Skip to content
لبنان میں جنگ بندی کیوں اور کیسے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
7؍ اکتوبر 2023 کی پہلی سالگرہ سے قبل اسرائیل کو یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ لوگ باگ اگر سال بھر کا گوشوارہ طلب کریں گے تو اس بیلنس شیٹ کے کھلنے سے اس کی بڑی رسوائی ہوگی کیونکہ نہ تو حصولیابی کا اولین ہدف یعنی یرغمالی رہا ہوئے اور نہ حماس نیست و نابود ہوئی ۔ وہ اپنی عوام کو تو یہ کہہ کر کسی حد تک مطمئن کرسکتا ہے کہ اس نے اسماعیل ہنیہ اور سید حسن نصراللہ کو شہید کرکے انتقام لے لیا مگر عالمِ انسانیت میں ایسا کہنےسے بدنامی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا ۔ اس لیے اپنی ناکامیوں کی جانب سے توجہ ہٹائی جا نے کے لیے امسال یکم اکتوبر کو لبنان میں زمینی جنگ چھیڑ دی گئی مگر اسی دن ایران نے اسرائیل پر زبردست حملہ کرکے مذکورہ صیہونی منصوبے کو خاک میں ملا دیا ۔
ساری دنیا کے انصاف پسندوں اس پرخوشی منائی اورحملہ روکنے میں ناکامی نے اسرائیل کی ذلت و رسوائی میں زبردست اضافہ کردیا ۔
یہ ایک سچائی ہے کہ لبنان کے معاملے میں اسرائیل ہوائی حملوں سے تو خوب تباہی مچائی۔ یہ تباہی اس قدر شدید ہے کہ اس کے سبب جنوبی لپنان کے لبنان کے تقریبا دس لاکھ افراد نقل مکانی کر نے پر مجبور کردئیے گئے۔ سرحدی علاقے میں کم از کم 5,858 یعنی 25 قصبوں میں تقریباً 25 فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں لیکن اسرائیلی فوجی تیزی کے ساتھ اندر داخل ہونے کی ہمت نہیں کرسکے۔حملے کے ابتداء میں ہی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی ایلیٹ یونٹ کے 25 سے زائد افسران اور فوجی ہلاک کر دئیے گئے اور 130 سے زائد زخمی ہو ئے۔ اس کے بعد ہوائی حملوں میں شدت آئی مگر ایک بعد اس ہفتہ ‘ٹائمز آف انڈیا’نے خبر دی کہ حزب اللہ نے 90 سے زائد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا ۔ اس بات قیاس یہی ہے کہ یہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد ہے کیونکہ اسی دن لبنان کی شفق نیوز ایجنسی نے بھی 24 گھنٹوں کے اندر حزب اللہ کے ذریعہ درجنوں اسرائیلی فوجی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی تھی۔ ان ہلاکتوں اور کئی ٹینکوں کی تباہی نے ایک ماہ کے اندر اسرائیل کو جنگ بندی پر راضی بھی کردیا ۔
اسرائیلی ٹی وی چینلس اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل پھر ایک بار لبنان میں جنگ ختم کرنے کا پر غور کررہا ہے۔ یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اسرائیل آئندہ دو ہفتوں میں لبنان کے محاذ پر جنگ ختم کرنے کے انتظامات کر رہا ہے۔ ایک سینئر اسرائیلی ذمے دار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 10 سے 14 روز میں شمالی محاذ پر معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اتوار کے روز لبنان کے ساتھ سرحد کا دورہ کرنے کے بعد شمالی اسرائیل میں امن کی واپسی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ معاہدے کے ذریعے ہو یا بغیر معاہد ے کے ہوجائے گی۔ حزب اللہ نے اس ایک ماہ میں اسرائیل کو اس حیثیت کا احساس دلا دیا اور یہ اس کی ناکامیوں میں تازہ اضافہ ہے۔اسرائیل تشویش اس لیے توقع کے مطابق ہے کیونکہ حال میں حزب اللہ نے اپنے قادر ون بیلسٹک میزائل حملے سے موساد کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا جس کی خوداسرائیل تصدیق کرچکا ہے ۔
حزب اللہ نےپہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میزائل حملے سے تل ابیب کی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کیاگیا ہے۔ ابتدائی طور پر حزب اللہ کے بیان پر اسرائیل خاموش رہا مگر پھر حسبِ عادت یہ دعویٰ کردیا کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے لبنان سے داغے گئے میزائل کو سینٹرل اسرائیل میں غیر موثر کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میزائل نام نہاد آئرن ڈوم کو چیر کر وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائل کی یہ پہلی کامیابی ہے کہ وہ سرحد سے دور اسرائیلی شہروں تک پہنچ رہے ہیں۔ان میزائل حملوں کے بعد تل ابیب کی فضائی حدود میں سائرن کا بجنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دارالخلافہ کےحدود میں داخل ہوگئے تھے۔ اسرائیل نے میزائل حملے میں جانی یا مالی نقصان سے انکار کیا لیکن اب کوئی اس پر اعتبار نہیں کرتا۔
اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کے آبائی گھر پر حزب اللہ کا حملہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اب اسرائیل میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس ڈرون حملے کے بعد اسرائیل نے اعلیٰ حکام کی سکیورٹی بڑھا دی ۔ اسرائیل اس خوش گمانی میں مبتلا تھا کہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ خوفزدہ ہو کر ہتھیار ڈال دے گا مگر موت سے ڈرنے والے یہودیوں اور مجاہدین اسلام میں یہی تو فرق ہے کہ اسرائیل کے فوجی ڈپریشن میں جاکر خودکشی تک کررہے ہیں اور اسلامی جانباز شوق شہادت میں صہیونی ٹینکوں کو الٹ رہے ہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایران والوں کوجو خط بھیجا اس میں اس کیفیت کا اظہار تھا ۔ آپ ؓ تحریر فرمایا تھا کہ ’’میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جانے کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا ایرانی لوگ شراب سے محبت رکھتے ہیں‘‘۔
حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم نےکمان سنبھالنے کے بعد اپنے جرأتمندانہ بیان میں کہا کہ ہمارے پچھلے حملے سے تو اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو بچ گئےلیکن ضروری نہیں کہ ہر بار ایسا ہو۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تحریک کو حسن نصراللہ کے نقشِ قدم پر چلاتے رہیں گے اور جنگ جاری رہے گی۔نعیم قاسم نے اس موقع پر سب سے اہم بات یہ کہی کہ ہمارے لیے مزاحمت سے بہتر اقدام ہے تاکہ اسرائیل ہم پر غیر متوقع طور پر حملہ نہ کرسکے۔یہ کامیاب جدو جہد کی روح ہے کیونکہ جب تک دشمن اقدامات کے جواب میں مدافعت کی خاطر مجبور نہ ہوجائے اس وقت کامیابی کی منزل قدم نہیں چومتی ۔ وہ بولے ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور مسلط شدہ جنگ میں پوری طاقت، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ’ہم کسی کی ایما پر لڑائی نہیں کررہے اور کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں ہے، ہم اپنے مقصد کے لیے لڑتے ہیں‘۔یہ دراصل اس اعتراض کا جواب ہے کہ حزب اللہ ایران کی آلۂ کار ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ حماس ، ایران ، قطر ، حزب اللہ اور حوثی وغیرہ کا واحد مقصد فلسطین کی آزادی ہے اس لیے وہ سب ایک دوسرے کا تعاون کررہے ہیں۔
یہ حقیقت اب اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ لبنان میں اسرائیل کو زمین کاررائیوں کے اندر غیرمعمولی جانی نقصان ہوا ہے اور اس کے یہ اثر ہے کہ تل ابیب جنگ بندی پر آمادہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ اس پیش رفت کے متعلق لبنان کے نگران وزیراعظم نجیب میقاتی نے اخبار نویسوں کو آگاہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ چند گھنٹوں کے اندر جنگ بندی کی توقع ہے۔ مجوزہ مسودے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل لبنان سے اپنی فوج واپس بلا لے گا۔ یہ معاہدہ عارضی طور پر دوماہ کے لیے ہوگی مگر اس دوران مستقل جنگ بندی کی شرائط کو حتمی شکل دی جائے گی۔ یہ دراصل حزب اللہ کو سرحد سے ہٹانے کی ساز ش ہے کیونکہ مسودے کے مطابق اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی لبنانی فوج کی تعیناتی شروع ہو جائے گی تاکہ وہ معاہدہ کی نگرانی کرسکے ۔ یہ عجب تماشا ہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد جو فوج گدھے کے سر سے سینگ کی مانند بھاگ گئی تھی وہ جنگ بندی کی نگرانی کرے اور حزب اللہ و حماس کو اس سے دور رکھا جائے۔اس منافقت کے باوجود اس طرح آسانی سے جنگ بندی کے لیے راضی ہوجانا اپنے آپ میں اسرائیل کی شکست کا اعتراف ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے مقرر کردہ ثالث اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کی تجویز پر کام کر رہے ہیں جس کا آغاز 60؍ دن کی جنگ بندی سے ہوگا۔ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے نے لبنان میں جنگ بندی کی تجویز کا متن بھی شائع کردیا ۔ اس دستاویز میں لبنان اور اسرائیل کی طرف سے جنگی کارروائیاں مکمل طور پر روک دیے جانا سرِ فہرست ہے۔ اس دستاویز کے مطابق امریکہ اور بین الاقوامی طاقتیں تعداد اور معیار کے اعتبار سے لبنانی فوج کو سپورٹ کریں گی۔ اسرائیل لڑائی رکنے کے بعد۷؍ روز کے اندر وہ لبنان سے اپنی فوج نکالنے کا پابند ہوگا۔ تفصیلات بتاتے ہوئے ایک ثالث اور سینئر سفارتکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 1701؍پر مکمل عمل درآمد کو حتمی شکل دینے کے لیے دو ماہ کا وقت لیاجائے گا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مذکورہ قرارداد2006ء میں جنوبی لبنان کو اسلحہ سے پاک رکھنے کیلئے منظور کی گئی تھی۔ پچھلے ماہ جب اسرائیل نے حملہ کیا تھا کسی کو یہ یاد نہیں تھی مگر جب چوٹ لگی تو یاد آگئی ۔ علامہ اقبال نے یہی بات اپنے مشہور شعر میں کہی تھی ؎
رِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہَمن کا طِلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
Like this:
Like Loading...