Skip to content
اللہ کے نزدیک بدترین معبود خواہش نفس ہے
جس کی اس زمین پر پیروی اور پرستش کی جارہی ہے
ترتیب: عبدالعزیز
اللہ تعالیٰ سورۃ الفرقان میں فرماتا ہے:
’’کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنالیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے‘‘۔ (آیت:43-44)
خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراس کی بندگی کرنا ہے اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔ حضرت ابوامامہؓ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جارہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بدترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جارہی ہو‘‘۔ (طبرانی)
جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کیلئے صحیح راہ کون سی ہے اور غلط کون سی، وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا بھی ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جاسکتا ہے، اور یہ اعتماد بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کرلے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا، لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بے مہار ہے۔ اسے تو اس کی خواہشات جدھر جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے، پھر بھلا کون اسے سمجھا کر راستی کا قائل کرسکتا ہے، اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی لے تو اسے کسی ضابطۂ اخلاق کا پابند بنا دینا تو کسی انسان ے بس میں نہیں ہے۔
یعنی جس طرح بھیڑ بکریوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہانکنے والا انھیں چراگاہ کی طرف لے جارہا ہے یا بوچڑخانے کی طرف۔ وہ بس آنکھیں بند کرکے ہانکنے والے کے اشاروں پر چلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح یہ عوام الناس بھی اپنے شیطانِ نفس اور اپنے گمراہ کن لیڈروں پر آنکھیں بند کئے چلے جارہے ہیں، کچھ نہیں جانتے کہ وہ انھیں فلاح کی طرف ہانک رہے ہیں یا تباہی و بربادی کی طرف۔ اس حد تک تو ان کی حالت بھیڑ بکریوں کے مشابہ ہے، لیکن بھیڑ بکریوں کو خدا نے عقل و شعور سے نہیں نوازا ہے۔ وہ اگر چرواہے اور قصائی میں امتیاز نہیں کرتیں تو کچھ عیب نہیں۔ البتہ حیف ہے ان انسانوں پر جو خدا سے عقل شعور کی نعمتیں پاکر بھی اپنے آپ کو بھیڑ بکریوں کی سی غفلت و بے شعوری میں مبتلا کرلیں۔
کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ اس تقریر کا منشا تبلیغ کو لاحاصل قرار دینا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے یہ باتیں اس لئے فرمائی جارہی ہیں کہ لوگوں کو سمجھانے کی فضول کوشش چھوڑ دیں۔ نہیں، اس تقریر کے اصل مخاطب سامعین ہی ہیں، اگر چہ روئے سخن بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ دراصل سنانا ان کو مقصود ہے کہ غافلو؛ یہ کس حال میں پڑے ہوئے ہو۔ کیا خدا نے تمہیں سمجھ بوجھ اس لئے دی تھی کہ دنیا میں جانوروں کی طرح زندگی بسر کرو؟‘‘ (تفہیم القرآن)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے مختلف مقامات پر خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں کا بھیانک انجام بتایا ہے:
’’اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے‘‘۔(قرآن ، سورت الکہف ، آیت نمبر 28)
خواہشات کا تابع نماز کو ضائع کرتا ہے:’’پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں‘‘۔(قرآن ، سورت مریم ، آیت نمبر 59)
خواہشات کا تابع قیامت کی مطلق پرواہ نہیں کرتا:’’ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا‘‘۔(قرآن ، سورت طٰہٰ ، آیت نمبر 16)
خواہشات کا تابع اپنی خواہش کو الٰہ بناتا ہے: ’’کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟‘‘(قرآن ، سورۃ الفرقان ، آیت نمبر 43)
خواہشات کا تابع سب سے بڑا گمراہ ہے:’’اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا‘‘۔(قرآن ، سورت القصص ، آیت نمبر 50)
خواہشات کا تابع صرف اپنے خیال کے پیچھے چلتا ہے:’’مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو۔ ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہو سکتا‘‘۔(قرآن، سورۃ الروم ، آیت نمبر 29)
خواہشات کا تابع اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے:’’(ہم نے اس سے کہا) اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقینا ان کیلئے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے‘‘۔ (قرآن ، سورۃ ص ، آیت نمبر 26)
خواہشات کا تابع بے علم ہے:’’اس کے بعد اب اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت ) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے‘‘۔(قرآن ، سورۃ الجاثیہ ، آیت نمبر 18)
خواہشات کے تابع پر اللّٰہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے:’’پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟‘‘(قرآن، سورۃ الجاثیہ ، آیت نمبر 23)
’’ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں‘‘۔(قرآن ، سورۃ محمدؐ ، آیت نمبر 16)
خواہشات کے تابع کو اپنا برا عمل خوشنما لگتا ہے:’’بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ ان لوگوں کی طرح ہو جائے جن کیلئے ان کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں؟‘‘قرآن ، سورۃ محمدؐ ، آیت نمبر 14)
خواہشات کا تابع اپنے وہم و گمان کا مرید ہے:دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں! اللہ نے ان کیلئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے‘‘۔(قرآن ، سورۃ النجم ، آیت نمبر23)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...