Skip to content
صلہ رحمی :پرسکون معاشرہ کی اہم ترین ضرورت ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
حیدرآباد۔یکم؍ نومبر( پریس ریلیز)
حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس پرفتن دور میں ہمارا معاشرہ بہت سارے مسائل کا شکار ہے، ان میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ اہلِ معاشرہ میں محبت وہم آ ہنگی اور اتفاق کا فقدان، ایک دوسرے سے نفرت، عصبیت، حسد، بغض کا بڑھ جانا ہے، حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اللہ رب العزت نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ صلہ رحمی، عفو و درگزر کرنے اور آپس میں بھائی چارگی کی تعلیم دی ہے اور ان پر انعامات کا وعدہ فرمایا ہے۔ مسلمان تو مسلمان! دینِ اسلام میں تو ذمیوں کے حقوق کی بھی رعایت رکھی گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ صلہ رحمی کی اہمیت و ضرورت کو بیان کیاہے۔
قرآن و حدیث میں رشتوں کا پاس رکھنے اور رشتے جوڑے رکھنے کی تلقین بار بار کی گئی ہے۔جو لوگ صلہ رحمی کرتے ہیں ان کیلئے باغات، اچھا انجام اور سلامتی کی خوشخبری ہے اور جو رشتوں کو توڑتے ہیں، قطع رحمی کرتے ہیں ان کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی ہے۔ سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صلہ رحمی سے مراد یہ ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا، ایک دوسرے کے دکھ، درد، خوشی اور غمی میں شریک ہونا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ صلہ رحمی کیلئے ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے بلکہ جس بھی طریقے سے انسان اپنے رشتے داروں کے کام آ سکتا ہے مثلاً ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، مشورہ دینا، کسی مشکل سے نکلنے کیلئے سہولت فراہم کرنا۔
یعنی ہر وہ طریقہ جس سے رشتے کو اچھے سے نبھایا جائے، ایک دوسرے کا خیال رکھا جائے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کیے جائیں اسے اختیار کرنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں رشتوں کا پاس رکھنے اور رشتے جوڑے رکھنے کی تلقین بار بار کی گئی ہے۔جو لوگ صلہ رحمی کرتے ہیں ان کیلئے باغات، اچھا انجام اور سلامتی کی خوشخبری ہے اور جو رشتوں کو توڑتے ہیں، قطع رحمی کرتے ہیں ان کیلئے دنیا اور آ خرت دونوں میں رسوائی ہے۔جو لوگ صلہ رحمی کرتے ہیں ان کیلئے بڑا اجر رکھا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وہ لوگ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں، اور معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے،
یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا، اور نماز قائم کی، اور ہم نے انہیں جو رزق عطا کیا اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا، اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں، انہی لوگوں کیلئے انجام کا گھر ہو گا، ہمیشہ رہنے کے باغات، جن میں یہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی، اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے یہ کہتے ہوئے کہ سلام ہو تم پر تمہارے صبر کرنے پر، سو کیا ہی خوب ہے آخرت کا گھر اس آیت مبارکہ میں جن لوگوں کیلئے اچھے انجام اورہمیشہ رہنے والے باغات کا وعدہ کیا گیا ہے ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کا رزق کشادہ کیا جائے اوراس کی عمر لمبی کی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔قطع رحمی کی سزا توانسان کو دنیا میں بھی بھگتنا پڑتی ہے جب مشکل وقت میں اپنے ساتھ نہیں دیتے۔ ایک دوسرے کی شکل تک د یکھنے کے روادار نہیں ہوتے، تب رشتوں کے یہ فاصلے عذاب بن جاتے ہیں اور انسان کو مصنوعی سہارے تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ حالات جیسے بھی ہوں صلہ رحمی کرتے رہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھیں، سماجی حیثیت کو نہ دیکھیں کہ ہمارا فلاں رشتے دار غریب ہے تو اس سے تعلقات ختم کر لیں۔ ا یسے کئی واقعات ہوئے بھی ہیں جب کوئی رشتے دار اپنے کم حیثیت رشتے دار کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ رشتہ ناتا کو توڑنا اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کرنا اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔اللہ تعالی ہم کو صحیح علم اور علم کی توفیق عطافرمائیں آمین
Like this:
Like Loading...