Skip to content
ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں مدارس کا ناقابل فراموش کردار:امیر شریعت
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کا سالانہ اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، اجلاس میں ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مندوں کی شرکت
مونگیر10نومبر( ایجنسیز)
مدارس اُس تعلیمی مشن کا نام ہے جہاں ملک کے ساڑھے چار فیصد لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا جاتا ہے۔اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مدارس نے جو رول ادا کیا ہے اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی، اللہ کا فضل ہے کہ جامعہ رحمانی بھی ان تعلیمی اداروں میں ہے جس کا مشن ہی تعلیم کا فروغ، اصلاح نفس اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی ہے اور الحمدللہ یہ ادارہ اپنے مشن میں کل بھی کامیاب تھا اور آج بھی کامیاب ہے اور آئندہ بھی رہے گا ان شاءاللہ۔ ان خیالات کا اظہار امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے سالانہ اجلاس دستاربندی کے موقعہ پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حالات حاضرہ کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وقف ترمیمی بل 2024 پر مدلل روشنی ڈالی اور واضح طور پر فرمایا کہ یہ بل جمہوری تقاضوں کے خلاف اور ظلم پر مبنی ہے اسے کسی بھی صورت میں مسلمان قبول نہیں کرسکتے، اس سلسلہ میں مسلم پرسنل بورڈ ، امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی سمیت متعدد ملی تنظیموں اور خانقاہوں کی طرف سے مسلسل تحریک جاری ہے ، اور اس بل کے خلاف اس وقت تک تحریک جاری رہے گی جب تک کہ یہ بل مسترد نہ ہو جائے ۔
اپنے خطاب کے آخری مرحلے میں حضرت امیر شریعت نے علماء و حفاظ اور ان صحافیوں کو نصیحت کی جن کے سروں پر دستار باندھی گئی اور سند سے نوازا گیا۔
حضرت امیر شریعت نے ان علماء کرام کو جن کے سروں پر دستار فضیلت باندھی گئی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فارغین علماء کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے جو علم حاصل کیا ہے وہ حق کو پھیلانے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ہے لہذا اسی کو اپنی زندگی کا مشن بھی بنانا چاہیے۔
وہ حفاظ جن کے سروں پر دستار باندھی گئی انہیں نصیحت کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ یہ انتہا نہیں ہے۔ یہ تو ایک ابتدا ہے،آگے منزلیں اور ہیں جنہیں آپ حضرات کو طے کرنا ہے اور اپنے اندر کمال پیدا کرنا ہے۔حضرت نے جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت سے عالمیت کے ساتھ ابلاغ عامہ و صحافت کا یک سالہ ڈپلومہ کورس مکمل کر کے سند حاصل کرنے والے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک سال کا کورس مکمل کر لینا کافی نہیں ہے، اس لائن میں سیکھنے اور برتنے کو بہت سی چیزیں ہیں طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی صحافتی استعددا کو پختہ کریں اور اپنی سیکھی ہوئی چیزوں کو برتتے رہیں۔
حضرت امیر شریعت سے قبل مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ جو اس ملک کا سب سے مضبوط متحدہ پلیٹ فارم ہے جس نے ہر نازک موڑ پر اسلامیان ہند کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ اس بورڈ کے قیام سے لے کر اس کی تعمیر و ترقی اور اس کے استحکام میں خانقاہ رحمانی کے بزرگوں کا کلیدی کردار رہا ہے ۔
نائب امیر شریعت جناب مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب نے اپنے خطاب میں خانقاہ رحمانی کے ہمہ جہت خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں کے سجادگان کی دو خصوصیتیں بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہیں جو آپس میں تقریباً متضاد سمجھی جاتی ہیں وہ یہ کہ یہاں کے بزرگوں نے جس طرح خلوت گاہوں کو آباد رکھا اور اوراد و وظائف کا اہتمام رکھا اسی طرح جب میدان میں آنے کی ضرورت پڑی تو پیچھے نہیں رہے۔ تاریخ کے اوراق اس کے گواہ ہیں۔
جامعہ رحمانی کے استاذ جنا مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی نے اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی کی عظیم خدمات کی مختصر مگر جامع جھلکیاں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کی عظیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارہ علم و عمل اور دین و دنیا کے امتزاج کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ یہاں کی ہر صبح تابندہ اور ہر شب زندہ آباد ہے۔انہوں نے یہاں کے تمام شعبہ جات کا مختصر تعارف پیش کیا اور اس کی کارکردگی سے عوام کو با خبر کیا۔
جامعہ رحمانی کے ناظم جناب الحاج مولانا حاجی محمد عارف صاحب رحمانی نے ادارہ کا سالانہ بجٹ پیش کیا اور جامعہ رحمانی کے بہی خواہوں کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ یہ ادارہ محض اللہ کے فضل اور آپ حضرات کی توجہات کے نتیجہ میں کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے۔
جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے خانقاہ رحمانی اور اس کے سجادگان کی تعلیمی، تحریکی، اصلاحی تمام کوششوں کا مختصر خاکہ پیش کیا اور فرمایا کہ خانقاہ رحمانی ملک کی وہ زندہ خانقاہ ہے جس کی نظیر کم ملتی ہے اور یہاں طریقت کے ساتھ ساتھ سنت و شریعت بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔
جناب مولانا ریاض احمد صاحب قاسمی استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر نے تحفظ اوقاف اور حضرت امیر شریعت کی خدمات پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امارت شرعیہ کی عظیم خدمات اور خانقاہ رحمانی کا امارت کو تعاون اپنی تابندہ تاریخ کے ساتھ آج بھی زندہ ہے۔ اس موقعہ پر حضرت امیر شریعت نے پورے ملک میں لوگوں کو جس طرح بیدار کرنے کا منظم نظام تیار کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
علماء کرام کے خطابات کے علاوہ اس موقع پر جامعہ رحمانی کے ایک اہم شعبہ عربک میڈیم دار الحکمت کے الصف السادس کے طالب علم عبید الرحمٰن نے عربی زبان میں تقریر کر کے سامعین و حاضرین کو محظوظ کیا۔ اسی شعبہ اور اسی درجہ کے طالب علم محمد منہاج نے انگریزی زبان میں ظلم کی مذمت اور غزہ کی مظلومیت پر شاندار خطاب کیا وہیں سال ہفتم عربی کے طالب علم محمد نوازش نے وقف ترمیمی بل پر انگریزی زبان میں شاندار خطاب کیا۔
اس موقعہ پر خصوصیت کے ساتھ جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت نے جامعہ رحمانی کی عظیم تاریخ اور موجودہ جامعہ رحمانی کو خوبصورت ویڈیو میں پیش کیا، جسے اجتماع میں پروجیکٹر پر دکھایا گیا۔ جس سے سامعین و حاضرین کے چہروں پر فرحت و مسرت نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔ساتھ ہی جامعہ رحمانی کے زیر اہتمام چلنے والے یوٹیوب چینل فکر و نظر آفیشئل کا نام بدل کر فکر و نظر ٹی وی کرنے کا اعلان کیا گیا اور نئے لوگو کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ فکر و نظر ٹی وی کے ویب پورٹل کی بھی رونمائی کی گئی۔
ویڈیو دکھانے سے قبل جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی نوجوان صحافی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے شعبہ کی کارکردگی بیان کی اور کہا کہ مدارس کے نظام میں پہلی دفعہ طلبہ مدارس نے مین اسٹریم میڈیا کی طرح صحافتی خدمات کا آغاز کیا ہے جس سے ملک کے ہر مسلمان کو جڑنا چاہیے اور طلبہ مدارس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
اس موقع پر جامعہ رحمانی سے فارغ ہونے والے 36 علماء اور 65 حفاظ کے سروں پر دستار باندھی گئی اور شعبہ صحافت کے 14 طلبہ کو سند سے نوازا گیا۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مولانا قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ ان کے بعد مشہور نعت خواں جناب مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہ رسالت مآبﷺ میں نعتیہ اشعار پیش کئے۔
جامعہ رحمانی کے مختلف درجات کے طلبا نے جامعہ رحمانی کا ترانہ بہترین انداز میں پیش کیا۔
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال سالانہ اجلاس دستاربندی اور دعا کی تقریب کا اہمتام ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں فرزندان توحد شریک ہوتے ہیں۔
جامعہ رحمانی کے سالانہ اجلاس کی نظامت جامعہ کے اساتذہ جناب مولانا محمد نعیم صاحب رحمانی، جناب مولانا رضاء الرحمٰن صاحب رحمانی، جناب مولانا خالد صاحب رحمانی اور جناب مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی نے بحسن و خوبی انجام دیا۔
جب کہ اجلاس سے دو روز قبل سے ہی خانقاہ رحمانی کی روایت کے مطابق تلاوت قرآن اور کلمہ و استغفار کے ورد کی مجلسوں کا اہتمام شروع ہو گیا۔اس پروگرام کا انتظام و انصرام جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث جناب مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی اور جناب مولانا عبد الاحد صاحب رحمانی ازہری نے انجام دیا وہیں قرآ ن کی تلاوت اور کلمہ کے ورد کی مختلف مجلسوں میں جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری، جناب مولانا مفتی اظہر صاحب مظاہری، جناب مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی اور جناب مولانا عبدالاحد صاحب رحمانی ازہری نے اپنے پر مغز خطاب سے سامعین کو مستفیض کیا۔
اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا لطف اللہ صاحب رحمانی، امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی اور امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمہم اللہ کے بلندئے درجات، مسلمانوں کے تحفظ اور ملک کے امن و تحفظ کیلئے خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے خصوصیت کے ساتھ دعا کی جس میں خانقاہ رحمانی کے مریدین ، مخلصین اور محبین نے بڑی تعداد میں شرکت کیں۔
واضح رہے کہ اس موقعہ پر ہزاروں ہزار عقیدت مند خانقاہ رحمانی سے روحانی فیض پاکر واپس جاتے ہیں اور جن باتوں کی ہدایت انہیں دی جاتی ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...