Skip to content
ریاست کرناٹک کی سدارامیا حکومت دلتوں اور اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام۔ ایس ڈی پی آئی عبدالمجید
میسور۔21جون (پریس ریلیز)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے ریاستی صدر عبدالمجید نے آج 21جون 2024 پارٹی کی 16ویں یوم تاسیس کے موقع پر پارٹی کی میسور ڈسٹرکٹ آفس میں پرچم کشائی کے بعد تمام لیڈران، کارکنان اور حامیان کو مبارکباد پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریاست کی موجود ہ کانگریس حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کرناٹک کی سدارامیا حکومت دلتوں اور اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اس سے قبل بومئی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے کس طرح مذہب پر مبنی انتظامیہ چلائی۔ خاص طور پر اس وقت کی بی جے پی حکومت، جس نے کھلے عام اپنے مسلم مخالف موقف کا اظہار کیا، حلال ذبح اور جھٹکا کٹ تنازعہ کی حوصلہ افزائی کی۔ حجاب پر پابندی لگا کر مسلمان طالبات کو تعلیم سے دور رکھا گیا۔
گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر حکومت نے مسلمانوں، دلت اور کسان طبقات کو نہ صرف نفسیاتی اور مالی طور پر پریشان کیا بلکہ انہیں ان کے کھانے کے حق سے بھی محروم کر دیا۔ مسلم طلباء کے مستقبل کو برباد کرنے کے لیے 2B ریزرویشن کو ختم کر دیا گیا۔ ریاست میں دلت مخالف مظالم بھی بڑھ رہے ہیں۔ بے روزگاری، دلت تشدد، اقلیتوں کے خلاف تشدد، خواتین کی حفاظت، مہنگائی، غربت۔ صحت وغیرہ…. مسائل میں پھنسے ریاست کے عوام بی جے پی سے تنگ آکر گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو زیادہ ووٹ دیکر سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ تو کیا کانگریس پارٹی ملک اور ریاست کے لیے متبادل ہے..؟ اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو کانگریس پارٹی متبادل نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ہمیں کانگریس کی تاریخ اور موجودہ سدارامیا حکومت کے طرز حکمرانی اور طرز عمل کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔
سدارامیا حکومت کی ناکامیاں
1)۔ 2Bریزرویشن
کانگریس حکومت، جو 2Bریزرویشن کو دوبارہ نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے، ریزرویشن سے متعلق عدالت میں زیر التواء سماعتوں کے بہانے مسلمانوں کے لیے 2B ریزرویشن کو منظم طریقے سے نافذ کرنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے، بلکہ ریزرویشن کو رنگاناتھ مشرا کمیشن کے تجویز کردہ 10%فیصد تک بڑھانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔
2)۔ فرقہ پرستی کے خلاف حکومت کی خاموشی
فرقہ پرست طاقتوں پر مجموعی طو رپر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کے علاوہ، سری رنگا پٹنہ میں ایک عوامی تقریب میں مسلم خواتین کے بارے میں برا بھلا کہنے والے کلڈکا پربھاکر بھٹہ کو گرفتار نہ کرنے کی وجہ حکومت کے نرم ہندوتوا رویے کو ظاہر کرتی ہے۔
3)۔بجٹ میں دھوکہ دہی
سال 24۔2023کے بجٹ کی رقم 3.25 لاکھ کروڑ ہے۔ اس میں سے صرف 2,105 کروڑ اقلیتوں کی بہبود کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ (ایس ڈی پی آئی نے 10 ہزار کروڑ کا مطالبہ کیا تھا)۔فروری 2024 کی رپورٹ کے مطابق اتنے کم بجٹ کی رقم میں سے بھی، اقلیتوں کی بہبود پر صرف 450 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ 25۔2024کے بجٹ کے 3.71 لاکھ کروڑ روپے تھے۔ اس بھاری بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے صرف 3,480 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
4)۔حجاب کی بحالی
جب بی جے پی سرکار نے حجاب پر پابندی لگائی تھی۔ ڈی کے شیوکمار نے کانگریس قائدین سے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر بات نہ کریں۔ کانگریس لیڈروں نے شیوکمار کی ہدایت کے سامنے جھک کر خاموشی اختیار کر لی۔ حال ہی میں سدارامیا نے ایک بیان دیا تھا کہ حجاب پر پابندی واپس لے لی جائے گی۔ لیکن جیسے
ہی بی جے پی نے اس کی مخالفت کا اظہار کیا اس نے یو ٹرن لیا۔ سدو حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حجاب پر پابندی فی الحال واپس نہیں لی جائے گی۔
5)۔گائے کے ذبیحہ کی پابندی کا قانون
05 جون 2023 کو داونگیرے ہیلی پیڈ پر نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ کابینہ جلد ہی گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے قانون کو واپس لینے پر تبادلہ خیال کرے گی اور فیصلہ کرے گی۔ اس بیان کو 11 ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب تک گائے کے ذبیحہ پر پابندی واپس نہیں لی گئی ہے۔
6)۔مسلم اراکین اسمبلی نے ڈی جے ہلی اور کے جے ہلی اور ہبلی واقعات میں ملوث بے قصوروں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کے لیے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی تک اس کے بارے میں نہیں سوچا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس کا جواب دے اور تمام مقدمات واپس لے۔ کانگریس حکومت نے اپوزیشن کے خوف سے بے گناہوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
7)۔ذات پات کی مردم شماری کی رپورٹ
حکومت نے 154 کروڑ کی لاگت سے سروے کی گئی ذات پات کی مردم شماری رپورٹ کو قبول کرنے میں کانگریس میں اعلیٰ ذات کے رہنماؤں کی مخالفت کی وجہ سے تاخیر کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے احتجاج کے بعد آخر کار حکومت نے رپورٹ کو قبول کر لیا۔ لیکن مذکورہ رپورٹ کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ مردم شماری کی رپورٹ کی اہمیت کو سمجھنے کے باوجود کانگریس حکومت صرف اپنے سرکردہ لیڈروں کے دباؤ میں آکر مظلوم طبقہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔
8)۔کیا کانگریس پارٹی اسرائیل کی حامی ہے؟۔
کانگریس حکومت نے فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف نہ صرف مقدمات درج کیے بلکہ ریاستی حکومت نے انھیں فلسطین کے لیے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایک نوجوان کو اپنے فیس بک پر یہ پوسٹ کرنے پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا کہ وہ فلسطینیوں کا حامی ہے۔ کیا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کانگریس پارٹی اسرائیل کی حامی ہے؟۔
9)۔چامراج نگر آکسیجن سانحہ
چامراج نگر میں آکسیجن کی کمی سے ہونے والی اموات کے سلسلے میں، یہاں تک کہ راہول گاندھی نے خود متاثرین سے مشورہ کیا اور ریاست کرناٹک میں کانگریس کی حکومت آنے پر متاثرین کو انصاف اور معاوضہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن وہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ حکومت نے ایس ڈی پی آئی پارٹی کے مسلسل دباؤ کے بعد متاثرین میں سے صرف چند کو آؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر عارضی ملازمتیں دی گئیں۔ مستقل سرکاری نوکری کب دیں گے؟ تباہی کے ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟ حکومت مظلوموں کے اس سوال کا جواب کب دے گی؟۔
10)۔پراجوال ریونا معاملہ
ہاسن کے ایم پی پراجول ریونا کا سیکس اسکینڈل 22 اپریل کو سامنے آیا تھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی کیونکہ حکومت نے 26 اپریل تک، یعنی کرناٹک میں ایم پی کے انتخابات مکمل ہونے تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایس ڈی پی آئی نے سب سے پہلے پریس کانفرنس
منعقد کی اور اس گھوٹالے کے خلاف شکایت درج کروائی، جس کے بعد ریاست بھر میں احتجاج ہوا۔اس طرح کے کئی واقعات پر سنجیدگی سے نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ عوامی حکومت ہونے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس کی یہ حکومت کتنی غیر مقبول ہے۔ کانگریس مظلوم طبقات کیلئے نہ تو حل ہے اور نہ ہی متبادل ہے۔
ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالمجید نے پارٹی کارکنان اور لیڈران کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرضی سیکولر اور فرقہ پرست پارٹیوں کو ہٹا کر ریاستی اور قومی سطح پر ایک متبادل سیاسی نظام قائم کیا جانا چاہئے۔ کانگریس جو مظلوم طبقات کے ووٹ حاصل کرکے اقتدار میں آئی ہے وہ مذکورہ برادریوں کے لیے کھڑی نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی مذکورہ برادریوں اس سے ایسا مطالبہ کرتی ہیں۔ اگر ہمیں ان کا متبادل بننا ہے تو ہمیں اور زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی اور پارٹی کیلئے مزیدکام کرنا پڑے گا۔ ابھی تک ہماری پارٹی سے منتخب ایم ایل اے یا ایم پی نہیں ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سماج نے ہمیں یا ہماری کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔
لوگوں نے ہماری آواز پر ساتھ دیا ہے،ہماری مالی مدد کی ہے اور بلدیاتی انتخابات میں بھی حمایت کی ہے۔ ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے۔اگر ہماری کوششیں زیادہ موثر طریقے سے کی جاتی ہیں تو یقینا ہم آنے والے گرام پنچایت، تعلقہ پنچایت، ضلع پنچایت، کارپوریشن، بی بی ایم پی اور دیگر بلدیاتی انتخابات میں کامیابی دیکھیں گے۔ آئیے، سیاست کو بااختیار بنا کر بھو ک اور خوف سے آزاد سماج کی تعمیر کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔ کرناٹک کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایس ڈی پی آئی ایک متبادل اور نظریاتی سیاسی پارٹی ہے اور ملک و ریاست میں مظلوم طبقات کی واحد آواز ہے۔
Like this:
Like Loading...