کھچڑی بنی ہوئی ہیں۔مسلم امیدواروں کی بہتات ہوچکی ہیں بہت سارے تو ایسے امیدوار میدان میں ہیں جن کو ان کی اپنی گلی میں بھی بہت مشکل سے کوئی جانتا پہچانتا ہوگالیکن ممکن ہے کہ تھوڑے سے سکوں کے عوض چند ووٹوں کی خاطرکسی مسلم امیدوار کو کامیاب ہونے سے روکنا اور غیر معمولی طریقے سے اپوزیشن کی مدد کردینا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ اس کے برعکس آپ ان علاقوں کے سروے کیجئے جہاں بی جے پی نے اپنے امیدوار اتارے ہیںان امیدواروں کے نام پر مہر لگ جانے کے بعد کوئی اور میدان میں کودنے کی ہمت ہی نہیں کرتا ہے۔ یعنی آپ یہاں پر آپسی اتحاد پر غور کیجئے کہ کس طرح سے وہ امیدوار کے لئے تن من اور دھن سے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور ذراسی بھی دراڑ اپنے اتحاد میں آنے نہیں دیتے۔
خیر میں جس موضوع کی طرف آپ کو لے جانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ہر بار کی طرح اس بار بھی اپنے منصوبوں اور لانئحہ عمل پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔ا ن کے امیدوار فائنل کئے جاچکے ہیں اور وہ خاموشی کے ساتھ گھر گھر جاکر ذمہ داری سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔رائے دہندگان کو کسی کے بھی بہکاوے میں آنے سے روکنے کے لئے مختلف قسم کی ٹیمیں بشمول سوشل میڈیا ٹیم بھی کافی زبردست حرکت میں لگی ہوئی ہیں۔ان کا مقصد ان کے لیڈران کے مطابق بس یہی ہے کہ کسی طرح سے یہ ملک ہندوراشٹر میں تبدیل ہوجائے جس کے لئے وہ بھڑکائو بھاشن دیتے ہیں،لوجہاد کے نعرے لگاتے ہیں،ماب لنچنگ کرتے ہیں،گائے کے گوشت کے نام پر بے گناہوں کا بے دریغ قتل کرتے ہیں،مسلمانو ں کے گھروں پر بلڈوزرچلائے جاتے ہیں،اسلام اور حضور ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات بکتے ہیں،اس سے آگے بڑھ کر وہ اب مختار انصاری،شہاب الدین،باباصدیقی اور دیگر مسلم لیڈران کے قتل میں بھی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح ملوث ہیں۔اب ان حالات میں اندھ بھکتوںاورشدت پسند رائے دہندگان کے ساتھ عام رائے دہندگان کو ڈرا دھمکاکر کو پوسٹر کے ذریعے یہ باور کرانے پر لگے ہوئے ہیں کہ دیکھو’’بٹیں گے تو کٹیں گے‘‘ جی ہاں یہ وہ نعرہ ہے جواتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے لگایا تھا۔ اس طرح کے پوسٹر ممبئی کے مختلف علاقوں میں لگائے جاچکے ہیں۔پوسٹر لگوانے والے بی جے پی کے رکن وشوبندھورائے کہتے ہیں کہ ’’شمالی بھارت کے لوگ یوگی اور ان کے نعرے ‘بٹیں گے تو کٹیں گے’ پر یقین رکھتے ہیں، اور اسی لیے ہم نے مہاراشٹر میں بھی اپوزیشن کی حکمت عملی کا جواب دینا شروع کر دیا ہے‘‘۔اور خصوصاً ان پوسٹروں کو ان علاقوں میں لگایا جارہا ہے جہاں پر مسلم دکانوں اور گھروں پر بلڈوزر چلائے گئے تھے۔اتنا ہی نہیں تلنگانہ سے شدت پسند اور متنازعہ لیڈر راجہ سنگھ کو بھی بلایا گیا اور ممبئی کے مختلف علاقوں میں خصوصی میٹنگیں منعقد کی گئی۔مجموعی طو ر پر دیکھا جائے تو مہاراشٹر کو بھی زعفرانی رنگ میں رنگ دئے جانے کی چال کھیلی جاچکی ہے۔اور یہ بات ہر ایک نے سمجھ لینی چاہئے کہ ہریانہ کے بعد مہاراشٹر میں بھی آر ایس ایس نے اپنے تربیت یافتہ کارکنان کی فوج کو میدان میں اتارچکے ہیں۔جس کے ذریعے ہندو ووٹوں کے بکھرائوکو روکا جاسکےاور ووٹوں کو یکجا کر انہیں پولنگ بوتھس تک لے جایا جاسکے۔ہر محلہ اور ہر گلی کی ذمہ داریاں بانٹی جاچکی ہیں۔اب بس رائے دہی کے دن کا انتظار ہے۔ اور یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ بی جے پی ہر چھوٹے بڑے انتخابات میں آر ایس ایس کے ذریعےفرقہ وارانہ ایجنڈا چلاتی ہیں اور باقی بچا ہوا کام پی ایم مودی اور یوپی کے سی ایم یوگی اپنی فرقہ وارانہ اور تشددپسندانہ تقاریر سے پورا کردیتے ہیں۔ایک مراٹھی اخبار کے ذریعے یہ اطلاع ملی ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ مہاراشٹر میں آر ایس ایس کے زیر انصرام چھوٹی چھوٹی عوامی میٹنگیں منعقد کرنے والے ہیں اوریاد رہے کہ ہریانہ میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی جہاں پی ایم سے زیادہ سی ایم کی میٹنگیں منعقدہوئی تھیں۔لہذا اب مہاراشٹر میں آر ایس ایس سرگرم ہوچکی ہیں ریاست بھر میں ٹولیاں تشکیل دی جاچکی ہیں اور الگ الگ علاقوں کی عوام تک پیغام پہنچادیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے بتایا کہ ہر ٹیم 5-10 افراد کے ساتھ چھوٹے گروپ میٹنگز کر رہی ہے اور اپنے اپنے علاقوں کے ‘محلوں’ میں اپنے مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے گھروں تک بھی پہنچ رہی ہے۔جس سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ بٹیں گے اور کٹیں گے والا پوسٹر بھی اسی کا حصہ ہے۔ یہ بات واضح کردوں کہ ان میٹنگس میں کھلے طور پر بی جے پی کی حمایت نہیں کی جاتی ہے بلکہ ملکی مفاد سے زیادہ قومی مفاد کو ترجیح دینے ،ہندوراشٹر کو مضبوط کرنے،عوامی بہبود اور سماج سے متعلق ایسے مسائل جوصرف ایک سماج کی ترقی کی بات کرتے ہیں ایسے مقائل پر گہرائی سے بات چیت کے ذریعے لوگوں کی رائے کو تشکیل دیتے ہیں۔ ٹولیوں کی تشکیل سے قبل آر ایس ایس اور اس کے اتحادیوں نے حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ریاست میں تمام سطحوں پر کوآرڈینیشن میٹنگیں کی تھیں۔اگر ذرائع کی بات مانے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہریانہ میں تشکیل پانے والے سنگھ کارکنوں کے گروپوں نے ریاست میں تقریباًڈھائی لاکھ سے زیادہ چھوٹی چھوٹی گروپ میٹنگیں منعقد کی تھی۔ اور ہریانہ میں بی جے پی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی میٹنگیس مانی جارہی ہے۔
خیر سب سے حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ممبئی میں اس طرح کا پوسٹر لگانے والا مقامی لیڈر جو برسوں تک کانگریس میں تھا اور حال ہی میں دہشت پسندانہ ٹولی کا حصہ بنا ہے یعنی کانگریس میں آج بھی ایسے زہریلے ناگ موجود ہیں جوکانگریس کو ٹھکانے لگانے کے لئے اندرونی طور زہر دھیرے دھیرے چھوڑنے کا کام کررہے ہیں۔ اور حد تو دیکھئے کہ عین الیکشن کے موقع پر کانگریس چھوڑ کر ہندوتوا پارٹی کا ساتھ دینا سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
بہر کیف اس سلسلہ میں یہ بات کافی غور کرنے والی ہے کہ آر ایس ایس اپنے ایجنڈے کو کافی سنجیدگی کے ساتھ بغیر کسی شورشرابہ،ہنگامہ اورپبلسٹی کے اور نہ ہی کسی قسم کے کوئی کریڈٹ اور نہ اخبارات کی زینت بن کر اپنی سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہیں۔سب کے سب تن من دھن اور خاموشی کے ساتھ یہودیوں کی طرح اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔اور مودی جی کی طرح سو فیصد کوشش یہی رہتی ہے کہ میڈیا سے بچا جائے۔ اور اگر غلطی سے میڈیا میں آبھی جائے تو اس کی بھرپائی بلا کسی شور شرابے کے کردی جاتی ہے۔ اور ویسے بھی میڈیاکوپچھلے ایک دہائی سے کنٹرول میں کیا ہوا ہے۔اب اس کے برعکس ہمارا رویہ ہماری پلاننگ اور ہمارے منصوبے دیکھے جائیں تو سب ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔لیڈران تو لیڈران عوام بھی مختلف خانوں اور مختلف حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔دراصل دیکھا جائے تو یوگی جی کے پوسٹر مسلم علاقوں میں لگنے چاہئے تاکہ مسلم رائے دہندگان کچھ سبق لیں۔ہماری کچھ تنظیمیں واقعی میں اس سلسلہ میں کام کررہی ہیں انتھک محنت اور جدوجہد کررہی ہیں لیکن وہ محنتیں بھی بہت کم پڑرہی ہیں۔ آج جس پلاننگ اور مقصد کے تحت دیگر قومی یا ہندوتوا تنظیمیں کام کررہی ہیں کبھی کسی زمانہ میں وہ پلاننگ اور منصوبے ہماری شناخت ہوا کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ فتح اور کامرانی ہمارا مقدر ہوا کرتی تھی ہم ہار سے مایوس یا دل شکستہ نہی ںہوا کرتے بلکہ زیادہ عزم اور حوصلہ کے ساتھ میدان میں اترا کرتے تھے۔اسی لئے تو اللہ نے کہا ہے کہ جو محنت کرے گا کوشش کرے گا پھل اور مقدر اسی کا ٹھہرے گا۔ یہی تو بات ہے کہ گذشتہ دس سالوں سے ہمیں نظر کچھ آتا ہے اور نتیجہ کچھ نکلتا ہے۔ لہذا کوشش تو یہ کی جائے کہ مہاراشٹر اسمبلی میں صرف اور صرف مسلم امیدوار یا سیکولر امیدوار کو ہی بھیجنے کی فکر کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی خطرناک خطرے اور پریشانی سے بچا جاسکے۔ورنہ ایسا نہ ہوکہ ہم ایک گستاخ رسول اور ایک بد زبان کو گرفتار بھی نہ کرواسکے۔
Like this:
Like Loading...