Skip to content
ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فتح اور اُسکے اثرات
ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی انتخابات جیت جاتے ہیں تو ان کی مشرقِ وسطیٰ اور بھارت کے ساتھ پالیسی ممکنہ طور پر ان کی سابقہ انتظامیہ کی پالیسیوں کی عکاسی کرے گی،ذیادہ تبدیلیاں اچانک نہیں ہونے والی ،جس میں موجودہ جغرافیائی حالات کے مطابق کچھ تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی امریکی مفادات کو ذیادہ ترجیح دیتی رہی ہے، جس میں اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ وہ علاقے میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے حامی رہے ہیں اور معاشی و اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جنگ بندی کی ضرورت کو مزید نمایاں کیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے ماضی میں جنگ بندی کی بات کی ہے، ان کا مؤقف عام طور پر اتحادیوں کے تحفظ پر مرکوز ہوتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ عہدہ سنبھالتے ہیں تو جنگ بندی کی کوشش ممکنہ طور پر اس شرط پر ہوگی کہ یہ خطے میں استحکام اور ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے جیسے امریکی مفادات کے مطابق ہو۔ ٹرمپ ابراھیم accord کو بڑھا سکتے ہیں تاکہ عرب اسرائیلی تعاون کو فروغ دیا جا سکے
جہاں تک بھارت کے ساتھ تجارتی پالیسی کا معاملہ ہے تجارت کے معاملے میں، ٹرمپ ہمیشہ تجارتی خسارے کو کم کرنے اور منصفانہ تجارت کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔( ابھی بھارت سے برآمدات ذیادہ ہو رہی ہیں)اپنی پچھلی مدت میں، انہوں نے بھارت سے امریکی کمپنیوں کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی فراہم کرنے پر زور دیا تھا۔ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو ممکنہ طور پر ٹرمپ اسی طرح کے اقدامات کا مطالبہ کریں گے، جس میں امریکی مصنوعات اور کمپنیوں کے لیے مزید مارکیٹ رسائی کی خواہش ہوگی۔ ان کا مقصد بھارت کے ساتھ تجارتی خسارے کو کم کرنا ہوگا، اور وہ زراعت، فارماسیوٹیکل، اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں محدود تجارتی معاہدہ کر سکتے ہیں۔
دفاعی پالیسی
ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکا اور بھارت کے دفاعی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس میں 2020 میں بی سی اے (Basic Exchange and Cooperation Agreement) جیسے معاہدے شامل ہیں، جو دفاع کے شعبے میں جغرافیائی ڈیٹا شیئرنگ کو فروغ دیتے ہیں۔ ٹرمپ چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے بھارت کو اہم اتحادی سمجھتے ہیں اور بھارت کی دفاعی ترقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکا-بھارت دفاعی شراکت کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس میں اسلحہ کی فروخت میں اضافہ، مشترکہ فوجی مشقیں، اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔
مختصراً یہ کہ ٹرمپ کی ممکنہ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے خطے میں جنگ بندی کی کوششیں کرے گی۔ بھارت کے حوالے سے ٹرمپ کی توجہ تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور دفاعی تعاون کو گہرا کرنے پر مرکوز ہوگی تاکہ چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے مشترکہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...