Skip to content
تلنگانہ میں خاندانوں(مردم شماری)کا گھر گھر سروے. افراد کے ساتھ ملی اداروں کی دینی ذمہ داری
از:مفتی انعام الحق قاسمی حیدرآباد
ریاست تلنگانہ میں مردم شماری کا عمل اس وقت مسلم اقلیت کے لئے کئی اعتبارات سے نہایت ہی اہم ترین موقع ہے، اس کے بہت ہی دور رس وسیع اور عمیق نتائج سامنے آئیں گے، سر دست ہم صرف تین پہلووں پر بات کریں گے۔
ریاست میں ملی آبادی کے تناسب کا تعین
پہلی بات تو یہ کہ ریاست میں مسلمانوں کی موجودہ متعین آبادی کا تناسب ریکارڈ میں آنا ضروری ہے۔ کیونکہ ریاست میں آبادی کے تناسب کے معلوم ہونے سے ہی دیگر طبقات کے ساتھ مسلمانوں کے بھی سماجی، معاشی، سیاسی حقوق اور حصہ داری کا تعین ہوگا۔ حکومتی اسکیمات میں اسی تناسب کے ریکارڈ سے مسلم اقلیت کے حقوق حاصل ہوں گے، اس لئے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ اس سروے میں پورے اہتمام سے حصہ لے ، اور اسی طرح ملی جماعتوں کی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اثر میں اس سروے کے دوران ترجیحا اس سروے میں عوام الناس کی مدد کے لئے خود کو وقف کریں، یہ نجی طور پر ملت کےلئے کئے جانے والے ہزاروں رفاہی کاموں سے زیادہ نافع عمل ہے، اس سروے کے نتیجہ میں جو سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق ملت کو دیگر طبقات کے ساتھ حاصل ہوں گے اس درجہ کے مفادات ملت کے نجی رفاہی و فلاحی ادارے ملت کے متوسط اور متمول طبقہ کو تو دور کمزور طبقہ کو بھی نہیں دے سکتے۔
طبقاتی مردم شماری اور ریزرویشن
دوسری بات یہ کہ اس سروے کو ’’ذاتوں / طبقات کی مردم شماری (Caste Census) ‘‘سے جوڑا جا ر رہا ہے، اور ملک میں فرقہ پرست طاقتیں جو مرکز اور دیگر جگہوں پر اقتدار میں ہیں ، انہیں مردم شماری کا یہ عنوان یعنی ’’طبقاتی مردم شماری (Caste Census) ‘‘ سخت نا پسند ہے، لیکن یہ عنوان ان کی گلے کی ہڈی بن گیا ہے، باوجود نہ پسند ہونے کے ملک کی اکثریت کے دباؤ میں وہ مختلف ریاستوں میں اس عنوان کے سروے کی مخالفت نہیں کر پارہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے مستقبل میں فرقہ پرستوں کے نتیجۃً سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر اقلیت میں دھکیلے جانے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں، یہ فوراً تو نہیں ہوگا لیکن بتدریج یہ طبقاتی مردم شماری بہت دور رس نتائج لے کر آئے گی، اس عنوان کے سروے کے اصل محرک ملک میں ایس سی، ایس ٹی ، اور او بی سی ہیں، اور ان طبقات کے مفادات اس سروے سے غالب طور پر ابھریں گے، اور فرقہ پرستوں کو یہ پہلو ہضم نہیں ہوتا ہے۔
جہاں تک رہا مسلمانوں کا اس عنوان سے سروے کا تعلق تو اس کو سماجی پسماندہ طبقاتی تقسیم کے حوالہ سے نہیں بلکہ معاشی پسماندگی کے حوالہ سے دیکھنا چاہئے۔ اسلام طبقاتی تقسیم کا قائل نہیں ہے، جیسے دیگر اقوام میں اس تقسیم سے بہت ظلم ہوئے ہیں، اسلام اس ظلم کا سخت مخالف ہے، ذات پات، اور اونچ نیچ کو اسلام ختم کرتا ہے، اور مسلمانوں میں کوئی طبقاتی تقسیم نہیں ہے، ملت میں اشراف و اراذل کی جو تعبیر مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی ہے وہ بعض معاشروں میں پیشہ کے لحاظ سے کبھی پیدا کی گئی تقسیم تھی جس کا کوئی دینی پس منظر نہیں ہے، اور ویسے بھی علماء دین اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔
البتہ مملکت پر رعایا کے ہر طبقہ کے حقوق کی حفاظت کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس پس منظر میں مسلمان پچھلے ۷۵ سال میں ایک سازش کے نتیجہ میں خاص طور سے معاشی طور پر بد ترین طور سے کچلے گئے ہیں، اور ملت کو حکومتی سطح پر مملکتی وسائل سے الگ سے محروم کیا گیا ہے، جب اس کا سچر کمیٹی سے انکشاف ہوا تب ان کے معاشی تحفظات کےلئے آواز لگائی گئی اور اب مسلمانوں کے لئے غالب طور پر BC-E زمرہ میں ریزرویشن کے مواقع نکالے گئے ہیں، اس کا سماجی اونچ نیچ کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ معاشی طور پر پس ماندہ طبقہ کے حقوق کے تحفظ کا زمرہ ہے۔ مسلمان ریزرویشن کے معاملہ میں غالب طو رپر اسی BC-E کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ کچھ دیگر زمروں (BC-A اور BC-B)سے بھی ان کے پیشوں کے لحاظ تعلق رکھتے ہیں۔
مسلم اقلیت کے بی سی کے ان زمروں میں اندراج کے حوالہ سے اس سروے کی یہ اہمیت ہے کہ ریاست میں مستقبل میں تعلیم، روزگار، صحت، اور حکومتی تمام اسکیمات میں تحفظات سب اس سروے سے جڑے رہیں گے، اور پھر یہ بات ہے کہ نجی طو رپر ملت چندوں سے کتنے ہی رفاہی کام کرتی ہو، حکومتی سطح پر ان ریزرویشن سے ملت کو جو فائدہ حاصل ہوتا ہے نجی اداروں سے اس کا تناسب سمندر اور قطرہ کا ہے۔ اس لئے اس سروے میں ہر فرد حصہ لے اور ہر ملی جماعت، اور ملی درد رکھنے والے اصحاب اس سروے میں ملت کے ہر فرد کے اندراج کے لئے خود کو وقف کردیں۔
سروے کا مستقبل میں سیاسی نمائندگی سے تعلق
تیسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ سروے مسلمانوں کی مستقبل میں سیاسی نمائندگی حقوق کو بھی طے کرے گا، ملک میں اب یہ مسلّمہ بیانیہ بن گیا ہے کہ جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری، یہ نعرہ نہ صرف معاشی مساوات بلکہ سیاسی نمائندگی کے حق سے بھی جڑا ہوا ہے، اس وقت ملک میں وارڈ اور پنچائیت سے لے کر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی کے لئے مسلم امیدوار نہیں پہنچائے جا رہے ہیں، پارٹیاں مسلمانوں کو ٹکٹ دینے کی روا دار نہیں ہیں، بلکہ مسلمانوں سے ووٹ حاصل کرنے کےلئے بھاگ دوڑ کرنے والی پارٹیاں اور لیڈر الیکشن کے بعد مسلمانوں سے ملاقات سے تک گریز کرتے ہیں اور کررہے ہیں، اس چلن کو بدلنے کےلئے اور اپنی اہمیت کا احساس دلانے اور اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے جس ہمہ جہتی محنت کی ضرورت ہے اس کا ایک حصہ اس سروے میں بھرپور حصہ لے کر مسلم آبادی کے تناسب کو ریکارڈ کرانا بھی ہے ، تاکہ حکومت اور سیاسی پارٹیاں مسلم اقلیت کی سیاسی نمائندگی کے حق کو سنجیدگی کے ساتھ محسوس کرے۔
ملت کی موجودہ آبادی کا تناسب تخمینہ کی شکل میں اداروں کے پاس ہے، لیکن اس سروے سے موجودہ تناسب متعین طور پر سامنے آئے گا، نیز اس سروے کی اہمیت یہ ہے کہ اس تناسب کی شرح قانوناً اور حکومتی سطح پر مسلم ہوگی ،اور یہ سب سے اہم بات ہے، دوسرے تناسب کے پیمانے صرف تخمینے ہوں گے، جن کی بنیاد پر حقوق طے نہیں ہوتے، حقوق کے تعین کےلئے سرکاری اعداد و شمار کی اہمیت ہوتی ہے۔
اس اعتبار سے بھی اس سروے میں حصہ لینا کوئی انفرادی پسند اور اختیار کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ملی ذمہ داری ،اور دینی فریضہ ہے، اس سے ریاست بلکہ ملک بھر میں ملت اسلامیہ کے مفادات جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ مستقبل میں ایک ایک ریاست کے تناسب کے ریکارڈ سے ہی پورے ملک کی آبادی کا تناسب بھی طے ہوگا، اس لئے اس سروے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی دینی فریضہ میں کوتاہی اور گناہ ہوگی، یہ ملک و ریاست میں ملت کے مفادات کے خلاف کوتاہی اور جرم شمار ہوگی، اس لئے انفرادی طور پر ہر فرد اور اجتماعی طور پر ملی ادارے اس سروے کے دوران دیگر کاموں کے مقابلہ میں اپنے تمام وسائل اور افراد کو اس سروے کے کام میں تعاون کے طور پر جھونکیں، اور شہر اور منڈ ل کی سطح پر نہیں بلکہ ہر بستی اور ہر محلہ ، حتی کہ ہر گلی کی سطح پر ہر فرد کے سروے میں شامل ہونے اور کسی ایک فرد کے بھی اس نہ چھوٹنے کو یقینی بنانے کے لئے تعاون کرنے آگے آئیں اور ہر سطح پر اس تعاون کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی منصوبہ بندی کی جائے۔ اللھم وفقنا لما تحب و ترضی۔
Like this:
Like Loading...