Skip to content
اترپردیش کے ضمنی انتخابات
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان.
اترپردیش کے دس ضمنی انتخابات میں کامیابی بی جے پی کے لیے دیگر 37بائی الیکشن سے زیادہ اہمیت کے حامل ہے۔ اس کے نتائج سے نہ صرف وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کے مستقبل کا فیصلہ ہوجائے گا بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کرسی بھی ہل جائے گی کیونکہ فی الحال ان کی کرم بھومی گجرات نہیں بلکہ اتر پردیش ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ اگر اس بارخاطر خواہ کامیابی درج نہیں کراسکے تو انہیں بھی ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر یا گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجئے روپانی کی مانند اگلے صوبائی انتخاب سے قبل بلی کا بکر ابنا دیا جائے گا ۔ مودی کی دوستی نے کھٹر کو کم ازکم مرکزی وزیر بنوادیا مگر بیچارے یوگی کا انجام تو وجئے روپانی سے بھی برا ہوگا جن کو اب کوئی نہیں پوچھتا ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کو اس کا علم ہے اس لیے انہوں پہلے تو ایودھیا کا انتقام لینے کی خاطر اودھیش سنگھ کے حلقۂ انتخاب میں کامیابی کے لیے نہایت غلیظ اور خطرناک سازش رچی لیکن ناکام رہے ۔
ملکی پور کا انتخاب جیتنے کی خاطر یوگی نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی مذموم کوشش کرڈالی ۔انہوں نے ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے واقعہ میں سماجوادی پارٹی کے مقامی مسلم رہنما معید خان کو پھنسایا تاکہ ایک طرف مسلمانوں کو بدنام کیا جائے دوسرے سماجوادی پارٹی دلتوں کا دشمن بناکر ان کا دل جیتا جائے ۔اس معاملے میں ایس پی لیڈر کے خلاف بلا تحقیق گینگسٹرایکٹ کے تحت کی کارروائی کرکے گودی میڈیا میں اچھالا گیا۔معید کان کی املاک پر بلڈوزر کی ویڈیو دھاکر یوگی کی مقبولیت بڑھائی گئی ۔ سماجوادی پارٹی نے ان تمام الزامات کا انکار کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کردیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ بلڈوزر کی سیاست غلط ہے۔ بلڈوزر کسی مجرم کے گھر پر بھی نہیں چلنا چاہئے اور یہ سپریم کورٹ کی ہدایت بھی ہے۔
معید خان کے اہل خانہ اور گاوں والوں کا شروع سے موقف تھا کہ بیکری کے ملازم راجو خان کے مذکورہ کمسن لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور اسی وجہ سے وہ حاملہ ہوئی لیکن سیاسی مفاد کی خاطر کی معید خان کو پھنسایا گیا ۔ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اس لیے اب ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ہو گیا سماجوادی پارٹی کے لیڈر بے قصور تھا اور ان کی جائیداد پر بلڈوز کا چلانا ناانصافی تھی۔ ایودھیا میں کراری ہار کے خلاف بی جے پی حکومت کی یہ ایک انتقامی کارروائی تھی۔ معیدخان کے کے وکیل نے عدالت میں دلیل تھی کہ 71؍ سالہ بزرگ کو سیاسی وجوہات کی بنا پر پھنسایا گیا ہے۔ انہیں یہ شکایت بھی تھی کہ معید خان کیس سےمتعلق کوئی دستاویزنہیں فراہم کی گئی جبکہ سرکاری وکیل اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ونود شاہی نے اس معاملے کو نہات سنگین بتایا تھا۔
ڈی این اے رپورٹ سے یہ تو تصدیق بھی کی کہ 20؍ سالہ بیکری ملازم راجوخان نے دلت لڑکی کی عصمت دری کی تھی اسی وجہ سے حمل کے امکانات ہیں مگر نہ تو زور زبردستی ثابت ہوئی اور نہ معید کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا۔ اس معاملے میں دل برداشتہ ہو کر بی جے پی نے ملکی پور حلقۂ انتخاب کا الیکشن ہی ملتوی کردیا ۔ اس معاملے میں انتظامیہ اور میڈیا کو نہ صرف معافی مانگنی چاہیے بلکہ معید خان کی نقصان بھرپائی بھی عدل کا تقاضہ ہے۔ ایسے مجرمین کو جب تک قرار واقعی سزا نہیں ملتی ۔ سیاسی مقاصد کے تحت کردار کشی اس وقت رکے گی جب ان مجرمین کو سزا ملے۔ یوگی بابا کا یہ حربہ ناکام ہو گیا تو بہرائچ میں فساد بھڑکا کر پورے صوبے میں نفرت پھیلانے کی سازش رچی گئی مگر وہ داوں بھی الٹا پڑگیا ۔ اس میں پہلے تو ایک برہمن نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور پھر فساد کرانے کے الزام میں دو ہندو نوجوانوں کی وائرل ویڈیو نے رنگے ہاتھ پکڑا دیا ۔ اس میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کو دنگا فساد کرنے کی خاطر دو گھنٹوں کی چھوٹ دی گئی تھی لیکن کچھ لوگوں کی غداری کے سبب وہ اپنے ارمان نہیں نکال سکے۔ اب یہ تحقیق ہونی چاہیے کہ یہ چھوٹ کس نے دی تھی ؟ بہرائچ فساد میں مسلمانوں کا مالی نقصان ضرور ہوا مگر خلاف روایت ہندو ووں کا نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ گرفتاری بھی انہیں کی عمل میں آئی۔ اس طرح ہندو مسلم منافرت پھیلا کر الیکشن جیتنے کا خواب چکنا چور پوگیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کے ستارے فی الحال گردش میں ہیں۔ انتخاب کی تیاری کے دوران دوعدد حراستی اموات نے ان کے انتظامیہ پر سوالیہ نشان لگا دیا کیونکہ وہی صوبے کے وزیر داخلہ بھی ہیں ۔ 11؍ اکتوبر کو لکھنو کے وکاس نگر میں 24 سالہ امن گوتم کو پولیس نے تھانے میں اتنا مارا پیٹا کہ اس کی موت ہو گئی۔ پولیس نے بعد میں طبیعت خراب ہونے کی کہانی گڑھی مگر امن گوتم کے لواحقین اور رشتہ داروں نے پولیس کے بیان کو مسترد کرد یا ۔ان کا الزام ہے کہ امن گوتم دوستوں کے ساتھ گھومنے گیا تھا۔ پولیس اس کو جبراً پکڑ کر لے گئی اور اسے جوئے کے اڈے سے پکڑنے کی کہانی بنائی ۔اہل خانہ کے مطابق امن گوتم کی موت پولیس کی مارپیٹ سے ہو ئی ہے اور انتظامیہ اس پر لیپا پوتی کررہا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکار شیلیندر سنگھ اور تین دیگر پولیس اہلکار کی مارپیٹ سے جب وہ بے ہوش ہو گیا تو گھبرا کر اس کو اسپتال میں داخل کروا یا گیا ۔ امن گوتم کی بیوہ بیوی نے تھانے میں ایف آئی آر درج کرواکر سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس حراست میں امن گوتم کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ لکھنؤ کے تھانےچنہٹ میں ایسی ہی واردات ہوگئی ۔ یہاں پر بستی جین آباد کے ساکن موہت کمار پانڈے کا کسی سے تنازعہ ہو گیا ۔ پولیس دونوں فریق کو تھانے لے گئی اور مخالف فریق کو چھوڑنےکے بعد موہت پانڈے کو پولیس نے جم کر پیٹنے کے بعد لوہیا اسپتال میں داخل کرا دیا جبکہ اس کی موت ہوچکی تھی۔ موہت کےاہل خانہ کو اسپتال پہنچنے پر پولیس نے انہیں اندر جانے سے روک کر چور کی داڑھی میں تنکا والا ثبوت پیش کردیا ۔پولیس حراست میں دوسری موت کے بعد حزب اختلاف یوگی حکومت پرچڑھ دوڑا۔ سماج وادی پارٹی ،کانگریس اور مایا وتی نے پولیس کی حراست میں دو اموات کے بعد عوام کےمحافوں ان کی جان کا دشمن بتادیا ۔ دلت ہونے کے سبب امن گوتم کو یوگی نے نظر انداز کیا مگرموہت پانڈے کی ہلاکت سے پریشان ہوکرپانڈے کے اہل خانہ سے ملاقات کراور امداد فراہم کرنے کے ساتھ دیگر سرکاری سہولتوں کا وعدہ کیا مگر اس سے جان تھوڑی نا واپس آئے گی ۔
ان دو واقعات سے قبل سلطان پور ڈکیتی معاملے میں یوپی پولیس نے منگیش یادو نامی ملزم کا انکاونٹر کردیا تھا۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر حکومت اور پولیس انتظامیہ کا طاقت کے غلط استعمال کا مجرم قراردیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس زیادتی کا شکار ہونے والے منگیش یادو اور انوج سنگھ نامی ملزمان کے اہل خانہ نے پہلے ہی انکاؤنٹر کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے منگیش یادو کے انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے پولیس پر منگیش یادو کےقتل کاالزام لگایا تھا۔ انہوں نے اسے آگے بڑھا کر ذات پات سے بھی جوڑدیا کیونکہ اس کارروائی میں ٹھاکر کو بچا کر یادو کو ماردیا گیا تھا۔ پولیس نے ان الزامات کو مسترد کیا مگر وہ اس کے سوا کر بھی سکتی ہے؟ اکھلیش یادو نے اس کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا کہ ، ’’اگر ڈکیت پکڑے گئے تو لوٹا ہوا سونا کہاں ہے؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں یہ ڈکیت کسی کے آلۂ کار تو نہیں تھے؟
یوگی کابینہ کے وزیر نند گپال گپتا نندی اپنا گھسا پٹا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ ایس پی کے دور میں مجرموں کو کھلی چھوٹ دی گئی تھی اور آج کی حکومت قانون کی عملداری کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہےحالانکہ فی زمانہ پولیس شتر بے مہار کی مانند اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لیے بے قصور لوگوں کا قتل کرتی پھرتی ہے۔ انتظامیہ کام قانون کو ہاتھ میں لے کر ناانصافی کرنا نہیں بلکہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد اس کے فیصلوں کی بجا آوری ہے۔ یوگی سرکار کے وزیر او پی راج بھر نے کہا، ’’ایس پی اب سیاست کو ذات پات کے رنگ میں رنگ رہی ہے۔ کیا پولیس شناختی کارڈ دیکھ کر کارروائی کرے گی؟‘‘ وہ بھول گئے کہ وزیر اعظم خود لوگوں کو لباس دیکھ کر پہچانتے ہیں اس لیے ان کی پولیس کو بھی کسی شناختی کارڈ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن اب عوام ان بھگوا دھاری مجرمین کو پہچان کر انہیں سزا دینے لگے ہیں ۔ اسی لیے کانگریس کے رہنما سریندر راجپوت نے سوال کیا ، ’’کیا اب یادو ہونا جرم ہے؟ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو قانون سزا دے گا لیکن بار بار ذات کو نشانہ بنانا غلط ہے‘‘۔ یوگی حکومت نےعتیق احمد اور مختار انساری جیسے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرکے خوب فائدہ اٹھایا مگر اس بار اس کے سارے شکار ہندو ہیں اس لیے وہ اس سے نمٹے میں کس طرح کامیاب ہوتی ہے اس کا اندازہ انتخابی نتائج کے بعد ہوگا۔
Like this:
Like Loading...