حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی کاجسد خاکی بادیدہ نم سپرد لحد
احاطہ درگاہ شریف میں والد محترم کے پہلو میں سپرد خاک،تقدس مآب حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی نے نماز جنازہ پڑھائی،
علماء مشائخ،سیاسی،علمی شخصیات کے علاوہ ہزاروں سوگواروں کا ہجوم
گلبرگہ 7/ نومبر (کے بی این ٹی نیوز):

ساقیٔ خم خانۂ چشت تقدس مآب حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب قبلہ، سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ و بانی چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ و صدر نشین خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کے جسد خاکی کو آج احاطہئ درگاہ شریف میں ان کے والد گرامی غفران مآب حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی کے پہلو میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں بادیدہ نم سپرد خاک کیا گیا۔قبل ازیں نماز مغرب مسجد درگاہ شریف میں ادا کی گئی۔بعد نماز مغرب نماز جنازہ تقدس مآب حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ نے پڑھائی۔
نماز جنازہ میں ڈاکٹر سید مصطفی الحسینی خلف اصغر حضرت سید شاہ خسرو حسینی صاحب علیہ الرحمہ و خانوادہ بندہ نواز کے شاہ زادے،حضرت سید شاہ تقی اللہ حسینی صاحب قبلہ، خانوادہ بندہ نواز کے اراکین، جناب میر صدر الدین علی خان، میر رؤف علی خان، مفتی خلیل احمد صاحب امیر جامعہ نظامیہ حیدرآباد،مولانا سید اکبر نظام الدین صاحب سجادہ نشین بارگاہ حضرت شاہ خاموشؒ، مولانا سید ظہیر الدین قادری صاحب سجادہ نشین درگاہ حضرت شجاع الدین،مولانا حضرت سرکار پاشا سجادہ نشین بیجاپور،مولانا سید تنویر ہاشمی،درگاہ ہاشم پیر بیجاپور،مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی صدر مفتی و شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد، مولانا سید حیدر پاشا قادری نیلنگہ شریف، حضرت سید شاہ حسن شبیر حسینی صاحب قبلہ،سجادہ نشین بارگاہ حضرت گنج بخشؒ،حضرت سیدنظام بابا،حضرت ندیم بابا، حضرت اویس بابا کے علاوہ خانوادہ گنج بخش کے تمام شاہ زادے،مولانا سید ابو تراب قادری سجادہ نشین ہلکٹہ شریف،مولانا سید لیاقت حسینی صاحب رضوی سجادہ نشین درگاہ حضرت امر اللہ شاہ مغل پور ہ حیدرآباد،ڈاکٹر شاہ محمد افضل الدین جنید ی سجادہ نشین بارگاہ شیخ دکنؒ،حضرت سید محمد ہاشم پیر سجادہ نشین بارگاہ تیغ برہنہؒ صدر قاضی سید حسام الدین بیدر، سی ایم ابراہیم، مولانا وقار اشرفی، حضرت سید شاہ اسد اللہ قادری سجادہ نشین بارگاہ حضرت ابوالفیض بیدر،جناب وہاب عندلیب،اسد علی انصاری صدر تعمیر ملت گلبرگہ، قاضی رضوان الرحمن مشہود صدر بہمنی فاؤنڈیشن،علاء الدین محمد اکبر سکریٹری بہمنی فاؤنڈیشن،مولانا سید یوسف حسینی صاحب گوگی شریف،علمائے جامعہ نظامیہ مولانا حافظ سید احمد غوری نائب شیخ الفقہ،مفتی سید واحد علی صاحب نائب مفتی، مولانا خالد علی قادری نائب شیخ الادب،مولانا سلمان سہروردی و دیگر،الحاج سید محمد چندا حسینی،سید محمد سعد الدین احمد قادری بارگاہ میراں حسینی بغدادی لنگر حوض،الحاج سید محمد محمد گیسودراز حسینی صاحب سجادہ نشین متولی بارگاہ حضرت سید خواجہ حسین شاہ ولی ؒ حیدرآباد،مولانا سید عبدالرشید، مولانا محمد تنویر احمد اشرفی،صدر مدرس دارالعلوم بندہ نوازیہ کے علاوہ اساتذہ دارالعلوم مولانا فضل احمد سہروردی،مفتی سید عبدالروف،مولانا غلام احمد اشرفی، مولانا حافظ محمد سلیم،میر ولایت علی،سید واجد ایڈووکیٹ، محمد عبدالباسط،محمد حبیب احمد، ڈاکٹر قمر الدین قاسمی،محمد اعجاز، ڈاکٹر اطہر معز، مشتاق احمد سہروردی، ڈی سی سی کے صدر جگدیو گتہ دار،بلراج گتہ دار،فراز الاسلام کے علاوہ پروفیسر علی رضا موسوی وائس چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی،پروفیسر اے ایم پٹھان سکریٹری جنرل خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی،پروفیسر دیا نند اگسر وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ،جناب سید ناصر حسین صاحب رکن راجیہ سبھا،جناب الیاس احمد اسامدی اسسٹنٹ ریجنل کمشنر،جناب بسوراج ایس دیش مکھ سکریٹری شرن بسویشور ودیا وردھک سنگھ گلبرگہ،سیشل جی نموشی، جناب واحد علی فاتحہ خوانی، مظہر عالم خان، الیاس باغبان،زید الاسلام، ریجنل کمشنر کرشنا باجپائی،ڈپٹی کمشنر محترمہ فوزیہ ترنم،بھونیش دیوی داس،بھنور سنگھ مینا،پروفیسر عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اُردو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، امجد جاوید،کمشنر آف پولس ڈاکٹر شرنپا ایس ڈی،ڈی سی پی کونیکا سیکروال،ایس پی اڈارو سری نواسلوکشور بابو،اسماعیل شریف اے سی پی،اے سی پی بھوتے گوڑا،اے سی پی چندر شیکھر و دیگر پولس عہدیداران موجود تھے۔صدر صوفہ حویلی میں پولس گارڈ نے حضرت قبلہ کے احترام میں سلامی پیش کی۔
حضرت سید شاہ خسرو حسینی علیہ الرحمہ کل6/ نومبر 2024ء بروز چہارشنبہ، تقریباً رات 11:00بجے خالق حقیقی سے جاملے۔ انتقال کے وقت حضرت قبلہ کی عمر مبارک 80برس تھی۔ کل بروز چہارشنبہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب قبلہ کے وصال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سوشل میڈیا اور دیگرتیز تر ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیل گئی۔ اطلاع ملتے ہی اطراف و اکناف سے معتقدین کا ایک جم غفیرصدر صوفہ حویلی دیوڑھی میں جمع ہو گیا۔کل رات بھر حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کا جسد خاکی عام دیدار کے لیے صدر صوفہ حویلی میں رکھا گیا۔عام دیدار کا سلسلہ آج بروز جمعرات دن بھر جاری رہا۔ آج صدر صوفہ حویلی پہنچ کر حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کے جانشین تقدس مآب حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ اور ڈاکٹر سید مصطفی الحسینی صاحب قبلہ سے تعزیت کرنے والوں کا تانتا سا بندھ گیا۔رکن پارلیمان حیدرآباد اسد الدین اویسی حیدرآباد سے صدر صوفہ حویلی پہنچے اور تقدس مآب حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ سے ملاقات کی اور انھیں پُرسہ دیا۔بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب قبلہ کی علمی و سماجی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انھیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ ریاستی وزراء ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل اور پریانک کھرگے نے صدر صوفہ حویلی پہنچ کر حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ کی ڈھارس بندھائی اور اپنے دکھ و غم کا اظہار کیا۔ان کے ہمراہ رکن پارلیمان گلبرگہ رادھا کرشنا ڈوڈمنی اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ پوجیہ ڈاکٹر شرن بساپا اپاجی پیٹھادی پتی شرن بسویشور مندر گلبرگہ نے اپنے تعزیتی پیام میں جو انھوں نے روزنامہ کے بی این ٹائمز کو ای میل کیا حضرت قبلہ کو اس شہر میں امن و امان کا مینار قرار دیتے ہوئے ان کی تعلیمی و علمی و تدریسی و غیر تدریسی خدمات کے علاوہ کھیل کود میں گلبرگہ کے نام کو ملک کے نقشے میں ابھارنے پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔پیٹھا دی پتی اپاجی اور ودیا وردک سنگھ کی ماتو شری ڈاکٹر دکشیانی اوواجی نے بھی حضرت قبلہ کے وصال کرجانے پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ گلبرگہ کی روحانی و علمی فضا کے لیے کافی غم ناک ہے۔
۰۱/ستمبر ۵۴۹۱ء کو حیدر آباد میں حضرت سید شاہ خسرو حسینی علیہ الرحمہ کی پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ۵۶۹۱ء میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد سے گریجویشن کی تکمیل کی اور دو سال بعد ۷۶۹۱ء میں ایم۔اے عربی میں کامیابی حاصل کی۔ ۶۷۹۱ء میں میک گِل یو نیورسٹی کیناڈا سے اسلامک اسٹڈیز اور صوفی ازم میں تخصص کر کے ایم۔ اے کی ڈگریاں حاصل فر مائیں۔ تصوف کے مو ضوع پر حضرت کے گراں قدر تحقیقی کام پر بِیل فورڈ یونیورسٹی امریکہ نے انہیں پی۔ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری تفویض کی۔ 2004ء میں اسی یونیورسٹی نے اسلامک اسٹڈیز (صوفی ازم) پر ان کی خدمات کو تحقیقی کارنامہ قرار دیتے ہوئے ڈِی لٹ (ڈاکٹر آف لٹریچر) کی اعلیٰ ترین ڈگری عطا کی۔ جبکہ 18/فروری 2008ءمیں تعلیمی اور فنی خدمات کے پیش نظر آپ کو گلبرگہ یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف لٹریچر کے اعزاز سے نوازا۔ نصر ایجوکیشن سو سائٹی خیرت آباد کے بورڈ آف ڈائرکٹر س میں آپ ۵۸۹۱ء سے شامل رہے تھے۔ سہ ماہی تحقیقی رسالہ اسلامک کلچر”حیدر آباد کے ۴۸۹۱ تا ۶۸۹۱ آپ ڈائرکٹر رہے اور ۶۸۹۱ سے ۶۹۹۱ تک اس رسالے کی مجلسِ ادارت کے رکن بھی رہے۔ ۵۶۹۱ء سے رسالہ شہباز آپ کی ادارت میں تا حال شائع ہوتا رہا اورسید محمد حسینی گیسو دراز اکیڈمی درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ گلبرگہ شریف کے زیر ِ اہتمام اس رسالہ کی اشاعت عمل میں آئی جس میں عرس شریف کے سمینار میں ہر سال پڑھے گئے مقالے اشاعت پذیر ہو تے ہیں اوران کی کوششوں سے ملک بھر میں صوفی ادب کی اہمیت و افادیت میں اضافہ محسوس کیا گیا۔ آپ نے اُردو روزنامہ ” کے۔ بی۔ این ٹائمز“ کی اجرائی کی جانب دلچسپی دکھائی جو گذشتہ سترہ برسوں سے مسلسل اشاعت پذیر ہے۔ حضرت سید شاہ خسرو حسینی صاحب علیہ الرحمہ کر نا ٹک وقف بورڈ میں دو سال تک رکن کی حیثیت سے مصروف رہے۔
