Skip to content
جھارکھنڈاور مہاراشٹر:
ہم کسی سے کم نہیں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی کے کھیل نرالے ہوتے ہیں ۔ جموں کشمیر میں سپریم کورٹ نے الیکشن کے لیے اکتوبر کی حد طے کردی تھی ۔ اب مرتا کیا نہ کرتا ساڑھے چار سال کی تاخیر سے انتخاب لڑانے کی نوبت آئی تو ہریانہ میں وقت سے پہلے الیکشن کرکے اپنی ناکامی کو چھپانے کا بندو بست کردیا اور یہ کہنا پڑے گا کہ اس کی یہ چال کامیاب رہی ۔ جموں کشمیر میں بی جے پی کی ہار ہریانہ کی جیت سے کراری تھی۔ ہریانہ نے اندر کانگریس نے جتنی نشستیں جیت لیں اتنی پر جموں کشمیر میں بی جے پی کو کامیابی نہیں ملی اور اس کا آئین کی دفع 370ختم کرنے کا غبارہ بھی پھوٹ گیا ۔ الیکشن کے پہلے اور بعد میں تو جیسے جموں کشمیر کے اندر تشدد کی سونامی آئی ہوئی ہے۔ ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی تازہ واردات کی خبر آجاتی ہے۔ ریاست میں نظم و نسق قائم رکھنے کی ذمہ داری چونکہ لیفٹننٹ گورنر کے ذمہ اور مرکز کے نمائندے ہیں اس لیے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اس کے لیے ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرا سکتے۔ ایسے میں وہاں کمل والے دوہری چکی میں پِس رہے ہیں اورعمر عبداللہ بغیر کسی ذمہ داری کے عیش کررہے ہیں۔
ہریانہ کے ساتھ مہاراشٹر کے انتخابات ہوتے رہے ہیں اس لیے امید تھی کہ جموں کشمیر کے ساتھ یہاں بھی ہوجائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ پارلیمانی الیکشن کے نتائج نے اسے خوفزدہ کردیا تھا ۔ خیر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔ حکومت کی مدت 26 نومبرکوختم ہونے والی ہے اس لیے جب وہاں انتخاب کروانا مجبوری بن گئی تو اس کے ساتھ جھارکھنڈ کو نتھی کردیا حالانکہ ایسا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ جھارکھنڈ اسمبلی کی مدت کار5 جنوری 2025 تک تھی مگرہریانہ کی مانند وہاں بھی جلدی مچائی گئی ۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ مہاراشٹرکی انتخابی ناکامی پر جھارکھنڈ کی چمکیلی چادر چڑھا ئی جاسکے۔ پہلے تو یہ لگتا تھا کہ مہاراشٹر میں یہ لوگ ہار جائیں گے مگر اب جھارکھنڈ میں کمل کی نیاّ ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گودی میڈیا کے ساتھ سوشیل میڈیا پر بھی مہاراشٹر ہی چھایا ہوا ہے اور ایسا لگتا ہی نہیں کہ جھارکھنڈ میں بھی کوئی انتخابی مہم چل رہی ہے۔ بیچ بیچ میں ہیمنتا بسوا سرما کی زبانی کچھ بدبودار باتیں ذرائع ابلاغ میں آکر ماحول خراب کردیتی ہیں بس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔
ماضی قریب میں ہریانہ اور جموں کشمیر کے درمیان بھی یہی فرق تھا کہ الیکشن سے قبل جہاں دن رات ہریانہ پر بات ہوتی تھی وہیں جموں کشمیر بالکل پسِ پردہ چلا گیا تھا اور نتائج کے بعد بھی یہی ہوا۔ اس حکمت ِ عملی کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ جھارکھنڈ میں بی جے پی کی حالت مہاراشٹر سے گئی گزری ہے۔ یہ درست بات ہے کہ مہاراشٹرکے 288 ؍اسمبلی حلقوں کی بہ نسبت جھارکھنڈ میں صرف 81؍ اسمبلی حلقے ہیں مگر میڈیا کا کوریج کا موازنہ کریں تو تین نہیں تیس گنا سے زیادہ کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو ممبئی کا مایا جال ہے۔ بیچارہ غریب مسکین رانچی اس کا مقابلہ کیونکر کرسکتا ہے اور میڈیا کی گاڑی بہت زیادہ ایندھن کھاتی ہیں جو آج کل خاصہ مہنگا ہوگیاہے۔ وطنِ عزیز میں بیروزگار نوجوانوں کو مصروف رکھنے اور ان کے قلب وذہن کو افواہوں کے نشے میں مست رکھنے کی خاطر انٹرنیٹ ڈیٹا کے سوا سب کچھ مہنگا ہوگیا ہے۔ اس انٹرنیٹ کی مدد کی مددسے چلائی جانے والی واٹس ایپ یونیورسٹی میں جھارکھنڈ کا چرچا بہت کم ہے کیونکہ وہاں بظاہر جیت کا امکان نہیں ہے ۔
الیکشن کمیشن کا مذکورہ بالا فیصلہ اس لیے بھی حیرت انگیز ہے کہ مہاراشٹر جیسے بڑے صوبے کے اندر 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوجائےگی ۔ اس کے برعکس جھارکھنڈ جیسے چھوٹے سے صوبے میں انتخابات کے دو مرحلے ہوں گے۔ ان میں پہلا مرحلہ 13 نومبر کو ہوجائے گا جبکہ دوسرا مرحلہ مہاراشٹر کے ساتھ 20 نومبر کو منعقد ہوگا۔ دونوں مقامات پر ایک ساتھ 23 نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اس دوران 47؍ اسمبلی حلقوں اور ایک پارلیمانی حلقہ یعنی کیرالہ کے وایناڈ میں بھی 13 نومبر کو ووٹنگ ہوجائے ۔ اس کے ایک ہفتہ بعد اتراکھنڈ کے ایک اسمبلی حلقہ اور مہاراشٹر کے ناندیڑ پارلیمانی حلقہ کا ضمنی انتخابات 20 نومبر کو صوبے کے الیکشن کے ساتھ ہوں گے۔ اس طرح دو ریاستوں کے الیکشن کروانے میں جس الیکشن کمشنر راجیو کمار کی سانس پھول رہی ہے اس سے مرکزی حکومت یہ توقع کرتی ہے کہ وہ ’ون نیشن ون الیکشن ‘ کے تحت پورے ملک کے تمام پارلیمانی اور صوبائی انتخابات ایک ساتھ کروا لیں گے۔ وہ تو خیر پہلے مرحلے کا خواب ہے دوسرے میں تو بلدیاتی و پنچایت انتخاب بھی ایک ساتھ ہوجائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوجائے تو ہمارے پرچار منتری نریندر مودی سال بھر کیا کریں گے کیونکہ بقول شاعر (مع ترمیم)؎
کروں گا کیا جو الیکشن سے ہوگیا فارغ
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے سیاسی حالات میں کئی مماثلت ہے۔ پہلی تو یہ دونوں مقامات پر مخالفین کو جیل بھیجنے اور پارٹی توڑ کر اپنے ساتھ شامل کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے یا شرد پوار پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا گیا مگر پوار کے دست راست اور ریاست کے وزیر داخلہ کو انلِ دیشمکھ کو بے بنیاد الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا اور ان کو ایک شرمناک حلف نامہ پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کرنے کی ناکام کوشش کی گئی جس کی تفصیل انہوں نے اپنی آپ بیتی نما تصنیف ’ایک وزیر داخلہ کی ڈائری ‘ میں پیش کی ہے اور بہت جلد منظر عام پر آجائے گی۔ اس کے علاوہ دیویندر فڈنویس کے خلاف ہلہ بولنے والے این سی پی رہنما نواب ملک کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا۔ شیوسینا کے سنجے راوت کو بھی جیل کی ہوا کھلا کر ادھو ٹھاکرے پر دباو بنایا گیا۔
ادھو ٹھاکرے تو خیر نہیں ٹوٹے مگر اجیت پوار نے جیل جانے کے خوف سے پالا بدل کر بی جے پی کے خیمے میں آگئے۔ انہوں نے نواب ملک کو چھڑا کر بھی اپنے ساتھ کرلیا لیکن بدقسمتی سے یہ داوں الٹا پڑااور اب یہ دونوں بی جے پی کے الحاق ’مہا یوتی‘ کی خاطر مصیبت بنے ہوئے ہیں۔ اجیت پوارکو حصہ دینا مشکل ہورہا ہے کیونکہ ان کی جیت کا امکان مفقود ہے نیز نواب ملک کی حمایت کرنے میں بھی شرم آرہی ہے۔ اب نواب ملک کے خلاف مہا یوتی نے شیوسینا کے سابق کارپوریٹر سریش پاٹل کو اپنا امیدوار بنادیا ان کے سر پر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا تاکہ مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم کرکے گوونڈی سے موجودہ رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کو ہرایا جاسکے ۔ اس حلقۂ اسمبلی کے مسلمان اگر سمجھ جائیں گے کہ نواب ملک کو میدان میں اتارنے کا مقصد سریش پاٹل کو کامیاب کرکے ابوعاصم اعظمی کا گلا گھونٹنا ہے تویہ سازش ناکام ہو جائےگی۔ ویسے بی جے پی کے خیمے میں رہتے ہوئے نواب ملک وہ کردار کبھی بھی ادا نہیں کرسکیں گے جو ابوعاصم اعظمی صاحب ادا کرتے رہے ہیں۔
مہاراشٹر کے اندر فی الحال جو انتخابی جنون ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جملہ 2,938 ؍امیدواروں نے آخری دن اپنا نام واپس لیا حالانکہ 288نشستوں کے لیے اگر اتنے امیدوار میدان میں ہوتے تب بھی ایک سیٹ پر دس کا اوسط ہوجاتا جو بہت زیادہ ہے۔ لوگوں کو نامزدگی واپس کروانے کی خاطر جو مشقت کرنی پڑی اس کا اندازہ کرنے کے لیے شرڈی کی ایک مثال کافی ہے۔وہاں پر بی جے پی کے باغی ڈاکٹر راجندر پیپاڈا نے پارٹی کے نامزد امیدوار اور وزیر ِمحصول رادھا کرشنا ویکھے پاٹل کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ صوبے کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ بلکہ مستقبل میں وزیر اعلیٰ بننے کا خواب دیکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ایک خصوصی چارٹرڈ ہوائی جہاز بھیج کر پیاپڈا کو سمجھانے کے لیے اپنے پاس بلوایا مگروہ نہیں مانےاوراپنے فیصلے پر قائم رہے۔ اس کے باوجود ہنوز 4,140؍امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
سیاسی آرزو مندی کی بات کریں تو جھارکھنڈبھی پیچھے نہیں ہے بلکہ وہاں بھی 1211؍ امیدوار میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔ یہ تعداد بظاہر کم نظر آتی ہے مگر جملہ نشستوں میں بھی بہت بڑا فرق ہے ۔ ان دونوں مقامات کے اوسط کا موازنہ کیا جائے تو فی نشست اور 14سے زیادہ ہے مگر جھارکھنڈ کو مہاراشٹر پر آدھے فیصد کی سبقت حاصل ہے ۔ مہاراشٹر ہندوستان کی سب سے بڑی معیشت یعنی وہ پہلے نمبر پر ہے۔ قومی جی ڈی پی میں اس کا اپنا حصہ 14% ہے۔ اس کے مقابلے جھارکھنڈ 19 ویں نمبر پر آتا ہے اور اگر فی کس جی ایس ڈی پی دیکھیں تو 30ویں نمبر پر پہنچ جاتاہے۔ غربت و خوشحالی نیز ترقی و پچھڑے پن میں اس زبردست فرق کے باوجود سیاست کی دلچسپی کے معاملے میں کوئی کسی سے کم نہیں ہے۔یہ صورتحال باصر کاظمی کے شعرمیں ایک مصرع کی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
غربت کے باوجود سیاست بھی چاہیے
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...