Skip to content
جمعہ نامہ: ہم ملے ہیں تو ظلم بکھرا ہے،باعث انتشار ہے وحدت
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
خدائے برحق سےہمکلام ہونے کا شوق حضرت موسیٰ ؑ کو قبل از وقت کوہِ طور پر لے گیا توان سے پوچھا گیا :’’اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ؟‘‘ اُنہوں نے عرض کیا ” وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے‘‘۔ ایسے میں انہیں آگاہ کیا گیا ’’اچھا، تو سنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا‘‘۔ بعد میں جب ’ موسیٰؑ سخت غصّے اور رنج کے عالم میں اپنی قوم کی طرف پلٹے اور جا کر اُس نے کہا :”اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟” توقوم نے جواب دیا "ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہُوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا” پھر اس طرح سامری نے بھی کچھ ڈالااور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی‘‘۔
عصرِ حاضر کے سامری یعنی یوروپی اقوام نے یہودیوں کے لیے سرزمین فلسطین پر اسرائیل نام کا ایک ملک بنا یا تو صیہونی پھر بچھڑے کی طرح اس پر فریفتہ ہوگئےاوردورِ موسوی کی مانند پکار اٹھے تھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا‘‘۔ اس گمرہی پر تنبیہ کی گئی تھی کہ : ’’ کیا وہ نہ دیکھتے تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟ ہارونؑ پہلے ہی ان سے کہہ چکے تھے کہ "لوگو، تم اِس کی وجہ سے فتنے میں پڑ گئے ہو، تمہارا رب تو رحمٰن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو‘‘۔ دنیا بھر کے غیر صیہونی مذہبی یہودی آج بھی اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہیں مگر اُن سے کہہ دیا جاتا ہے کہ "ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آ جائے” ۔ اپنی قوم سے خطاب کے بعد موسیٰؑ اپنے بھائی سے مخاطب ہوکر بولے "ہارونؑ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟”
اسرائیلی حکمرانوں کے لیے اس سوال کے جواب میں درسِ عبرت اور انجام ِ بد کی پیشنگوئی ہے ۔ ہارونؑ نے جواب دیا "اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا” ۔ اس جواب سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے بھائی ہارونؑ کو قوم میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی جوتلقین کی تھی اس کے پیش نظر حضرتِ موسیٰؑ کی واپسی تک فتنۂ سامری کو برداشت کیا گیا۔ ہوسِ اقتدار میں اسرائیلی حکمرانوں کی خانہ جنگی اس تعلیم کو بھی فراموش کرنے کا ثبوت ہے ورنہ دوران جنگ کوئی وزیر اعظم اپنے وزیر دفاع کو ایسے وقت میں برخواست نہیں کرسکتا جبکہ غزہ سے لے کر لبنان تک ہر محاذ پر اسرائیل شکست سے دوچار ہے۔ یہ باہمی تصادم اسرائیل کی تباہی کا پیغام بر ہے؟ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کوبرطرف کرتے ہوئے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ’’ جنگ کے انتظام پر ہم متفق نہیں ہیں‘‘ اور الزام لگایا ہے کہ’’ گیلنٹ نے ایسے بیانات دیئے اور کارروائیاں کیں جو کابینہ کے فیصلوں کے خلاف تھیں‘‘۔
نیتن یاہو نے اپنے دستِ راست گیلنٹ پر اسرائیل کے دشمنوں کی بالواسطہ مدد کرنے کا بہتان بھی جڑ دیا۔ اس کے مطابق :’’ یوو گیلنٹ عوام کے سامنے ناقابل قبول انداز میں پیش ہوئے۔ یہی نہیں دشمن کے سامنے آ گئے۔ دشمنوں نے اس کا خوب فائدہ اٹھایااور وزیر دفاع کے ساتھ اعتماد کا بحران فوجی کارروائیوں کو متاثر کرنے لگا‘‘یہ باتیں اس شخص کے بارے میں کہی جارہی ہیں کہ جو اپنی برطرفی کے بعد ایکس پر لکھتا ہے:’’ اسرائیل کی سلامتی ہمیشہ ان کی زندگی کا مشن رہے گا‘‘ وہ اپنی برطرفی کی تین وجوہات بتاتا ہے۔ قدامت پسند حریدی فرقہ کے جنگ میں حصہ لینے سے استثنیٰ کے وہ مخالف تھے مگر حریدیوں نے نیتن یاہو کو بلیک میل کرکےانہیں ہٹوا دیا۔ ایسے وقت میں جبکہ اسرائیل فوجیوں کی کمی کا سامنا کررہا ہے حریدیوں کا جنگ سے فرار ازخود شرمناک ہےکجا کہ اس کی حمایت میں وزیر دفاع کو برطرف کردیا جانا۔ نیتن یاہو کو گیلنٹ سے یہ پریشانی بھی تھی کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے حماس کو غزہ میں قبول کرنے پر راضی ہیں اور 7؍ اکتوبر حملے کی سرکاری تحقیقات پر اصرار کرتے ہیں۔ نیتن یاہو اس لیےگیلنٹ کا دشمن ہوگیا کیونکہ اس معقول موقف سےاس کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہے ۔
تقریباً ڈیڑھ سال قبل متنازعہ عدالتی ترامیم کے خلاف مظاہروں کے بعد بھی گیلنٹ کو ہٹایا گیا تھا، تاہم عوامی دباو میں واپس لایا گیا مگر اب جنگ کے بیچ میں اس تباہ کن حرکت کو دوہرایا گیا ۔ اسرائیلی جنگی کونسل کے سابق رکن بینی گینٹز کے مطابق ریاستی سلامتی کی قیمت پر گیلنٹ کو سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھادیا گیایعنی نیتن یاہو نے قومی سلامتی پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی ۔ عام حالات میں بھی آپسی سرپھٹول نقصان دہ ہے اور حالتِ جنگ میں تو اس کی تباہ کاری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اہل ایمان کو اس سے بچنے کی تلقین کرنےوالافرمانِ قرآنی ہے :’’اور اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں ایران و سعودی عرب نے اپنے اختلافات کو مٹا کر مشترکہ بحریہ مشق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں دست و گریباں دشمن کو شکست دینے میں یہ اتحاد و اتفاق معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
Like this:
Like Loading...