Skip to content
ایران و سعودی : ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اسرائیل کا وزیر اعظم کی ایک ہفتے میں دوبار ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے گریہ و زاری کرنا شدیدپریشانی کی علامت ہے کیونکہ جس دن ریاض میں ایرانی نائب صدر رضا عارف نے او آئی سی اور عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کیا اس کے ایک دن قبل سعودی عرب کے چیف آف جنرل سٹاف فیاض بن حامد الرویلی تہران میں ایرانی ہم منصب میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات کرکے دفاع سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ ایران اور سعودی عرب کی قربت اسرائیل کے لیے سب سے بری خبر ہے ۔ ریاض میں اسلامی اور عرب تعاون تنظیم کے اجلاس کے آغاز میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے UNRWA کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو بھی فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کی ترغیب دی ۔محمد بن سلمان نے اسرائیل کے ایرانی سرزمین پر حملوں کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اسرائیل کو مزید جارحیت سے روکنے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے لبنان کی پر اسرائیل کے حملے کی مخالفت کرتے ہوئے اور اس جارحیت کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ۔
اس موقع پرایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے او آئی سی سربراہی اجلاس کے انعقاد پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہید سید حسن نصراللہ اور شہید یحییٰ سنوار سمیت راہِ مزاحمت کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں، ہم ظلم و جارحیت اور نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں اور مظلوم فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت پر زور دیتے ہیں‘۔ ایران کے نائب صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جبر و ظلم پر خاموشی اور ناانصافی سے بے حسی و بے عملی جنم لیتی ہے ۔ وہ بولے بے عملی ایک قسم کی اخلاقی کمزوری ہے جو مجرم کو زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ پچھلی صدی کی باقی رہنے والی اس بدترین برائی یعنی فلسطینی سرزمین پر خونریز قبضے اور ایک قوم کی نسل کشی پر خاموشی اختیار نہ کریں۔ رضا عارف کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے سے مقبوضہ فلسطین اور پچھلے ایک ماہ سے لبنان میں جاری شرمناک جارحیت صرف ایک نسل پرست قابض حکومت کی خونریزی اور سفاکیت کا نتیجہ نہیں بلکہ مجرموں اور سفاک درندوں کے عدم مواخذے کے احساس کا نتیجہ ہے ۔
او آئی سی اجلاس کے بعد ایرانی نائب صدر نے اپنے سعودی ہم منصب محمد بن سلمان کے ساتھ دو طرفہ خصوصی ملاقات میں باہمی تعلقات کے اندر مسلسل فروغ پر زور دیا ۔ یہ چوٹی کانفرنس امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں کی حمایت کے زیر اثر خود کو ہر قسم کے مواخذے سے بالاتر سمجھنے والے صیہونیوں پر شکنجہ کسنے میں اہم کردار ادا کرے گی ۔ سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں جس وقت یہ سفارتی کوشش جاری تھی اسی دوران ایران کے دارالخلافہ تہران کے اندر سعودی چیف آف جنرل سٹاف فیاض بن حامد الرویلی اپنے ایرانی ہم منصب میجر جنرل محمد باقری کےساتھ دفاع سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔اس دوران دونوں ممالک کے درمیان عسکری شعبوں پر بات چیت کی گئی ۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھاکر اسے مضبوط بنانے اور خطے کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر جنرل باقری نے سعودی بحریہ کے آئندہ سال بحری مشقوں میں حصہ لینے یا مبصر کی حیثیت سے شریک ہونے کی دعوت دی ۔
2016 میں منقطع ہونے والے سعودی عرب اور ایران کےسفارتی تعلقات مارچ 2023 میں بحال ہوئے اور کمال سرعت سے دفاعی تعاون تک پہنچ گئے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی براہ راست رابطے اور دورے ہو چکے ہیں۔ جنرل الرویلی نے تہران میں بیجنگ معاہدے کو ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بڑھانے کی ایک اچھی بنیاد بتایا ۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے سعودی عرب کو ایک سٹریٹجک موقع دیا ۔ سعودی جنرل کا تہران دورہ خطے کے حالات میں بہتری کی منادی ہے۔ ایران کی طرف سے بحری مشقوں میں شرکت کی دعوت علاقائی استحکام کے نئے امکانات روشن کرتا ہے۔ اس موقع پر جنرل باقری نے سعودی عرب میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس کو سراہا۔ باہمی تعلقات کو تقویت دینے کی خاطر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بھی ٹیلی فون پر فلسطین اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت پر بات چیت کے لیے عرب اسلامک سربراہ اجلاس کے انعقاد کی تعریف کی اوردوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔
مشترکہ عرب اسلامک اجلاس میں مسلم رہنماؤں کی توجہ کا مرکز غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت تھا ۔سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی فلسطینی اور لبنانی علاقوں میں بڑھتی ہوئی جارحیت نے ’عرب اور اسلامی رہنماؤں کو فوری اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے‘۔اس اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطین کی مکمل حمایت کا اعادہ کرنے کے ساتھ غزہ میں نسل کشی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ گذشتہ برس ۷؍ اکتوبر کو حماس کی کارروائی کے بعد سے فلسطین پر اسرائیلی حملوں نے مسلم ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ ادی۔ اس کے بعد پچھلے سال نومبر میں عرب اسلامک اجلاس کے اندر میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس وقت عرب اور مسلم رہنماؤں نے ایک وزارتی کمیٹی بنا کر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس طرح فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور غزہ میں ضروری خدمات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز کیا گیا۔
حالیہ 11 نومبر کے اجلاس میں جارحیت کو روکنا، شہریوں کا تحفظ، فلسطینی اور لبنانی عوام کو مدد فراہم کرنااور متحدہو کر بین الاقوامی برادری پر دباؤ ڈالنا کی ترجیحات شامل ہے ۔ ان کوششوں میں ایران کی شمولیت نے اسرائیل کے ہوش اڑا دئیے ہیں۔ 1948میں ہی اسرائیل کے ایران کے ساتھ تعلقات استوار ہوگئے تھے کیونکہ ترکیہ کے بعد ایران دوسرا اسلامی ملک تھا کہ جس نے یہودی ریاست کو تسلیم کرلیا تھا کیونکہ اُس وقت وہاں محمد رضا پہلوی کی بادشاہت تھی۔ ایک زمانے میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ایران ہوا کرتا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں یہودیوں کی سب سے زیادہ آبادی ایران کے اندر تھی ۔اپنے قیام کے وقت اسرائیل اپنی ضرورت کا 40 فیصد تیل ایران سے درآمد کرتا تھا اور اس کے عوض اسلحہ، ٹیکنالوجی اور زرعی مصنوعات فروخت کرتا تھا۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے شاہ ایران کی خفیہ پولیس ساواک کو تربیت دی تھی تاکہ اسلامی بیداری کو کچلا جائے ۔
1979 میں ایران کے اندر اسلامی انقلاب آگیا اور اس کے نتیجے میں شاہ ایران کواپنا تخت و تاج چھوڑ کر ملک بدر ہونا پڑا۔ اس ڈرامائی تبدیلی کے بعد اسرائیل اورایران کے تعلقات منقطع ہو گئے۔اسرائیل نے انقلاب کے بعد ایران کی اسلامی جمہوری ریاست کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے اس کو بیت المقدس پر قابض غیرقانونی ریاست قرار دے دیا۔ اس طرح ماضی کے اتحادی پچھلے45؍ سال سے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ ریاض میں عرب اسلامک غیر معمولی سربراہی اجلاس کے بعد عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے پریس کانفرنس سے خطاب میں امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جلد ہی اکثریتی ووٹ کے ذریعے اسرائیل کی رکنیت منجمد کر سکتی ہے۔ احمد ابوالغیط نےکہا، انہیں یقین ہے کہ بہت سارے ممالک رکنیت کو منجمد کرنے کی حمایت کریں گی حالانکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پیش نظر نہیں ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ’ سکیورٹی کونسل کو ہی اراکین کو نکالنے یا شامل کرنے حق رکھتی ہے لیکن یہ نکالنے یا شامل کرنے کی تجویز نہیں بلکہ صرف ر کنیت کو منجمد کرنے کی بات ہے‘ ۔ موصوف کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعہ اسرائیل رکنیت کے منجمد کرنا ایک ایسا قدم ہوگا جو چیزوں کو صحیح جگہ پر رکھ دے گا یعنی اسرائیل کو اس کی اوقات دکھا دے گا۔ اس پریس کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’ غزہ کے تنازعے اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی سرگرمیوں کی وجہ سے اب عالمی برادری کا اتفاق رائے بن رہا ہےاوراہم پیش رفت ہوئی ہے‘۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد کچھ بہت ہی اہم ممالک فلسطین کو تسلیم کرلیں گے۔
’حماس‘ نے اجلاس کے شرکاء سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک بین الاقوامی عرب اسلامی اتحاد تشکیل دیں جوغزہ کی پٹی اور لبنان میں نسل کشی کو روکنے کےلیے ٹھوس اور موثر اقدامات کرسکے۔ وہ اتحاد غزہ کا محاصرہ توڑنے، مقبوضہ علاقوں سےاسرائیلی بے دخلی، فلسطینی عوام کو ان کے حق خود ارادیت کے ساتھ بااختیار بنانے کے لیے بھی کام کرے۔ حماس نےیروشلم کی دارالحکومت والے مکمل طور رپر خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اورفلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانے پر زور دیا۔ حماس نے تمام عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض ریاست کا بائیکاٹ کریں۔ اسرائیل کے ساتھ کی جانے والی تعلقات کی استواری کے معاہدے منسوخ کردیں نیز بین الاقوامی فورمز پر اسرائیلی قیادت کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر توجہ دیں ۔ اتحادو اتفاق کا علمبردار یہ سربراہی اجلاس ضرور بار آور ہوگا۔ ان شا ء اللہ ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...