Skip to content
مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات: مسلمانوں کے لیے حکمت عملی پر مبنی ووٹنگ کی ضرورت
ازقلم: شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کئی منصوبے سامنے آئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ تشویشناک وقف املاک کے حوالے سے پیش کردہ بل ہے۔ یہ بل اگر منظور ہوجاتا ہے تو اس سے وقف املاک پر بڑا اثر پڑے گا۔ تاہم، خوش قسمتی سے بی جے پی لوک سبھا میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اس بل کو پاس نہیں کروا سکی ہے۔ اس میں ایک بڑا کردار مہاراشٹر کے حالیہ انتخابی نتائج کا بھی ہے، جہاں مسلمانوں نے یو بی ٹی (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور کانگریس/این سی پی اتحاد کی متحدہ حمایت کی۔ ان نتائج نے بی جے پی کو ایک بڑا دھچکا دیا اور ان کے منصوبوں پر روک لگائی۔
بی جے پی/آر ایس ایس کو شکست دینا اولین ترجیح
موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے امیدواروں کو شکست دیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ووٹنگ حکمت عملی سے کی جائے اور مسلمانوں کو چھوٹے اور نام نہاد مسلم امیدواروں یا آزاد امیدواروں کو ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ مثال کے طور پر، اورنگ آباد اور مالیگاؤں جیسے شہروں میں درجنوں مسلم امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ لیکن ایسے امیدواروں کو ووٹ دینا بکھری ہوئی حمایت کا باعث بن سکتا ہے اور اس کا براہِ راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان ایسے امیدواروں کو ووٹ دیں جو بی جے پی کو شکست دینے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر یو بی ٹی یا کانگریس کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ پچھلے انتخابات میں ان کی حمایت سے بی جے پی کے خلاف مؤثر نتائج حاصل ہوئے تھے۔
موجودہ حالات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے یو بی ٹی، شرد پوار کی این سی پی اور کانگریس سب سے مضبوط سیاسی جماعتیں ہیں۔حالانکہ اس اتحاد نے مجموعی طور پر مسلمانوں کو نظر انداز کیا ہے، مسلمانوں میں انڈیا اتحاد کے تئیں ناراضگی بھی پائی جاتی ہے انہوں نے آبادی کے تناسب سے مسلم امیدوار نہیں دیئے ہیں مسلمانوں کو اجتماعی حکمت عملی بنائے اور اپنی نمائندگی بڑھانے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئے ،ان جماعتوں نے ماضی میں بھی مسلمانوں کی حمایت حاصل کر کے بی جے پی کی مخالف سیاست کو تقویت دی ہے۔ اس لیے مسلمان ووٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان جماعتوں کے مضبوط امیدواروں کو ووٹ دیں، جو بی جے پی کے امیدواروں کے مقابلے میں کامیابی کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔
مگر کچھ نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم اور سماج وادی پارٹی کے امیدوار جیتنے کی اچھی پوزیشن میں ہیں، جیسے کہ 4 سے 8 نشستیں جہاں ان کی کامیابی کے امکانات مضبوط نظر آتے ہیں۔ ان نشستوں پر ان جماعتوں کو ووٹ دینے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ قدم تب ہی اٹھانا چاہیے جب مسلم تنظیمیں اور مہاراشٹر ڈیموکریٹک فرنٹ ان جماعتوں کے امیدواروں کی حمایت کی باقاعدہ اپیل کریں۔ ان تنظیموں کی حمایت سے ان امیدواروں کو کامیاب بنانے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے، جو بی جے پی کے خلاف مضبوط متبادل ثابت ہوں۔
اگر بی جے پی مہاراشٹر کے انتخابات میں جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ یونیفارم سول کوڈ، این آر سی، اور وقف پراپرٹی بل میں ترامیم جیسے اقدامات پر غور کرسکتی ہے۔ یہ ترمیمات مسلمانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور وقف املاک کے بڑے حصے کو سرکاری قبضے میں لے سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم ووٹرز حکمت عملی سے کام لیں اور ایسے چھوٹے اور بے اثر آزاد امیدواروں کی حمایت سے گریز کریں جن کی جیت کا امکان کم ہو اور جن کے ووٹ بکھر کر بی جے پی کے حق میں جا سکتے ہیں۔
مسلم سماج کو اس وقت انتہائی ہوش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ متحدہ اور مؤثر ووٹنگ سے ہی بی جے پی کے ممکنہ نقصان دہ اقدامات سے بچا جا سکتا ہے۔ حکمت عملی سے ووٹ ڈالنے سے بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنایا جا سکتا ہے جو مسلمانوں کے حقوق اور وقف املاک کی حفاظت میں معاون ثابت ہوگا۔ اس لیے یو بی ٹی، کانگریس اور این سی پی کے امیدواروں کو ووٹ دینا مسلمانوں کے حق میں ایک بہتر حکمت عملی ہوگی، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم اور سماج وادی پارٹی کے ان امیدواروں کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے جن کی جیت کے قوی امکانات ہیں۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...