Skip to content
"پیشہ وکالت محض حصول رزق نہیں حصول، دعا بھی ہے”
ازقلم: عبدالواحد شیخ ممبئی

مرحوم گلزار ا عظمی لیکچر سیریز کے موقع پر "پیشہ وکالت مشکلات اور حل "اس عنوان کے تحت انوسنس نیٹورک کے زیر اہتمام پروگرام میں بمبئی ہائی کورٹ کے وکیل عبدالکریم پٹھان صاحب نے التوحید انگلش ہائی اسکول وکرولی ممبئی میں لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ وکالت ایک اہم پیشہ ہے جس میں مسلم نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے یہ محض پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اس سے مظلوم لوگوں کی دعائیں بھی ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکیل بے زبانوں کی زبان ، مظلوموں کی اواز ہے ۔ اس پیشے میں انے والے نئے وکیلوں سے وہ کہتے ہیں کہ اپ کو صحیح سینیئر وکیل اور مناسب چیمبر کا انتخاب کرنا بہت ضروری ہے تاکہ اپ کی صلاحیتیں پروان چڑھے اور اپ اس پیشے میں عمدہ کا رہا ہے نمایاں انجام دے سکے.
وکیلوں میں کن صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے اس پر وہ کہتے ہیں کہ ایک وکیل میں انگریزی اور مراٹھی زبان پر عبور ہونے کے ساتھ ساتھ جذبہ غم گساری اور ہمدردی ہونا ضروری ہے تاکہ وہ محسوس کر سکے کہ کس طرح سے لوگ جیل میں قید ہیں اور ان کی تکلیف کا احساس کر ے تاکہ ن کی رہائی کا سامان جلد سے جلد کیا جا سکے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ہر پیشے کی طرح اس پیشے میں بھی سخت محنت کی ضرورت ہے بلکہ یہاں ۱۰ سال تک انتھک کام کرنا پڑتا ہے جب جا کے ایک وکیل اپنا مقام بنا پاتا ہے ۔ پٹھان صاحب نے پروگرام میں آئے ہوئے وکیلوں کو مشورہ دیا کہ وہ خالی وقت میں گپ بازی کرنے کی بجائے کورٹ روم میں جا کر بیٹھے اور وہاں مشاہدہ کرے، کورٹ کی پروسیڈنگ کو دیکھے، جو سینیئر وکیل آرگیومنٹ کرتے ہیں اور گواہوں سے جو جرا ح کی جاتی ہے اس کا بغور مشاہدہ کرے اس سے بھی اپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالعہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وکیل کو نہ صرف قانون اور ججمنٹ پڑھنا ہے بلکہ مراٹھی اور اردو اخبارات کے اداریہ بھی پڑھنا ہے تاکہ آپ کے زبان و بیان میں بہتری ائے ۔ موصوف نے کہا کہ جب بھی اپ کو موقع ملے چاہے وہ کیس چھوٹا ہو یا بڑا ، محنت کرے اور اپنا لوہا منوا لیں۔ اگر موقع چلا گیا تو پھر لوٹ کر نہیں آئے گا۔ اور مایوسی اور پس مردگی چھا جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ عدالت میں کیا بحث کرنی ہے اس سے زیادہ اس پر بھی غور کرے کہ کیا بحث نہیں کرنی ہے۔ اسی طرح گواہوں کی جراح کے دوران جہاں یہ ضروری ہے کہ کیا سوال پوچھنا ہے اس سے زیادہ یہ بھی ضروری ہے کہ کیا سوال نہیں پوچھنا ہے۔ بعض اوقات غیر اہم سوال یا نامناسب سوال کرنے سے کیس خراب ہو جایا کرتا ہے ۔
پروگرام کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیا جس میں وکیلوں نے اپنے بھرپور سوالات پوچھے اور بہتر جوابات سے پٹھان صاحب نے نوازا۔ ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ انگریزی زبان اور جج کے سامنے کھڑے رہنے کا ڈر ہوتا ہے لیکن جب اس ڈر سے بھاگا جائے گا تو ڈر اور بڑا ہوگا اور ڈر کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ڈر کو فیس کیا جائے تو ڈر خود بخود کافور ہو جایا کرتا ہے ۔ اس پروگرام میں ایڈوکیٹ واحد شیخ نے انوسنز نیٹورک کا تعارف پیش کیا اور وہیں پروگرام کی غرض و غایت اور گلزار اعظمی صاحب و جمعیت علماء کے لیگل سیل کی خدمات بھی سامعین کے سامنے پیش کی۔ مجموعی طور پر ایک بہترین پروگرام ہوا جس میں آئے ہوئے شرکا نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس طرح کے پروگرام ہر مہینے ہونے چاہیے تاکہ نئے وکیلوں کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔ انوسنس نیٹ ورک نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے اور امید ہے کہ انشاءاللہ ہر ماہ ممبئی میں قانون کے مختلف پہلوؤں پر یہ لیکچر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے وکیلوں کے ذریعے کروایا جائے گا۔
Like this:
Like Loading...