Skip to content
امریکی انتخاب میں ایران اور اسرائیل ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکہ کا صدارتی انتخاب اپنے آخری مرحلہ میں ہے۔ کسی زمانے میں سوویت یونین یا روس پر اسے متاثر کرنے کا الزام لگتا تھا لیکن اب اس کی جگہ ایران نے لے لی ہے۔ معروف نشریاتی ادارے سی این این نے یہ خبر نشر کرکے ساری دنیا کو چونکا دیا ہے کہ ایرانی فوج اسرائیل پر امریکی صدارتی انتخاب سے قبل حتمی اور انتہائی تکلیف دہ حملہ کرسکتی ہے۔ ستمبر کے صدارتی مباحثے میں حزب اقتدار کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے نہ صرف یہ یقین دہانی کی تھی کی وہ صہیونی ریاست کو دفاع کی صلاحیت فراہم کریں گی بلکہ واضح انداز میں کہا تھا کہ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن روس نہیں بلکہ ایران ہے۔ اس لیے کہ اس کے ہاتھ امریکی فوجیوں کے خون سے سنے ہوئے ہیں ۔ ایران اور اس کے حلیف تو اسرائیل سے برسرِ جنگ ہیں اس لیے کملاکے اس ناعاقبت اندیش بیان ایک مطلب تو یہ ہے کہ اسرائیل کی سرزمین پر امریکی فوجی لڑ رہے ہیں اس لیے مارے بھی جارہے ہیں اور دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ امریکہ کی 51؍ویں ناجائز ریاست اسرائیل ہےاوریہ دونوں باتیں درست ہیں۔ کملا نے حسن نصرا اللہ کی شہادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئےکہا تھا کہ وہ ایران یا اُس کی حلیف گروہوں سے اسرائیل کو لاحق ہر خطرے سے بچنے کے لیے اس کا بھر پور ساتھ دیں گی۔
کملا ہیرس کا روس کی بہ نسبت ایران کو بڑا دشمن سمجھنا درست ہے کیونکہ روس کے ساتھ امریکہ کا کوئی نظریاتی یا مذہبی اختلاف نہیں ہے۔ فی الحال روس ایک اشتراکی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ ملک ہے اور امریکی تہذیب و ثقافت کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے اس کے برعکس ایران ہر لحاظ سے امریکہ کی آنکھوں کا کانٹا بنا ہوا ہے۔ کملا ہیرس کے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل دوستی کے سبھی قائل ہے۔وہ گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو جائز ٹھہرا چکا ہے۔ٹمپ نے اسرائیل کے دارالخلافہ کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی حمایت کرکے اپنا سفارتخانہ وہاں کھول دیا تھا ۔ 2018 ء میں ٹرمپ نے عالمی طاقتوں کے ایران سے جوہری پروگرام کے طے شدہ معاہدے سے امریکہ کو یکطرفہ طور پرباہر نکال کر مشرق وسطیٰ پر برسوں سے جاری حملوں کو بھی ختم کرنے ک اعلان کیا تھا۔ا پنے منافقانہ بیان کے باوجود اس نے بغداد کے اندر 2020 ء میں ڈرون حملے کے ذریعہ ایران کے فوجی سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر ایرانی باشندوں کو ڈرون حملے میں شہید کردیا ۔ اسرائیل پر ایران کے جوابی کارروائی کی تیاری اسی وقت شروع ہوچکی تھی جسے ایک ماہ قبل عملی جامہ پہنایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے انتخاب سے قبل تو خوب اسلام دشمن بیانات دیا کرتا تھا مگر کامیاب ہونے کے بعد انہوں نے سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک سے تعلقات استوار کرکے اسلحہ بیچنا شروع کردیا ۔ وہ ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال نہ ہوں اس کی پیش بندی کی خاطر ابراہیم معاہدے کے تحت اپنے حلیف ممالک کے اسرائیل سے تعاون اشتراک پر زور دینے لگا ۔ اس وقت ایسا لگنے لگا تھا کہ بحرین کے بعد بہت جلد سعودی عرب اور دیگر ممالک بھی امریکی جال میں پھنس جائیں گے مگر ۷؍ اکتوبر کے حماس حملے نےٹرمپ کا وہ خواب چکنا چور کردیا۔ ا ب اس کا احمقانہ دعویٰ ہے کہ اگر وہ برسرِ اقتدار ہوتا حملہ ہی نہیں ہوتا حالانکہ اس کا بغل بچہ اگر تل ابیب میں بیٹھ کر اسے نہیں روک سکا تو ہزاروں میل دور وہ کیا کرلیتا لیکن ٹرمپ کا اندیشہ اب درست نکلنے والا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات گہرے ہورہے ہیں اور وہ دن دور نہیں کہ جب امریکہ سے خریدے جانے والے ہتھیار براہِ راست یا بالواسطہ اسرائیل کے خلاف استعمال ہوں گے ۔ ویسے اس پر امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اب اس اسلحہ کا استعمال بیچنے والے کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اس کوخریدارکی مرضی سے ہوگا۔
ٹرمپ کا کہناہے کہ اگر کملا ہیرس جیت گئیں تو تیسری علمی جنگ ہوجائے گی اور اسرائیل صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا ۔ ویسے خود ٹرمپ جیت تب بھی وہ اسرائیل کو مٹنے سے نہیں بچا سکتا کیونکہ صیہونیوں کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ وہاں سے 20لاکھ شہری بھاگ چکے ہیں جو پوری آبادی کا ۲۲؍ فیصد ہیں اور باقی بھی فرار ہونے کے فراق میں ہیں۔ جس ملک کی بنیاد اس قدر کمزور ہو وہ بھلا کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ مشرق وسطیٰ میں اپنے اس وفادار کے وجود کی بابت امریکہ بہت فکرمند ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اپنی تازہ پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ ایران کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ ایران کو اسرائیلی حملوں کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ ایران کو صبرو تحمل کی تلقین کرنے والے میتھیو ملر نے اعتراف کیا کہ ایران کے میزائل حملوں کا اسرائیل نے بھرپور جواب دے دیا۔ اب یہ سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے تاکہ معاملات مزید نہ بگڑیں اور خطے میں مکمل جنگ کی راہ ہموار نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں جو خون ناحق بہایا ہے اس کا جواب کون دے گا ؟
امریکہ کی منت و سماجت سے قطع نظر عالمی مبصرین کو یقین ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر اسرائیل کے حالیہ حملے کا فیصلہ کن اور تکلیف دہ جواب دے گا۔ اس حوالے سے ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسرائیل پر اتنے دھماکوں اور حملوں کی تیاریاں کر رکھی ہیں کہ نسلیں انہیں یاد رکھیں گی۔ یہ قیاس آرائی بھی ہو رہی ہے کہ مذکورہ حملہ امریکہ میں 5 نومبر کومنعقد ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے کیا جا سکتا ہے۔ بڑے میاں تو بڑؑے میں چھوٹے میاں اسرائیل بھی اپنے حملے کے ممکنہ ایرانی ردعمل کی توقع کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے اسرائیل نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر مزید کسی بھی حملے کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔ اسرائیل کے حالیہ حملے سے قبل اسرائیل سے ایسے بیانات کو سن کر لوگ بہت زیادہ فکر مند ہوجاتے تھے لیکن اب کیفیت بدل چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اسرائیل کے 80؍ فیصد میزائل کو ایران نے ہوا میں ہی مار گرایا ۔ ان حملوں کے بعد ایران کے اندر کوئی بنکر میں چھپنے کے لیے نہیں گیا کیونکہ عوام کو اپنے ملک کی صلاحیت اور حکمرانوں پر بھروسا تھا۔
تہران کے اندر اسماعیل ہنیہ کی شہادت میں ایرانی جاسوس کے ملوث ہونے کا انکشاف ہواتھا ۔ اس معاملے میں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔ اس وقت صیہونیوں سے مرعوب لوگ موساد کی تعریف میں آسمان اور زمین کے قلابے ملانے لگے تھے لیکن ان کو پتہ پونا چاہیے کہ اسرائیل میں پچھلے دو ماہ کے دوران ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں دوسری بار گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی حکام اسرائیل کے خفیہ نیٹ ورک میں سیندھ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ایک اسرائیلی جوڑے کو مرکزی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے ڈھانچے اور فوج کی حکمتِ عملی طے کرنے والے تھنک ٹینک کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں رافیل اور گلیئیو نے تفتیش کے دوران تسلیم کیا ہکہ انہیں اسرائیل کے خفیہ نیٹ ورک کی بابت بنیادی باتیں معلوم کرکے ایرانی حکام کو منتقل کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔اس جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے کئی ماہ سے اسرائیل کے خفیہ اور حساس اداروں پر نظر رکھی ہوئی تھی۔
دو ماہ قبل بھی ایک اسرائیلی باشندے کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے تفیتش کے دوران تسلیم کیا تھا کہ تربیت کے بعد اُسے ٹاسک دے کر ایران سے بھیجا گیا تھا۔یہ شخص کاروباری ویزے پر ایران گیا تھا اور وہاں خفیہ اداروں کے حکام سے ملاقات کے بعد اسرائیل کے خلاف جاسوسی کے لیے راضی ہوگیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے خفیہ اداروں کی چوکسی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے طول و عرض میں عوام کی سرگرمیوں پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں حفاظتی انتظامات پہلے ہی بہت سخت ہیں لیکن اب خوداسرائیلی عوام کی سرگرمیاں مشکوک ہوگئی ہیں ۔ اسرائیل کے اندر جو خوف و دہشت کا ماحول ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے اسرائیلی کابینہ کے اس نئے فیصلے قابل توجہ ہیں۔ اس میں پہلا فیصلہ تو یہ ہے کہ کابینی اجلاس میں صرف وزراء ہی شرکت کریں گے۔ ان کے مشیروں اور دیگر لوگوں کو اجازت نہیں ہوگی ۔ یہ تجویز بھی اہم ہے کہ آگے چل کر ایسی ساری نشستیں بنکروں کے اندر ہوں گی اور ان میں کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس طرح وزراء تک شک کے دائرے میں لپیٹ لیا گیا ہے۔ اسرائیل کے اندر پھیلے ہوئے اس موت کے خوف پر یہودیوں کے حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیت صادق آتی ہے:’’ تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے حتیٰ کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے‘‘۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...