Skip to content
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار: تحفظات اور مستقبل کی راہیں
تحریر: شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
الحمدللہ، فی الحال علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار برقرار ہے، لیکن اس فیصلے نے کچھ ایسے منفی پہلو بھی اجاگر کیے ہیں جو یونیورسٹی کے امن و سکون کو درہم برہم کرنے کے لیے مستقل خطرے کی گھنٹی ہیں۔
پہلا منفی پہلو یہ ہے کہ جج صاحب نے یونیورسٹی کی تاسیس کے حوالے سے ایک نیا سوال اٹھا کر قانونی پیچیدگیوں کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو مستقبل میں کسی بھی وقت دوبارہ چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ چیف جسٹس چندرچوڈ نے اگرچہ یونیورسٹی کو اقلیتی کردار عطا کیا ہے، مگر اس میں ایک ابہام شامل کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ بات شامل کی کہ یونیورسٹی کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونا ضروری نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یونیورسٹی میں ہندو مینجمنٹ شامل ہو سکتی ہے، جو اندرونی طور پر یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو سبوتاژ کرنے کے مواقع حاصل کر سکتی ہے۔ یعنی نام تو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی رہے گا، مگر انتظامیہ غیر مسلم ہو سکتی ہے، جو ایک تشویشناک پہلو ہے۔ اسی طرح وقف بورڈ میں بھی غیر مسلم انتظامیہ لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
چیف جسٹس چندرچوڈ صاحب نے اپنے فیصلے میں کہ کی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے مسئلے کو ایک مستقل بینچ کے سامنے اس بات کے تعین کے لیے چھوڑا جا رہا ہے کہ آیا اسے اقلیت نے قائم کیا تھا یا نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "یہ ضروری نہیں کہ اقلیتی کردار کو ثابت کرنے کے لیے ادارے کا انتظام اقلیتوں کے ہاتھ میں ہونا لازم ہو۔”
اگر جج صاحب چاہتے تو ایک صاف فیصلہ دے سکتے تھے اور مسلمانوں کے پیسے سے بنائے گئے ادارے کو اقلیتی ادارہ تسلیم کر سکتے تھے، مگر ان الفاظ نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو مستقبل میں سیاست کا شکار بنانے کا جواز فراہم کر دیا ہے۔
علیگ برادری دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے، اور اگر یہ متحد ہو کر عالمی سطح پر ایک مضبوط لابنگ کرے تو یونیورسٹی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملی قیادتوں جیسے جمعیت علمائے ہند، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، اور بڑی درگاہوں کے ذمہ داران کا اتحاد نہایت ضروری ہے۔ اگر یہ قائدین پوری تیاری اور عزم کے ساتھ اس مسئلے پر لابنگ شروع کریں تو نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو، اور یہاں تک کہ بعض بھاجپا کے رہنما بھی یونیورسٹی کے حق میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہر ایلکشن کے موقع پر اس موضوع پر سیاسی جماعتوں سے کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔
جس طرح وقف بورڈ کے لیے کوششیں کی گئی ہیں، اگر اسی طرز پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحفظ کے لیے حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی جائے تو اس کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے خود یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو تسلیم کیا ہے، اب صرف کچھ پالیسیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف حکومتوں سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر اس وقت داؤدی بوہرہ جماعت کے سربراہ ہیں۔ اگر بوہرہ کمیونٹی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے، تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا۔
یہ معاملہ دانشمندانہ لابنگ، صحت مند گفت و شنید، اور حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر مسلمانوں کے دانشور اور بااثر طبقے نے اس معاملے پر توجہ دی تو یہ ایک بڑی ملی خدمت ہوگی۔ اگر اس چور دروازے سے دشمن یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا، تو اس کے بعد ذہانت کے ساتھ ساتھ شجاعت اور قربانیوں کی بھی ضرورت پیش آئے گی۔
مسلم جماعتوں اور قیادت کو کسی بھی سیاسی اتحاد میں شمولیت سے قبل یہ معلوم کرنا چاہیے کہ متعلقہ سیاسی جماعت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے حوالے سے کیا موقف رکھتی ہے۔ اس کے بعد ہی اتحاد کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ، مسلم سیاسی جماعتوں کو تعلیم میں ریزرویشن کے حصول کے لیے ایک منظم تحریک کا آغاز کرنا چاہیے، جو پورے ملک میں چلائی جائے۔ اس کا آغاز مغربی بنگال، آسام اور کیرالا سے بآسانی کیا جا سکتا ہے۔
Like this:
Like Loading...