Skip to content
امیر شریعت رابع کےایک بصیرت مندانہ فیصلے سے امارت شرعیہ کی نشأة ثانیہ
ازقلم: ارشد رحمانی
میں اس کے لئے تیار ہوں کہ ہماری گردنیں اڑادی جایں، ہمارے سینے چاک کر دئیے جائیں، مگر ہمیں یہ برداشت نہیں کہ ’’مسلم پرسنل لا ‘‘ کو بدل کر ایک ’’غیر اسلامی لا ‘‘ ہم پر لاد دی جائے ہم اس ملک میں با عزت قوم اور مسلم قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہیں
بھارت جیسے کثیر المذاھب ملک میں شریعت کے تحفظ کے لئے ایسا نعرہ لگانے والی شخصیت حضرت امیر شریعت رابع رحمتہ اللہ علیہ کی تھی اور ان کے اس نعرہ نے ملک کی بر سر اقتدار جماعت کو گھٹنہ ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا، آپ نے اپنی جوانی میں جب ملک کی آزادی کے لئے جیل کی صعوبت برداشت کی اور وہاں جب آپ سے ملنے آپ کے خویش و اقارب تشریف لے گئے اور پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت ہے تو آپ نے فرمایا کہ کسی چیز کی ضرورت نہیں بس اتنا کام کر دیجئے کہ ہمیں اتنا کپڑا لاکر دیجئے کہ ہم ہاف پینٹ کے بجائے ستر پوشی کے ساتھ نماز پڑھ سکیں،
آپ کی شخصیت ہی تھی کہ جب ڈوری کا قانون لایا گیا اور اس میں جہیز کے ساتھ مہر کو بھی جرم قرار دیا گیا تو آپ نے اسمبلی میں شریعت کا موقف اتنی مضبوطی کے ساتھ پیش کیا کہ مہر کو اس ایکٹ سے مستثنیٰ کرنا پڑا، جب انکم ٹیکس کا قانون لایا گیا اور وقف کی جائیداد پر بھی ٹیکس نافذ کیا گیا تو آپ نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اس خلاف آواز اٹھائی اور وقف کی جائیداد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کروایا، یہ چند مثالیں ہیں ورنہ تو آپ کی پوری زندگی اس طرح کے کاموں سے عبارت ہے ۔
خانقاہ رحمانی مونگیر کی چٹائی پر بیٹھ کر تزکیہ نفس کا جو تاریخی کارنامہ انجام دیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا ہزاروں نہیں لاکھوں بھٹکے ہوئے لوگوں کی آپ نے ایسی تربیت فرمائی کہ وہ اپنے وقت کے انسان کامل بنے اور معاشرے میں انقلابی خدمت انجام دی، اور جب آپ امیر شریعت منتخب ہوئے تو پھر آپ نے جو نمایاں کردار ادا کیا وہ چند جملوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمہ اللہ نے اپنے ایک جامع مضمون میں لکھا ہے,, حضرت مولانا سید شاہ منت اللّٰہ رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ امارت شرعیہ بہار واڈیشہ کے پروقار متحرک اور فعال امیر شریعت ، خانقاہ رحمانی کی مسند رشد و ہدایت کے لائق ترین اور بافیض سجادہ نشیں ، جامعہ رحمانی کے بانی و سرپرست ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے روح رواں وجنرل سکریٹری ، لاکھوں متوسلین خانقاہ کے مرشد ومربی ،
ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کی دینی و ملی خدمات کے ترجمان ، علماء حق کی صف میں ایک اعلیٰ اور ممتاز مقام رکھنے والے اپنے اسلاف و اکابر اور اپنے والد بزرگوار حضرت مونگیری رحمہ اللہ کی سیرت و کردار اور اخلاق و عادات کے آئینہ دار ، اعداء دین کی سازشوں کو سمجھنے والے باطل کے حملوں کے مقابلے میں سینہ سپر رہنے والے، فرقہ وارانہ یک جہتی کے سچے داعی، ملک اور اس میں بسنے والے تمام باشندوں کی فلاح کے خواہاں، ایک ایسا مرد مجاہد جس نے جہاں ملک کی آزادی کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی وہاں ملک کی آزادی کے بعد ببانگ دہل اعلان کر دیا
*کہ اگر آزاد ہندوستان میں مذہب کو غلام بنایا گیا تو اس کے لئے بھی اسی طرح جد وجہد کریں گے جیسے ملک کی آزادی کے لئے کیا*
آگے لکھتے ہیں کہ امیر شریعت رابع نے اپنی دانشمندی رواداری اور حکیمانہ طرزِ عمل سے مسلمان کی تمام جماعتوں اور مختلف گروہ کو بلا تفریق مسلک و مشرب تحفظ شریعت تحریک میں ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا،انہوں نے اپنی زندگی کے پورے انیس سال شریعت اسلامی کے تحفظ اور اس راستہ میں اپنی صحت کا پرواہ کئے بغیر مسلسل جہاد میں گزار دئیے،،
امیر شریعت سادس اپنے مضمون کے اگلے حصے میں لکھتے ہیں کہ 6/جون 1965ء میں عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی اور اسرائیل نے مصر و شام اور فلسطین واردن کے بہت سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا ، اس واقعہ نے تمام عالم اسلام اور مسلمانوں پر گہرا اثر ڈالا اور ان کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی، حضرت امیر شریعت رابع 25/جون کو پٹنہ تشریف لائے عربوں کی حمایت میں بیان دیا اور ان کی امداد و اعانت کی اپیل کی ، لوگوں کی طرف سے اس کا بڑا خیر مقدم ہوا 6/اگست 1965کو امارت شرعیہ نے ایک عظیم الشان فلسطین کانفرنس منعقد کی جس میں مصر کے سفیر جمال مناع علی اور شام کے سفیر عمیر ابو ریشہ نے بھی شرکت کی،
کانفرنس انجمن اسلامیہ ہال پٹنہ میں منعقد ہوئی جہاں تل رکھنے کی بھی گنجائش نہیں تھی، مصر و شام کے سفراء نے نہایت پر جوش خطاب کیا، حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب نے ان کی عربی تقریر کا برجستہ اتنا عمدہ اور سلیس ترجمہ فرمایا کہ حاضرین پر خاص تاثر اور کیفیت طاری ہو گئی یہ دیکھ کر سفیر مصر نے ان کو گلے سے لگا لیا اس کانفرنس نے امارت کے وقار میں خاصا اضافہ کیا اس مختصر مدت میں امارت نے ایک لاکھ روپے کا انتظام کیا اور عرب سفراء کے حوالے کیا، *حقیقت یہ ہے کہ یہ کانفرنس امارت کی نشأة ثانیہ کے لئے سنگ میل ثابت ہوئی اور امیر شریعت رابع کے بروقت فیصلہ کی صلاحیت اور رائے کی اصابت کا اندازہ ہوا*
مضمون کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ امیر شریعت رابع کا 34/سالہ دور امارت شرعیہ کے لئے نہایت روشن تھا جس میں امارت کے تمام کارکنان نے ایک ٹیم بن کر کام کیا اور آپ کی ہدایات کی روشنی میں جدید عمارت بنی، ٹیکنیکل سینٹر اور اسپتال بنا، اخیر دور میں بھاگلپور کے فساد کے موقع سے وہاں باز آباد کاری کا کام کیا اور اس کے لئے حضرت نے بنفس نفیس ایک ماہ سے بھی زیادہ دفتر امارت میں قیام فرمایا، یہ آپ کے پورے دور امارت میں سب سے طویل قیام تھا۔
25/26/سال کی رفاقت میں میں نے قریب رہ کر آپ کو دیکھا آپ کی مردم شناسی ، کام لینے کی غیر معمولی اور خصوصی صلاحیت،اوقات کی تنظیم اور پابندی ، قوت فیصلہ، کارکنان پر اعتماد و بھروسہ ، رفقاء کے ساتھ حسن سلوک اور نماز با جماعت کا اہتمام آپ کے خصوصی اوصاف تھے جو اس درجہ کم لوگوں میں پائے جاتے ہیں، معاملات کی صفائی میں آپ کا خاص وصف تھا،
امارت شرعیہ کے بیت المال سے کبھی کوئی رقم آپ نے اخراجات سفر کے لئے نہیں لیا، دفتر آمد و رفت کا خرچ خود ہی برداشت کرتے اور خانقاہ میں جب بھی شوریٰ کا اجلاس یا کوئی اجتماع امارت کی دعوت پر بلایا اس کا خرچ خود آپ نے پورا فرمایا، دفتر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے انچارج بیت المال سے اپنا حساب طلب فرماتے ۔(متاعِ امیر)
بہر حال امیر شریعت رابع کی پوری زندگی شریعت کی حفاظت، خلق خدا کی خدمت اور ملک وملت کی تعمیر وترقی کے لئے وقف رہی اور رمضان المبارک کے مبارک لمحات میں اس دار فانی کو الوداع کہا، اللّٰہ تعالیٰ ہم جیسے گنہگاروں کو بھی ان کے چھوڑے ہوئے نقوش پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین یارب العالمین
Post Views: 38