Skip to content
یہودیوں کے فلسطین پر’حق‘ سے متعلق مصری مؤرخ کے بیان پر اسرائیلی سیخ پا
قاہرہ ، 21 جون( آئی این ایس انڈیا)
فلسطین کے علاقہ غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل میں انتہا پسند حلقے پورے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کومکمل طور پر بے دخل کرنے کے مطالبات کررہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ فلسطین یہودیوں کی سرزمین ہے اور اس پر یہودیوں کا مذہبی حق ہے۔اس حوالے سے مصر کے ایک دانشور اور مؤرخ وسیم السیسی نے یہودیوں کے اس دعوے کومسترد کردیا ہے۔انہوں نے مصری کابینہ کے انفارمیشن سینٹر کی طرف سے نشر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ خدا نے تورات میں حضرت ابراہیم سے کہا کہ میں آپ کو آپ کے قیام کی زمین دیتا ہوں۔
یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ابراہیم علیہ السلام مقدس سرزمین کے لیے ایک اجنبی تھے جو یہودیوں کی سرزمین پر ان کے حق کی دلیل کو باطل کرتا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تورات کے مطابق مصر چھوڑنے کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ سے کہا کیونکہ میں نے مصر میں تمہاری وجہ سے بھلائی حاصل کی ہے اس لیے فلسطین میں مالک جرار میرے والد سے کہو کہ تم میری بہن ہو۔
یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ اس سرزمین میں اور بھی علاقے تھے جہاں ابراہیم علیہ السلام گئے۔اس طرح کے بیانات اکثر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تنازعہ کو جنم دیتے ہیں۔ غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد فلسطین پر ملکیت کے حوالے سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر بحث چلتی رہتی ہے۔
اس پر مورخین، ماہرین، دانشور اور سیاسی مبصرین اپنی اپنی آراء کا بھی اظہار کرتے ہیں۔وسیم السیسی جو ماضی میں بھی اس نوعیت کی بحث میں حصہ لے چکے ہیں کے اس تازہ بیان کے بعد اسرائیلی حلقوں کی طرف سے ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے جب کہ فلسطینی اسے اپنے دیرینہ اصولی موقف کی حمایت میں ایک نئی دلیل کے طور پردیکھ رہے ہیں۔
Like this:
Like Loading...