Skip to content
ہیومن رائٹس واچ کا دعویٰ:
اسرائیل کو اسلحہ دے کر مغربی ملک جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں
لندن، 9نومبر (ایجنسیز)
انسانی حقوق کی عالمی تنطیم نے جمعہ کو کہا کہ وہ ریاستیں جو بین الاقو امی قانون کی خلاف ورزی کے شواہد کے باوجود اسرائیل کو غزہ اور لبنان میں جنگیں جاری رکھنے کے لیے اسلحہ فراہم کر رہی ہیں وہ دوسری جگہوں پر جنگجوؤں کو با اختیار بنا رہی ہیں۔”ہیومن رائٹس واچ” کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ترانہ حسن نے کہا کہ امریکہ، جرمنی اور برطانیہ اسرائیل کے اقدامات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور انہیں اسلحے کی فروخت کو ختم کر کے ایسا کرنا چاہیے۔خبر رساں ادارے، رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ”اگر اسرائیلی فوج کی حمایت جاری رہتی ہے اور مغربی حکومتوں کو اس بات کا علم ہو کہ یہ اسلحہ جنگی جرائم کے ارتکاب میں استعمال ہو رہا ہے تو پھر یہ بات اسلحے کی فروخت اور منتقلی کو روکنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر جب اسرائیل کی بات آتی ہے تو ایسے ملک جن کا کوئی اثرو رسوخ ہو اور جو تنازعہ میں شامل فریقوں کے رویہ کو روک سکیں تو یہ ملک امریکہ، برطانیہ اور جرمنی ہیں اور ایسا اسلحے کی فروخت اور منتقلی (روکنے) کے ذریعہ ممکن ہو گا۔اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ احتیاط برتتا ہے کہ شہریوں کو نقصان سے بچایا جا ئے۔ اسرائیل اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس نے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں بدسلوکی کا ارتکاب کیا ہے یا وہ جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں میں چھپے اپنے دشمنوں سے لڑ رہا ہے جس سے اس کے آپریشنز زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں اقدامات کر رہا ہے۔رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس نے اسرائیلی حکام سے ترا نہ حسن کے ریمارکس پر تبصرہ کرنے کو کہا ہے۔ترا نہ حسن نے کہا کہ ایسی ریاستیں جو دیکھتی ہیں کہ انسانی حقوق کی پامالی کے کوئی نتائج بھگتنے نہیں پڑتے تو وہ اسے اپنے اقدامات جاری رکھنے کیلئے حوصلہ افزائی سمجھتی ہیں۔بقول انکے اسلحہ فراہم کرنے والی حکومتیں بین الاقو امی قانون، انسانی حقوق اور عالمی نظام کی قابل اعتبار محافظ کے طور پر خود اپنی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
Like this:
Like Loading...