Skip to content
’بات نکلے گی تو امریکہ تلک جائے گی‘
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014میں اپنی پہلی حلف برداری کے ایک سال بعد کینیڈا کا دورہ کیا تو اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان 42؍ سال کے بعدپہلی ملاقات ہے۔ ششی تھرور نے یاد دلایا کہ پانچ سال قبل تو وزیر اعظم منموہن سنگھ کینیڈا جاچکے ہیں اور اس وقت ایک مشترکہ بیان بھی شائع ہوا تھا ۔ اس پر ان کو بتایا گیا کہ وہ جی ٹوینٹی میں شرکت کے لیے کیا جانے والا دورہ تھا یہ مخصوص دو فریقی ملاقات ہے۔ اس دورے پر مودی جی نے ریاضی کے ایک فارمولے کی مدد سے اپنی بات سمجھائی تھی جس کو وہ بعد میں بھی دوہراتے ہے۔ موصوف نے کہا تھا اے جمع بی اگر ایک بریکیٹ میں ہوں اور اس کا مربع نکالا جائے تو صرف ایک مربع جمع بی مربع نہیں بلکہ دو فاضل اے ضرب بی بھی نکل آتے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ یہ دو اے بی کہاں سے آتے ہیں؟ دونوں ممالک کے سیدھے سادے لوگوں نے سوچا کہ شاید مودی جی ’ہم دو ہمارے دو ‘ کا فلسفہ سمجھانے کی سعی فرما رہے ہیں ۔ آگے چل کر پتہ چلا کہ مودی اور شاہ کا مربع اگر اڈانی اور امبانی کی ڈبل روٹی پر لگا کر کھایا جاتا ہے تو ناشتے کا مزہ دوگنا ہوجاتا ہے۔
اس فارمولے میں لوگوں نے اے کی تلاش شروع کی تو سب سے پہلے امیت شاہ کا نام سامنے آیا مگر پھر وہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا ۔ اڈانی آئے ان کے ساتھ امبانی بھی تھے اور اب تو اجیت ڈوول کا نامِ نامی اسمِ گرامی بھی اس میں شامل ہوگیا لیکن ’بی‘ ایک معمہ تھا ۔ دور کی کوڑی لانے والوں کو بہت دوڑ بھاگ کے بعد بھاگوت ہاتھ آئے لیکن سرسنگھ چالک تو مودی کے بریکیٹ میں بیٹھتے ہی نہ تھے ۔ وہ موقع بموقع مودی دی جی کے لیے مسائل کھڑے کررہے تھے ۔ کبھی ان کی انا کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے آہنکار چھوڑنے کی تلقین فرمادیتے تھے تو کبھی انہیں بھگوان بننے سے منع کردیتے تھے۔ اس لیے انہیں فارمولے میں فِٹ کرنا مشکل ہورہا تھا لیکن اب کینیڈا کے ساتھ دوستی سے پیدا ہونے والی فاضل توانائی ’دو اے بی‘ کا راز پوری طرح کھل گیا ۔ اس فارمولے میں اے کے ساتھ بشنوئی یعنی لارنس بشنوئی کا بی ہے ۔ اس نےایسا کباڑہ کیا کہ مودی اور ٹروڈو کےبے ہنگم تعلقات پر سنگم فلم کا دوست اور پیار کی محرومی کا شکوہ والا نغمہ صادق آ گیا ۔ کینیڈا کے تناظر میں اب اسے اس طرح گانا چاہیے؎
اے بی نہ رہا اور اسکوائر نہ رہا
اب توفارمولے کا بھی اعتبار نہ رہا
مودی جی نے وہ فار مولاغلط ملک میں پیش کیا کیونکہ بھارت کا نام تو بی سے آتا ہے مگر کینیڈا کے نام سی ہے۔ وہ اگر امریکہ میں جاکر ریاضی کا یہ ریاض کرتے تو فامولا بالکل پرفیکٹ بیٹھتا لیکن وہاں ایک اور سی یعنی چنوں کے قتل کی سازش نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ہے۔ اس معاملے میں پہلے نکھل گپتا پھنسا ۔ اس کے بعد بات آگے بڑھی تو وکاس یادو تک پہنچی ۔ وکاس یادو کے تار سی آر پی ایف سے نکل کر رآ سے جڑ گئے تو حفاظتی امور کے صلاح کار اجیت ڈوول لپیٹ میں آگئے اور اب امیت شاہ کا نام بھی زیر بحث آگیا ہے۔ اس طرح ایک دائرہ بن گیا ہے ۔ سابرمتی ایکسپریس سے سابر متی جیل ۔ وہاں موجود منشیات کی اسمگلنگ معاملے میں گرفتار لارنس بشنوئی ۔ اس کے نام سے دہلی میں تاوان وصول کرنے والا وکاس یادو جو گرفتاری کے بعد ضمانت پر لاپتہ ہے ۔ دہلی میں ہی منشیات کے اسمگلر نکھل گپتا کا اپنے مقدمات سے نجات کی خاطر وکاس یادو کا آلۂ کار بن جانا ۔ نکھل گپتا کا امریکی حراست میں سارے راز اُگل دینا ۔ اس طرح شک کی سوئی کا وکاس یادو سے گھومتے ہوئے اجیت ڈوول اور امیت شاہ بلکہ وزیر اعظم کے دفتر تک پہنچ جانا ۔ اسی چکرویوہ میں پھنسی ہوئی مودی سرکار فی الحال نکلنے کے لیے چھٹپٹا رہی ہے۔
ملک کی موجودہ خارجہ پالیسی شدید بحران کا شکار ہے۔ پہلے تو سارے پڑوسی ممالک ایک ایک کرکےناراض ہوتے چلے گئے۔ پاکستان کی ناراضی تو پسندیدہ ہے مگر سابقہ ہندو راشٹر نیپال نے بھی اپنے نوٹ پر ہندوستانی علاقوں کی تصویر چھاپ دی ۔ چین جیسا بڑا ملک پہلے ہی آنکھ دکھاتا تھا مگر مالدیپ جیسے ننھے سے جزیرے نے بھی ہندوستانی فوجیوں کا دیس نکالا کردیا ۔ بنگلہ دیش کی حسینہ کا تختہ الٹا تو ان کو وارنٹ سے بچنے کے لیے ہندوستان میں پناہ لینی پڑی اور سری لنکا نے کے عوام نے ایک اشتراکی کو تخت نشین کردیا۔ نئے سری لنکائی صدر نے راون کے سپنوں کو ساکار کرنا شروع کیا تو رام بھگت اڈانی کی نیند اُڑ گئی۔ اس کے باوجود یہ خوش گمانی جاری و ساری رہی کہ ہندوستان وشو گرو بن گیا ہے ۔ وزیر اعظم یوکرین کی جنگ رکوا رہےہیں ۔قواد کی نشست میں امریکہ اور آسیان اجلاس کے لیے ہنوئی میں جلوہ افروز ہیں لیکن اچانک نجرّ اور پنوں کے معاملات نے ساری ہیکڑی نکال دی اور آئینہ دِکھا دیا۔
فی الحال امریکہ اور کینیڈا مل کر تال میل کے ساتھ ڈانڈیا راس کھیل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ آئی فائی میں شامل برطانیہ ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ڈھول منجیرہ بجا رہے ہیں نیز دنیا بھر کے خالصتانی بھنگڑا ناچ رہے ہیں۔ یہ مودی اور شاہ کے کرموں کا پھل ہے۔ کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے اس کھیل کی ابتدا ہوئی اور امریکہ کے اندر گرپتونت سنگھ کے قتل کی ناکام کوشش نے اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا ۔ حکومت کا ہند کا رویہ پنوں اور نجر کے معاملے میں بالکل متضاد ہے ۔ کینیڈا کے ساتھ نہایت سخت موقف اختیار کرنے والوں نے امریکہ کے مقابلے زبردست لچک دار رویہ کا مظاہرہ کرکے اپنی حیثیت ظاہر کردی ۔ مودی سرکار نے اپنے سے طاقتور امریکی انتظامیہ کے سامنےتو پوری طرح سپر ڈال دی ہے مگر چاہتی ہے کینیڈا اس کے آگے جھک جائے ۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ مالدیپ جیسے ننھے جزیرے کے محمد موئیزو اگر اس کے تیار نہیں ہوئے تو بھلا کینیڈا جیسے ملک کے جسٹن ٹروڈو کیونکر راضی ہوں گے ۔ قبل از وقت اگر اس حقیقت کا ادراک کر لیا جاتا تو یہ صورتحال نہیں بنتی لیکن خیر جو ہونا تھا سو ہوچکا۔
ہردیپ سنگھ نجرّ کے قتل سے ۵؍ ماہ بعد نومبر 2023کو امریکہ نے یہ انکشاف کردیا کہ گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کوشش کو اس نے ناکام بنادیا۔ امریکی حکومت نے حکومتِ ہند کے اہلکار پر علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کوشش میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کردیئے ۔رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ "نکھل گپتا نامی تاجر کو مودی سرکار کے ایک اہلکار نے گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش میں شریک کیا تھا۔ اس کے عوض گپتا سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوجائے تو اس کےخلاف ہندوستان میں درج مجرمانہ مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ سیاست میں تو یہ ہوتا ہے کہ اجیت پوار یا چندرا بابو نائیڈو جیسوں کو اپنی وفاداری بدلنے کے عوض بدعنوانی کے معاملات میں کلین چِٹ مل جاتی ہے یہی فارمولا جاسوسی میں بھی اپنایا گیا۔ نکھل گپتا نے اپنی ناتجربہ کاری کی بناء پر امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک ایجنٹ کو کرایہ کے شوٹر کی حیثیت سے منتخب کرلیا اور ایک لاکھ ڈالر میں سودہ طے کرکے پچاس فیصد پیشگی رقم بھی دے دی ۔
نکھل گپتا نےاپنی شیخی بگھارتے ہوئے اس امریکی ایجنٹ سے یہ بھی کہہ دیا کہ کینیڈا میں نجرّ کا قتل انہیں لوگوں نے کروایا ہے۔ وہ امریکی ایجنٹ ساری باتیں شواہد کے طور پر محفوظ کرتا رہا اور اس بنیاد پرامریکی پولیس نے اس منصوبے کی ناکامی کے بعد گپتا کو پراگ سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کرلیا ۔ ابتدا میں تو حکومت ہند نے اس میں کسی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے سے انکار کیا مگر بعد میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے ہتھیار ڈال دئیے۔ امریکی شہری گورپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کے معاملے میں امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کی جانب سے داخل کردہ چارج شیٹ میں ‘سی سی آئی’ نامی ایجنٹ کا ذکر ہے جو نکھل گپتا سے کام کرواتا تھا ۔ ڈی او جے کی چارج شیٹ میں ‘سی سی آئی’ کو ایک فعال ہندوستانی سرکاری اہلکار کہا گیا ہے ۔ یہ معاملہ جب امریکہ کی عدالت میں پہنچا تو اس نے رآ کے سابق سربراہ سامنت گویل سمیت قومی حفاظتی صلاح کار اجیت ڈوبھال کے خلاف بھی سمن جاری کردیا ۔ اسی لیے امریکہ میں منعقد ہونے والی قواد کی پچھلی نشست میں اجیت ڈوبھال نے شرکت کا خطرہ نہیں مول لیا ۔ فرد جرم میں یادو کو وزارت داخلہ سے جوڑ کر امیت شاہ تک کا نام زیر بحث آگیا ۔ دہلی میں اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ارکان واشنگٹن ڈی سی کا دورہ کرچکے ہیں تاکہ وکاش یادو کی حوالگی کے مطالبے کو ٹالا جاسکے کیونکہ فارمولے کے مطابق نکھل اور وکاس کو بریکیٹ میں جمع کرکے مربع کیا جائے تو فاضل ۲؍اے بے بی کی صورت میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آسکتے ہیں ۔ یہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی ایسے میں بقول کفیل آذر؎
لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنے پریشاں کیوں ہو
لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
Like this:
Like Loading...
بہت خوب تحقیق پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،
گزارش ہے کہ ایسے تحقیقی مضامین کو انگریزی زبان میں انگریزی اخبار اور میگزین میں بھی ضرور شائع کریں ، تاکہ لوگ حقیقی خبروں سے آگاہی حاصل کریں ،