Skip to content
جمعہ نامہ: اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ!
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے‘‘۔آفاق و انفس کا ذرہ ذرہ نغمۂ توحیدگنگنا رہا ہے اس کے باوجودمنکرین میں سے کوئی الحاد کا قائل خدا کے وجودکا انکار کردیتا ہے اور کوئی بے شمار معبودانِ باطل کے شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ :’’ لوگ آخرت کو نہیں مانتے ۔اُن کے دلوں میں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں‘‘۔ استکبار کی ابتداء اطاعتِ خداوندی کے انکار سے ہوتی ہے اور انتہا اپنی خدائی کے دعویٰ تک لے جاتی ہے یعنی انسان اللہ کی بندگی کا انکار کرنے کے بعد دوسروں کو اپنا غلام بنانے لگتا ہے۔فرعون کی مانند یہ کام علی الاعلان کیا جاتا ہے اور ڈھکے چھپے انداز میں بھی ان ارادوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ:’’اللہ یقیناً اِن کے چھپے اور کھلے سب کرتوت جانتا ہے‘‘۔ ایسے نافرمان باغیوں کو آگاہ کیا گیا کہ :’’ غرور نفس میں مبتلا ہونے والوں کو وہ(اللہ) ہرگز پسند نہیں کرتا ‘‘۔ یعنی اس انجامِ بد اور وجہ ، دونوں تعلق غرور و استکبار ہے۔
منکرینِ حق چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں مثلاً دولت، شہرت ، اقتدار، علم و حکمت اور صلاحیت وغیرہ سے مالا مال ہوتے ہیں اس لیے ان سے رجوع کرکے :’’ جب کوئی پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں "اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں”۔ اس کتمانِ حق کا سبب بھی عجز و شکر کے بجائے کفرو استکبار کی روش ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت یہ وعید سنائی گئی کہ :’’ اس کے نتیجے میں بروزِ قیامت یہ اپنے گناہوں کا بھی پورا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور کچھ بوجھ ان کا بھی اٹھائیں گے جنہیں بے سمجھے گمراہ کر رہے ہیں ( دیکھو ) کیا ہی برا بوجھ ہے وہ جو یہ اٹھا رہے ہیں؟‘‘یعنی ان کو اپنی گمراہی کے ساتھ دوسروں کوبرگشتہ کرنے کی سزا بھی ملے گی۔ مستکبرین کی مکاریوں کے حوالے سے فرمانِ خداوندی ہے: ’’ اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی ‘‘۔
عمارت کا وجود بنیاد پرقائم ہوتا ہے اور اس کی غرض و غایت چھت کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔ اسرائیل کا قلعہ فی الحال دوہری مار کا شکار ہے۔ اس کی بنیاد یہودی عوام اورچھت اسے تحفظ دینے والی مغربی اقوام ہیں ۔ عوام آئے دن نیتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے اور ان کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی ملک سے فرار ہورہی ہے۔ اسرائیل کا پشت پناہ امریکہ اس کو ایران کی اہم تنصیبات پر حملہ کرنے سے منع کرکے ہاتھ کھینچنے کی دھمکی دے رہا ہے، دیگر ہمدرد ممالک بھی ہاتھ اٹھا کر سائبان میں سوراخ کرنے لگے ہیں ۔ مکرو فریب کی اس ناجائز ریاست پر :’’ ایسے رخ سے عذاب آیا کہ جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا‘‘۔ یہ بات تصورخیال سے پرے تھی کہ حماس کے حملے میں 1,139؍اسرائیلی فوجی ہلاک کردئیے جائیں گے اور 250؍ کو یرغمال بنا لیا جائے گا ۔ کون سوچ سکتا تھا کہ تاریخ انسانی کی شدید ترین بمباری کے باوجود یہ مزاحمت ایک سال سے زیادہ دنوں تک جاری رہے گی اور اسرائیل بزورِ قوت اپنا ایک بھی یرغمالی نہیں چھڑا سکے گا۔ تل ابیب پر ایرانی حملہ خواب و خیال کی بات تھی نتین یاہو کے گھر پرحزب اللہ کا میزائل ناممکنات میں تھا۔ ایران اور سعودی عرب بحریہ کی مشترکہ مشق ناقابلِ یقین معجزہ ہے ؎
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
کتابِ الٰہی کے مطابق ذلت کی یہ ادنیٰ شکل ہے:’’ قیامت کے روز اللہ اُنہیں ذلیل و خوار کرے گا‘‘۔ اُن کے حامیوں سے پوچھا جائے گا : "بتاؤ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تم (اہل حق سے) جھگڑے کیا کرتے تھے؟” جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے "آج رسوائی اور بدبختی ہے ‘‘۔ان کی حالت یہ ہوگی کہ :’’ انہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں جبکہ وہ اپنے نفس کے ظالم ہوتے ہیں تو اس وقت اطاعت کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے‘‘۔ جواب ملے گا’’ بیشک خدا خوب جانتا ہے کہ تم کیا کیا کرتے تھے‘‘۔ان لوگوں کو حکم دیا جائے گا کہ :’’اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے” پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کے لیے‘‘۔ اس سلسلۂ آیات میں تیسری بار گھمنڈ کرنے والوں کی تنبیہ کی گئی ۔ حدیثِ قدسی ہے :’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’ کبر یائی میری چادر ہے، عزت میرا ”ازار“ ہے، جوشخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں میرامقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔“
اللہ تبار و تعالیٰ باغی و سرکش لوگوں کے بعد اپنے فرماں بردار اوراطاعت گزار بندوں کا ذکر اس طرح فرماتا ہے کہ:’’ دوسری طرف جب خدا ترس لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ "بہترین چیز اتری ہے” اِس طرح کے نیکوکار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی متقیوں کے حق میں بہتر اور بڑا اچھا گھر ہے‘‘۔ اسی جنت کی طلب نے مجاہدین اسلام کو اسرائیل سمیت ساری دنیا کے باغیوں سے سینہ سپر کردیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ :’’ دائمی قیام کی جنتیں، جن میں وہ داخل ہوں گے، (ان) کےنیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، اوروہاں سب کچھ عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا ۔اللہ متقیوں کو یہ جزا دیتا ہے۔ پاکیزگی کی حالت میں اُن متقیوں کی روحیں قبض کرتے وقت ملائکہ کہتے ہیں "سلام ہو تم پر، جنت میں اپنے اعمال کے بدلے جاؤ‘‘ علامہ اقبال کے بقول ؎
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہُنر میں،
جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں
جنّت تری پنہاں ہے ترے خُونِ جگر میں،
اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ!
Like this:
Like Loading...