Skip to content
ظریفانہ: کٹیں گے تو بجیں گے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن سنگھ نے کلن مشرا سے کہایار یہ بتاو ضمنی انتخاب سر پر ہے اور بابا کا بلڈوزر خاموش ہے ۔ ایسے میں ہم الیکشن کیسے جیتیں گے ؟
کلن بولا بھیا وہ ایسا ہے کہ سپریم کورٹ نے بلڈوزر پر ہتھوڑا چلا دیا ۔ اس لیےبابا ڈر گئے ۔
کیا بکواس کرتے ہو ہتھوڑے کا نہ تو بلڈوزر پر کوئی اثر ہوتا ہے نہ بابا پر ۔ دونوں کی کھال بہت موٹی ہے۔
بھیا سپریم کورٹ نے جیب پر قینچی چلا دی ہے۔ اگر بابا جی نے کسی کی جائیداد پر الل ٹپ بلڈور چلایا تو پچیس لاکھ نقصان بھرپائی کرنی ہوگی ۔
للن بولا اچھا یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔
جی ہاں ان تمام مظلوموں کے لیے اس میں راحت ہے جن پر مو قع بےموقع بلڈوزر چلا دیا جاتا تھا اور سر سے چھت چھین لی جاتی تھی ۔
وہ تو ہے مگر اس مشکل میں بھی ہم جیسے لوگوں کے لیے موقع نکل آیا ہے۔ میرا مطلب ہے ’آپدا میں اوسر‘۔
یار یہ تو صرف ہمارے پردھان جی کے لیے ہوتا ہے۔ ان کے لیے اوسر ہی اوسر ہے اور ہمارے لیے آپدا ہی آپدا۔
للن بولا نہیں اگر ہم دماغ سے کام لیں تو ہمارے لیے بھی یہ ایک سنہری موقع ہے۔
وہ کیسے؟ میں نہیں سمجھا ۔
بھیا وہ ایسے کہ میری دوکان کا اگلا حصہ بہت ٹوٹ پھوٹ گیا ہے تو میں اس کو بنانے کے لیے پوری طرح توڑنے ہی والا تھا ۔
ہاں بھائی ہر تعمیر سے قبل کچھ نہ کچھ توڑ پھوڑ تو کرنی ہی پڑتی ہے۔
وہی تو! میں سوچتا ہوں کیوں یہ توڑ پھوڑ کا کام سرکاری بلڈوزر سے کروالوں ؟
ارے بھیا تم کون سے درباری آدمی ہو کہ سرکاری خدمت مفت میں مل جائے۔ نجی بلڈوزر ہو یا سرکاری کرایہ تو دینا ہی ہوگا۔
للن نے سوال کیا، اچھا ابھی تو تم نے کہا تھا کہ سرکاری خزانے سے پچیس لاکھ ملیں گے ؟
ارے بھیا وہ رقم تمہاری اپنی مرضی سے بلڈوزر چلوانے کے بعد تھوڑی نا ملے گی ؟ وہ تو جب ڈی ایم غیر قانونی بلڈوزر چلوائیں گے تب جاکر ملے گی
ہاں تو میں اپنے جمن شرما جی سے چلوادوں گا ۔ اس میں کون سی بڑی بات ہے؟
اچھا اس میں تمہاراتو بھلا ہوگا مگر ان کا کیا فائدہ ؟
ارے بھائی میرا جو فائدہ ہوگا میں ان سے بانٹ لوں گا ۔
پیسے ہی خرچ کرنے ہیں تو کرائے پر بلڈوزر منگوا لو۔ ان کو کیوں ملوث کرتے ہو؟
ارے بھیا میرے کرائے کے بلڈوزر سے پچیس لاکھ روپیہ تھوڑی نا ملے گا ؟ تم سمجھتے کیوں نہیں ؟؟
کلن نے سوال کیا اچھا اب سمجھا مگر کیا وہ تمہارے فائدے کے لیے اپنی نوکری کو کیوں خطرے میں ڈالیں ؟
بھیا نوکری کو کیا خطرہ ۔ سرکار تو اپنے ملازمین کی حمایت کرتی ہی کرتی ہے اور میں نے ابھی کہا نا کہ اپنا فائدہ بانٹنے کے لیے تیار ہوں ۔
یار للن تمہاری یہ جلیبی جیسی گول گول باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔
مشرا جی میں تو سمجھتا تھا کہ پنڈت بہت ذہین ہوتے ہیں۔ خیر سنو۔ میں پچیس لاکھ میں سے پانچ لاکھ ڈی ایم شرما جی کو دے دوں گا ۔
ارے تو کیا یہ رقم ان کے دفتر سے ملنے والی ہے؟ وکیل کرنا پڑے گا ۔ عدالت کے دھکےّ کھانے پڑیں گے۔
ہاں تو ویسے بھی آج کل دھندامنداہے خالی بیٹھے مکھی ماررہے ہیں اس لیے ایک آدھ لاکھ پر کوئی وکیل کرلیں گے۔
اوہو للن تم سمجھتے کیوں نہیں؟ فیصلہ وکیل نہیں جج کرتا ہے اور تم تو جانتے ہو عدالت میں تاریخ پر تاریخ پڑتی رہتی ہے۔
ہاں وہ تو ہے مگر اس تاریخ کا جغرافیہ بدلنے کے لیے جج صاحب کو تین چار لاکھ دے دیں گے کیا فرق پڑتا ہے۔ مالِ مفت دلِ بے رحم ۔
کلن نے کہا ہاں یار تب بھی تمہیں مودی جی والے پندر ہ لاکھ تو بچ ہی جائیں گے اوپر مفت میں دوکان کا فاضل حصہ بھی ٹوٹ جائے گا ۔
للن بولا یار مشرا جی تم بہت کوتاہ بین ہو۔سوشیل میڈیا پر دوچار لاکھ خرچ کرکے وہ تشہیرحاصل کروں گا کہ اگلا پردھانی کا چناو پکاّ سمجھو ؟
یار تم تو بالکل شیخ چلی بن گئے ۔ ہمارے گاوں سے راو قلندر سنگھ کو ہٹانا ناممکن ہے ۔ وہ اپنے خلاف سارے امیدواروں کو خرید لیتے ہیں ۔
ہاں یہ تو اور بھی اچھا ہے۔ میں بھی بک جاوں گا چار پیسہ مل جائے گا۔
کلن بولا بھیا میں تم سے ضمنی انتخاب میں پارٹی کی کامیابی کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو تم خود ہی مونگیری لال کے سپنے دیکھنے لگے ۔
بھائی دیکھویہ کام بابا جی کا ہے ۔ ان کے لیے کرو یا مرو کا معاملہ ہے۔ اس بار اگر وہ اپنے امیدوار نہیں جتا سکے تو ان کا پتاّ کٹ جائے گا ۔
کلن نے پوچھا کہ ان کا پتاّ کون کاٹ سکتا ہے وہ اس کا انکاونٹر کروا دیں گے ۔
للن بولا ان کو ہرانے والے بہت ہیں مثلاً موریہ اور ان کے آقا شاہ جی ۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ وہ ان کا پتاّ کٹ جائے ۔
اب سمجھا! میں تو سمجھ رہا تھا کہ ’بٹیں گے تو کٹیں گے ‘ کا تعلق مسلمانوں سے ہے ۔ بابا جی تو خوداپنی کٹائی سے بچنے کے لئے یہ دہائی دے رہے ہیں۔
ہاں بھائی آج کل وہ بہت دباو میں ہیں۔ باہر سے اکھلیش کا سانڈاور اندر سے کیشوکا مور بیچارے جائیں تو جائیں کہاں ؟سمجھ میں ہی نہیں آتا ۔
کلن بولا دیکھو اگر بہرائچ میں ہمارا رام گوپال مشرا مارا نہیں جاتا تو یہ نہ ہوتا ۔ یہ تو اس کے ماں باپ کی بددعا کا اثر ہے۔
بھیا تمہاری برادی کا رام گوپال کسی چھت پر چڑھ کر اپنا جھنڈا لہرائے تو کیا وہ اس کی آرتی اتاریں گے۔ ان لوگوں نے ماردیا تو بابا جی کا کیا قصور؟
چلو مان لیا مگر بعد میں پریم کمار مشرا اور صبوری مشرا کو گرفتار بھی کرلیا ۔ یار ہم لوگ کیا اسی لیے ووٹ دیتے ہیں کہ یہ دن دیکھنا پڑے؟
بھائی کلن سمجھتے کیوں نہیں ان لوگوں نے کیمرے کے سامنے یہ تسلیم کرکے بابا جی کو پھنسا دیا کہ شہر جلانے کی خاطر۲؍ چھوٹ دی گئی تھی ۔
ہاں یار یہ سب کام کرنے کے ہوتے ہیں بولنے کے نہیں لیکن کیا کریں آج کل کے نوجوان جوش میں آکر اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے ۔
للن بولا آج کل بابا جی کی پولیس اپنے ہی لوگوں کا انکاونٹر بھی کرنے لگی ہے ۔ اس طرح الیکشن کیسے جیت سکتے ہیں۔
اپنوں کے انکاونٹر کی کیا ضرورت؟ سارے مسلمان مرگئے ہیں کیا؟
ارے بھائی کیا بتائیں میرٹھ ضلع اے ایس پی راکیش کمار مشرا نے موانا تھانہ علاقہ میں تین لوگوں کو گئو کشی کے الزام میں گولی ماردی ۔
کلن بولا بہت اچھا ۔ ان لوگوں کی کھوپڑی اڑا دینی چاہیے تھی ۔
ارے بیوقوف سمجھتےکیوں نہیں ۔ ان کا نام آکاش ، گوپال اور آلوک تھا ۔ اب تم بتاو کہ کیا وہ لوگ اب ہمیں ووٹ دیں گے ۔
یار سنا ہے مظفر نگر میں بھی پولیس نے سندیپ اور اس کے گروہ میں کام کرنے والے چار لوگوں کو گئو کشی کے معاملے میں گرفتار کرلیا ۔
للن نے کہابھیا آج کل اپنے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔ اپنی گئوماتا کے ہی دشمن بن گئے ہیں ۔
بھائی کیا کریں ۔ گایوں کے مالک انہیں آوارہ بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں ۔ سرکار کوئی انتظام نہیں کرتی تو بیروزگارنوجوان اسے لے جاتے ہیں۔
ہاں مگر اس سے ڈبل بدنامی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ یوگی کے ہوتے گئو کشی ہورہی ہے اوردوسرے الیکشن سے پہلے اپنے لوگوں کی گرفتاری ۔
کلن بولا اچھا اب سمجھ میں آیا کہ یوگی جی آج کل گائے کے ساتھ اپنی تصویر کیوں نہیں کھنچواتے اور نہ ویڈیو بنواتے ہیں؟
ہاں لیکن الیکشن لڑنے کے لیے کچھ تو کرنا ہی ہوگا ۔ ایسے منہ چھپانے سے کام کیسے چلے گا ؟
کلن نے کہا دیکھو مودی جی آکر ’روٹی، بیٹی ا اور ماٹی‘ کے عدم تحفظ کا نعرہ لگائیں گے تو سارا منظر بدل جائے گا ۔
دنیا بھر میں چل جائے مگر اپنے پیلی بھیت میں تو وہ نعرہ کام نہیں کرے گا۔
اچھا وہ کیوں ؟ مودی جی کا جادو تو امریکہ میں بھی چل جاتا ہے تواپنا پیلی بھیت کس کھیت کی مولی ہے؟
دیکھو بھیا پیلی بھیت ضلع کے رکن پارلیمان اور چاروں ارکان اسمبلی کمل چھاپ توہیں اس کے باوجود ایک نہایت شرمناک واقعہ ہوگیا۔
کلن نے سوا کیا، اچھا وہ کیا ؟
ارے اپنے پورن پور کے بی جے پی ایم ایل اے بابورام پاسوان کے چچا زاد بھائی پھول چند کو غنڈوں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ۔
اوہو یہ کیسے ہوگیا؟ کوئی پرانی رقابت تو نہیں تھی ؟
نہیں بھائی مقتول کے گھر میں پوتے کی شادی کے موقع پر غنڈے گھس آئے اور اہل خانہ کو زدوکوب کرنے لگے ۔
یار یہ تو بہت بری بات ہے ڈبل انجن سرکار میں اگر اپنے رکن اسمبلی کا گھر ہی محفوظ نہ ہو تو عام لوگوں کا کیا ہوگا؟
للن بولا ارے بھائی اس حملے کے دوران ملزم نے ان کی نواسی کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی اور روکنے والے آٹھ افراد زخمی کردیا ۔
تو کیا ہمارا ایم ایل اے ہاتھوں میں مہندی لگا کر بیٹھا تھا ۔ اس نے کچھ نہیں کیا؟
وہ بیچارہ کیا کرتا ۔ پولیس تھانے پر جاکر احتجاج کیا اور کارروائی کا مطالبہ کرتارہا لیکن پولیس والے وقت پر نہیں آئے۔
کلن نے پوچھا تو کوئی کارروائی ہوئی یا نہیں ؟
جی ہاں مہندرپال سمیت آٹھ لوگوں کو گرفتار تو کیا گیا مگر ٹھاکر وں کو پاسوان کے لیے سزا دینا مشکل ہے اس لیے چھوڑ دیا جائے گا۔
ہاں بھائی! یوگی راج میں تم ٹھاکر لوگ ہم برہمنوں کو بھی نہیں چھوڑتے تو ان دلتوں کی کیا حیثیت ہے؟
اگر حیثیت نہیں ہے تو ووٹ بھی نہیں ملے گا اس لیے روٹی، بیٹی اور ماٹی کا نعرہ بیکار ہوجائے گا ۔ مجھے تو لگتا ہے اب یوگی بابا کا ٹکٹ کٹنے ہی والا ہے۔
کلن بولا یار یہ بتاو کہ اگر بابا جی کا پتاّ کٹ جائے ، میرا مطلب ہے انہیں ہٹا دئیے جائیں گے تو کہاں جائیں گے؟ اور کیا کریں گے؟؟
ارے بھائی ان کا گورکھ ناتھ مٹھ تو موجود ہی ہے۔ اسی میں جاکر گھنٹا بجائیں گےاور کیا کریں گے؟
اچھا سمجھ گیا ۔ کٹیں گے تو ٹن ٹنا ٹن بجیں گے ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...