Skip to content
جامعہ رحمانی ملک کا مرکزی و ممتاز اداراہ اور جامعہ کا شعبہ دار الحکمت ایک انقلابی پیش رفت: مولانا ثمیر الدین قاسمی، انگلینڈ
جامعہ رحمانی میں مولا نا موصوف کا دو دن قیام، اساتذہ و طلبہ کے درمیان اردو و عربی میں خطاب،جامعہ کے مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ
مونگیر (پریس ریلیز )
حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب مانچسٹر انگلینڈ بھارت کے دورے پر ہیں۔اس دوران وہ ملک کی عظیم تعلیمی و تحریکی ادارہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر پہنچے جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا، وہ جامعہ رحمانی مونگیر کے سابق استاذ حدیث بھی ہیں ، اس لئے بھی ان کو اس ادارہ سے بے پناہ لگاؤ ہے ، طے شدہ پروگرام کے تحت ظہر کی نماز کے بعد تخصصات اور علیا درجات کے طلبہ کے مابین مولانا موصوف کا قیمتی ، علمی محاضرہ ہوا ، پھر بعد نماز مغرب خانقاہ رحمانی کی مسجد میں جامعہ رحمانی کے تمام اساتذہ ، طلبہ اور منتظمین کے درمیان علمی خطاب ہوا ۔
مولانا موصوف نے اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر اور یہاں کے بزرگوں سے عقیدت و محبت اور ان کے خدمات کا ذکر فرمایا ، خصوصاً امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ اور مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانیؒ ور ان کے وقت جامعہ رحمانی میں موجود تمام علماء کرام کا ذکر خیر کیا ، اپنے تدریسی زمانے کے یادگار واقعات سے تمام سامعین کو خوب محظوظ فرمایا ، ساتھ ہی اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی کی موجودہ تعلیمی و تعمیری ترقی کو خوب سراہا اور فرمایا کہ موجودہ سرپرست محترم امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب اپنے آباء واجداد کی وراثت کو نہ صرف خوبصورتی سے سنبھالا ہے بلکہ اسے ہر دن ترقی بخشنے کے مشن میں رات دن محنت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو نظر بد سے بچائے اور ان کی عمر میں برکت دے۔
مولانا موصوف نے مزید فرمایا کہ وہ امیرشریعت کے کاموں سے بہت مطمئن ہیں، اور ان سے کافی توقعات وابستہ ہیں ، یقینا وہ ہر محاذ پر نمایاں کام کررہے اور امارت شرعیہ ، جامعہ رحمانی اور خانقاہ رحمانی مونگیر کو ترقی کی راہ پر لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ،اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو تقویت پہونچا رہے ہیں ۔مولانا نے سامعین کو مشورہ دیا کہ آپ حضرات مضبوطی سے ان کے کاموں میں ان کا تعاون کرتے رہیں ، ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں، جب بھی آواز دیں اس پر لبیک کہیں بزرگوں کی ان امانتوں کو مزید آگے بڑھانے کیلئے آپ حضرات ان کے دست و بازو بن کر کام کریں ۔ آپ کے خطاب سے قبل جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذ حدیث جناب مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی صاحب نے طلبہ کے درمیان مہمان مکرم کا تعارف کرایا اور جامعہ رحمانی کی حسن کارکردگی سے مہمان مکرم کو واقف کرایا ۔
مہمان مکرم نے جامعہ رحمانی کے تمام شعبہ جات خصوصاً دار الحکمت کا معائنہ کیا ، اس کے نصاب تعلیم کو دیکھا ، کتابوں کا جائزہ لیا ، یہاں کے عربی زبان میں طریقہ تدریس کی تفصیل معلوم کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس درسگاہوں میں جا کر طلبہ سے عربی زبان میں گفتگو کی ، طلبہ کو عربی میں نصیحت کی اور اس نظام کو دیکھ کر کافی خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ واقعی دار الحکمت تعلیمی میدان میں ایک بہت بڑا انقلاب ہے۔ اللہ اسے عام و تام کرے ، اس کے ساتھ شعبہ تخصص فی الافتاء ، شعبہ انگریزی اور شعبہ صحافت کو دیکھ کر مسرت کا اظہار فرمایا کہ یہ شعبے انتہائی اہم ہیں اور شعبہ صحافت جیسے شعبہ کا کسی مدرسہ میں ہونا وقت کی اشد اور اہم ضرورت ہے جس کی تکمیل امیر شریعت نے کی ہے جو قابل رشک اور قابل تقلید ہے۔
اس کے علاوہ انہو ں نے جامعہ رحمانی کے استاذ الاساتذہ اور مولانا موصوف کے پڑھانے کے وقت کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک حضرت مولانا عبد السبحان صاحب رحمانی مدظلہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کی اہلیہ جن کا چند دنوں قبل ہی انتقال ہوا اس پر تعزیت مسنونہ پیش کیا ، ساتھ ہی آپ نے شہر مونگیر کا قدیم ادارہ انجمن حمایت اسلام دلاور پور اور رحمانی فاؤنڈیشن مونگیر کا دورہ بھی کیا اور ان اداروں کی کارکردگی اور روز افزوں ترقی کو دیکھ کر سرپرست محترم حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی حسن کارکردگی کو خوب سراہا اور دعاؤں سے نوازا۔جامعہ رحمانی اور حضرت امیر شریعت کی سرپرستی میں چلنے والے تمام ادارے اور شعبوں کا تعارف کرانے اور اس کا معائنہ کرانےمیں جامعہ رحمانی کے استاذہ و کارکنان سرگرم رہے، جن میں مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری، حافظ امتیاز رحمانی، مولانا صالحین ندوی، فضل رحمٰں رحمانی،مولانا جاجی محمد عارف رحمانی، قاری تسلیم قاسمی قابل ذکر ہیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...