Skip to content
مہاراشٹر : لڑانے والوں کی آپسی لڑائی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی اور شیوسینا کے اندر ہندوتوا کے مدعا پر ایک فکری ہم آہنگی پہلے سے پائی جاتی ہے دونوں ایک عرصے تک ساتھ بھی رہے ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے کے بی جے پی کے خلاف چلے جانے کا قلق پورے سنگھ پریوار کو تھا ۔ اس لیے انہیں سبق سکھانے کے لیے ایکناتھ شندے کو ساتھ لے لینا تو بی جے پی والوں کو گوارہ ہے مگر این سی پی کو توڑ کر اجیت پوار کے ساتھ الحاق ان کے گلے سے نہیں اتر رہا ہے کیونکہ حکومت قائم رکھنے کے لیے اس کی چنداں ضرورت ہی نہیں تھی۔شرد پوار کو زک پہنچانے کی خاطر امیت شاہ نے اپنے پیروں پر یہ کلہاڑی تو چلادی مگر اپنے کیڈر کو ناراض کردیا ۔
اس احمقانہ حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجبوری کی اس شادی میں صرف ہاتھ ملے مگر دلوں کی کدورت نہیں گئی۔ پچھلے دنوں بی جے پی ترجمان گنیش ہاکے بیان نے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے فرمایا کہ این سی پی ( اجیت) سے اتحاد کرنا ہماری بد نصیبی ہے۔ گنیش ہاکے مطابق احمد پور اسمبلی حلقے سے این سی پی رکن اسمبلی بابا صاحب پاٹل اور ان کے کارکنان پارلیمانی انتخاب میں اپنے گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے۔ انہوں نے سوال کیا’’ آپ نے ہمارے رکن پارلیمان کیلئے کام کیا؟ بلکہ آپ نے ہمارے رکن پارلیمان کو ہرانے کیلئے کام کیا۔ ‘‘ ان کا الزام ہے کہ اسی وجہ بی جے پی امیدوار ہارگیا ۔
بی جے پی رکن اسمبلی گنیش ہاکے کی بدزبانی کےخلاف این سی پی کے امول مٹکری نے کہا کہ ’’گنیش ہاکے کی ہماری نظر میں دو کوڑی کی قیمت نہیں ہے۔ انہیں (گنیش کو) اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ کہیں بی جے پی گنیش وسرجن سے پہلے ہی انہیں ڈبو نہ دے۔ ‘‘ امول مٹکری نے یہ بھی کہا کہ ’’گنیش ہاکے کی شبیہ، ایک سلجھے ہوئے دانشمند شخص کی ہے لیکن بی جے پی میں انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو سرخیوں میں رکھنے کیلئے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔
ہم ان کےبیانات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔‘ ‘گنیش ہاکے کو پتہ ہونا چاہیے کہ آر پارلیمانی انتخاب میں توایس ایس نے بھی بی جے پی کی حمایت نہیں کی اور سنگھ پرچارک میدان سے غائب تھے۔ تو کیا وہ نیکر دھاریوں کے بارے میں بھی عوامی سطح پر یہی سب کہنے کی ہمت کریں گے۔ اپنے سے کمزور کو دبانا اور طاقتور کے سامنے دبک کر بیٹھ جانا ہندوتوا وادیوں کا شعار ہے۔ پارلیمانی انتخاب میں ناکامی کے بعد سے وقتاً فوقتاً سنگھ اور بی جے پی والے ا جیت پوار پر نزلہ اتارتے رہتے ہیں حالانکہ اگر نشستیں بڑھ جاتیں تو اسی اقدام کو ماسٹر اسٹروک کہا جاتا۔
بی جے پی کی صحبت کا شیوسینا (شندے) پر یہ اثر ہوا کہ اس سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر برائے صحت تاناجی ساونت نے کہہ دیا کہ ’’ میں این سی پی لیڈران کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھتا ہوں لیکن باہر آتا ہوں تو مجھے الٹی(قہ) ہو جاتی ہے۔ ‘‘ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے دفتر میں بلا کران کی سرزنش کی ایسا گمان ہے لیکن نہ تو اس کی تصدیق ہوئی اورنہ کوئی تادیبی کارروائی نظر آئی۔
اس اہانت آمیز بیان کے جواب میں این سی پی کے رکن اسمبلی امول مٹکری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو تاناجی ساونت کا علاج کرانا چاہئے۔ کسی ریاست کا وزیرصحت ہی بیمار ہو تو عوام کا کیا حال ہوگا یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔ مٹکری کے علاوہ رکن اسمبلی اُمیش پاٹل نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ’’ یا تو تانا جی ساونت کو حکومت سے باہر نکالا جائے یا پھر ہم باہر نکل جاتے ہیں۔ ‘‘ لیکن نکلنے اور نکانے کی دھمکیاں صرف گیدڑ بھپکی ہوتی ہیں۔
ہندوستانی سیاست میں جب بھی کوئی ابن الوقت سیاستداں بی جے پی میں جاکر ہندوتوا کا نعرہ بلند کرتا ہے تو اس کے بارے میں یہ یقین کرلیا جاتا ہے کہ دل کی بات زبان پر آگئی۔ ہندوتوا سےسیاستدانوں کی محبت کا ایک نمونہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے لئے بی جے پی کے امیدواروں کی پہلی فہرست کے بعد سامنے آیا۔ گنیش نائک ایک زمانے میں شیوسینک ہوا کرتے تھے ۔ اس کے بعد وہ این سی پی میں آئےاور پھر پالا بدل کر بی جے پی میں چلے گئے۔ اس پورے عرصے میں رکن اسمبلی اور کبھی کبھار وزیر بھی رہے ۔ اب وہ چاہتے تھے ان کے بیٹے سندیپ نائک کوجو میئر ہے اسمبلی کا ٹکٹ ملے مگر جب بی جے پی نے وہ خواہش پوری نہیں کی تو وہ پارٹی سے ناراض ہوکر بی جے پی رکن اسمبلی کا بیٹا شرد پوار کی پارٹی این سی پی-ایس پی میں شامل ہو گیا اور اسے ٹکٹ سے بھی نواز دیا گیا۔ سندیپ نائک کی شمولیت پر پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے جو کھویا تھا وہ اب مل گیا ہے۔ نوی ممبئی میں شروع ہونے والی کہانی پورے مہاراشٹر میں گونجے گی۔ ہم اپنے مخلص کارکنان اور لیڈران کے تعاون کو نظر انداز نہیں کریں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سندیپ نائک کی پارٹی میں شمولیت کے بعد یقیناً ہماری پارٹی مضبوط ہوگی۔‘‘ اس طرح دو متصل حلقۂ انتخاب سے باپ بیٹا ہندوتوا کی حمایت اور مخالفت میں کھڑے ہوں گے ۔ یہ ہے ہندوتوا کی حقیقت۔
وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے حوصلے پارلیمانی انتخاب کے نتائج نے بڑھا دئیے ہیں ۔ ان کو صرف 15مقامات پر لڑنے کا موقع دیا گیا تھا اور اس میں سے انہوں نے اپنے 8؍ امیدوار کامیاب کرلیے تھے یعنی اسٹرائیک ریٹ 50 فیصد سے بہتر تھا جبکہ بی جے پی نے 23پر لڑ کر صرف 9مقامات پر کامیابی درج کروا سکی تھی ۔ اس کی کامیابی کا تناسب صرف 30فیصد تھا۔ اس سیاسی الٹ پھیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے جو شخص وزیر داخلہ امیت شاہ کے دفتر پر قطار لگا کر کھڑا ہوتا تھا اب ان سے ملاقات نہیں کرتا۔ ایک بار امیت شاہ ممبئی آئے تو وزیر اعلیٰ نے ان سے ملنا ضروری نہیں سمجھا ۔ اس کے بعد نکسل مسئلہ کو حل کرنے کی خاطر وزراے اعلیٰ کی نشست میں ملاقات ہوئی تو 120 نشستوں کا مطالبہ رکھ دیا۔ انتخاب کی تاریخوں کااعلان ہوا تو ایکناتھ شندے کے تیور بدلے ہوئے تھے۔ وزیر داخلہ نے دیویندر فڈنویس اور اجیت پوار کوکمرے سے باہربیٹھاکر تنہائی میں ملاقات کی۔
یہ ایک نہایت شرمناک منظر تھا کہ بی جے پی کا سابق وزیر اعلیٰ کمرے یا ہوٹل کے باہر بیٹھا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔وزیر داخلہ نے اپنی عادت کے مطابق وزیر اعلیٰ کو دھمکی شمکی دی ہوگی مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ بی جے پی نے اپنے 95 ؍امیدواروں کی فہرست جاری کردی۔ ان میں 4؍ ایسے حلقے تھے جہاں ایکناتھ اپنا امیدوار لڑانا چاہتے تھے بس پھر کیا تھا وہ بگڑ گئے ۔ ان کو سمجھانے کے لیے امیت شاہ نے دہلی بلایا تو وہ نہیں گئے۔ اس کے بعد میں ان سمجھا بجھا کر پھر سے دوسرے دن حاضری کے لیے مجبور کیا گیا۔ فی الحال بی جے پی کی مجبوری کا وہ خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔ امیت شاہ نے سبھی کو دھمکی دی کہ باغی امیدوار کسی طور پر کھڑے نہیں ہونے چاہئیں۔ اجیت پوار کو اپنے چاچا کے خلاف ورغلاکر بلیک میل کرنے والوں کی زبان سے جب وہ غداری کی ممانعت سنتے ہوں گے تو انہیں کیسا لگتا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
اجیت پوار کو پارلیمانی انتخاب میں اپنی چچا زاد بہن کے خلاف بیوی انتخاب لڑنے پر مجبور کیا گیا ۔ اس سے ان کوہونے والی اذیت وہ کبھی بھی بھول نہیں سکیں گے ۔ خیر اب خود ان کا بھتیجا یوگیندر پوار الیکشن لڑ کر حساب کتاب چکا رہا ہے ۔ اجیت پوار 1993 سے بارامتی اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ 2019 میں انہوں نے 165000 ووٹوں کے ریکارڈ فرق سے بی جے پی کو شکست دی تھی۔ اب کمل والے اپنے ازلی دشمن کی حمایت پر مجبور ہیں؟وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں پر ایک ملک کا پردھان منتری( وزیر اعظم) ہے جو پارٹی کا پرچار منتری( وزیر ِپروپگنڈہ) بنا ہوا ہے۔ دوسرا وزیر داخلہ ہے جو پارٹی کے داخلی امور پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس لیے پارٹی تو گرنے کے بعد سنبھل بھی جاتی ہے جیسا کہ ہریانہ میں ہوا لیکن ملک کا برا حال ہے۔ اس کی حالت روز بروز بگڑتی چلی جارہی کیونکہ یہ دونوں حضرات جس کام کی تنخواہ اور سرکاری سہولیات سے فیض یاب ہوتے ہیں وہ تو کرتے ہی نہیں ۔ کیا یہ نمک حلالی ہے؟
سوال یہ ہے کہ سنگھ پریوار اپنی دنیا بھر کی تنظیمی تربیت کے باوجود پارٹی چلانے کے لیے دوچار لوگ کیوں نہیں دے پاتا ؟ اور اگر واقعی وہ اس بابت بانجھ ہوگیا ہے تو مودی و شاہ کو پارٹی کی ذمہ داریوں پر فائز کرکے ملک چلانے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ہی مہیا کردے ۔آر ایس ایس اپنی صد سالہ تقریبات منانے کی تیاری میں ہے ۔ ایسے میں اسے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ اس کے اندر ایسا قحط الرجال کیوں ہے کہ پارٹی اور سرکار چلانے کے لیے الگ الگ افراد نہیں مل رہے ۔
وزارت خزانہ اور خارجہ جیسے اہم عہدوں کے لیے غیر سنگھ کے لوگوں کو در آمد کرنا پڑتا ہے۔ ملک کے اندر بی جے پی کے تین( بدنامی کے لیے سہی )مقبول ترین وزرائے اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ یا وہ، ہیمنتا بسوا سرما اور ویریندر سنگھ کبھی بھی سنگھ کی شاکھا میں نہیں گئے۔ حصول اقتدار کے باوجود افراد کی فراہمی میں یہ ناکامی سنگھ پریوار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔مہاراشٹر جیسا صوبہ جہاں سنگھ کا مرکز ہے وہاں بھی زیادہ نشستوں کے باوجود اپنے وفادار دیویندر فڈنویس کے بجائے باہر سے آنے والے ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ کیوں بنانا پڑتا ہے؟ اس تلخ سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے آر ایس ایس کو اپنی خود احتسابی کرنی چاہیے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...