Skip to content
ٹرمپ کی فتح اور کملا کی شکست کے اسباب ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی غیر معمولی کامیابی پر دنیا بھر کے رہنماوں نے مبارکباد کا پیغام بھیجا مگر ان میں سب سے اہم موجودہ صدر جو بائیڈن کی نہایت کشادہ دلی کے ساتھ دی جانے والی تہنیت ہے۔ امریکی صدرجو بائیڈن نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں کیڑے نکالنے کے بجائے اسے منصفانہ اور شفاف قرار دیتے ہوئے اقتدار کی پر امن منتقلی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ۔ جو بائیڈن کے مندرجہ ذیل الفاظ میں ٹرمپ کے ساتھ ساتھ مودی کے لیے بھی درسِ عبرت ہے کہ ” آپ اپنے ملک سے صرف اس وقت ہی محبت نہیں کرتے جب آپ فتح یاب ہوتے ہیں۔ آپ اپنے ہمسایہ سے صرف اس وقت محبت نہیں کرتے جب آپ ان سے متفق ہوں۔” یہ سبق کسی خودپسند انسان کی سمجھ میں کبھی نہیں آسکتا ۔ کملا حارث کی شکست کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں مگر ان میں ان کا سیاہ فام اور اوپر سے خاتون ہونا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ نام نہاد ترقی یافتہ امریکہ میں آج بھی نسل پرستی کا دور دورہ ہے ساتھ ہی خواتین کے تئیں حقارت پائی جاتی ہے۔ اسی لیےپچھلے دنوں (Black lives matter) یعنی’ کالوں کی زندگی اہم ہے‘ نامی تحریک چلانے کی نوبت آئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی سفید فام نسلی تفاخر کو اپنے حق میں بھنا کر یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ سیاہ فام عوام پر ظلم و جبر کے معاملے میں آزادی و مساوات کا دم بھرنے والے امریکہ کی تاریخ ہندوستان کے منونواز برہمنوں سے بھی بدتر ہے جنھوں نے صدیوں تک ملک کے اصلی باشندوں کو شودر بناکر ان پر مظالم توڑے۔ 1619ء میں افریقہ کے ساحلوں سے افریقیوں کو جہازوں میں اغوا کرکے امریکہ لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس کاروبار کا نام ”افریقیوں کا شکار‘‘ رکھا گیا اور 1898ء تک ایک کروڑ افریقی غلام بنا کر امر یکہ لائے گئے۔دورانِ سفر تشدد، بیماری اور دم گھٹنے سے 20 لاکھ سے زیادہ غلام ہلاک ہوگئے۔ ان افریقیوں میں بحث ومباحثہ یا مزاحمت کرنے والوں کوسرکش غلام کانام دیا جاتا اور پیروں میں وزن باندھ کر سمندر میں پھینک دیاجاتا تھا ۔ ان غلاموں کی فروخت کیلئے ورجینیا‘ کیرولینا اور جارجیا میں غلاموں کی منڈیاں قائم کی گئی تھیں۔ اس زمانے میں سرکشی کرنے والے غلاموں کو ان کے خونی رشتے دار کے ہاتھوں پھانسی دینے کا رواج عام کیا گیا تھا کہ دوسروں کی حوصلہ شکنی ہو ۔
وطن عزیز میں جس طرح گاندھی جی کو مسلمانوں کا ہمدرد بتا کر قتل کردیا گیا اسی طرح کی سزاامریکی صدر ابراہم لنکن کو غلامی کے خاتمے کی جدوجہد میں شمولیت کے لیے دی گئی۔ مارٹن لوتھر کنگ کی جدوجہد کے نتیجے میں امریکی سیاہ فاموں کو ووٹ ڈالنے کا حق تو ملا مگر انہیں بھی موت گھاٹ اتار دیا گیا ۔ سو سال کی جدوجہد کے بعد ووٹ دینے کا حق حاصل کرنے والے سیاہ فام طبقہ کو 1955ء میں ملک بھرکے اندر مظاہروں کرنے پڑے تب جاکر امریکی عدالت کا یہ فیصلہ آیا کہ بسوں میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہ رکیاجائے۔ یہ فیصلہ چغلی کھاتا ہے کہ اس وقت تک اور آج بھی کھلے عام ان کو ظلم و ستم کا شکار کیا جاتا ہے۔ سیاہ فام امریکی براک حسین اوبامہ کی صدارتی انتخاب میں جیت امریکی تاریخ کا ایک روشن باب ہے مگر اس کے باوجود امریکہ کے اندر لسانی‘ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہنوز جاری ہے اور اسے ہوا د ےکر الیکشن جیتنے کی کوشش کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔کملا حارث تو نہ صرف سیاہ فام بلکہ خاتون بھی ہیں اس لیے وہ دوہری تضحیک کا مستحق ٹھہرتی ہیں۔
امریکہ کے اندر تفریق و امتیاز کے واقعات میں محض سماج کے چند مجرم پیشہ انتہا پسند لوگ ملوث نہیں ہوتے بلکہ ۴؍ سال قبل امریکہ سابق اور اگلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف نسل پرستانہ ٹویٹس کرنے کا الزام لگ چکا ہے۔ سابق امریکی صدر نے حسب روایت ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاہ فام نسلوں سے تعلق رکھنے والی چار خواتین ارکانِ پارلیمنٹ سے جھڑپ کے بعد اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ اسپیکر نینسی پیلوسی (ان سیاہ فام خواتین کے لیے) جلد از جلد مفت سفری انتظامات کر کے بہت خوش ہوں گی۔ ان خواتین کو ‘واپس جانے‘ کا مشورہ دینے سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’یہ خواتین دراصل مکمل طور پر تباہ حالی کا شکار ممالک سے آئی ہیں ‘‘۔ اس کے جواب میں نینسی پیلوسی نے مذکورہ ٹویٹ کو’ غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی‘ قرار دیا تھا ۔اسپیکر نے ٹرمپ کے ’امریکہ کو ایک مرتبہ پھر عظیم بنانے‘ کے نعرے کو دوبارہ سفید فاموں کا ملک بنانےکا منصوبہ بتاکر تنوع کو طاقت و اتحاد کے قوت ہونے پر زور دیا تھا ۔
امریکی رائے دہندگان نے سیاہ فام کملا حارث سے قبل سفید فام ہیلری کلنٹن پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ جیسے نیم پاگل کو ترجیح دے کر یہ عندیہ دے دیا تھا کہ ان کے نزدیک کسی صورت خاتون سربراہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی نے نہایت نحیف اور ناتواں جو بائیڈن کو میدان میں اتار اتو وہ بھی کامیاب ہوگئے مگر تیز طرار کملا حارث مسترد کردی گئیں۔ امریکہ کے اندر1920 تک سیاہ فام خواتین تو دور سفید فام عورتوں کو بھی ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا ۔ امریکی آئین میں 19؍ویں ترمیم سے قبل ووٹنگ حقوق میں صنفی امتیازکے سبب ووٹ دینے والی خواتین سزا کی مستحق تھیں۔ 1872 کے 22 ویں امریکی صدارتی انتخاب میں سوزن بی اینتھنی نامی خاتون کو ووٹ ڈالنے کی سزا دی گئی تھی۔ وہ امریکہ میں حقوقِ نسواں اور ’سفرج موومنٹ‘ کے تحت خواتین کو ووٹ کا حق دینے کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی ایک فعال رہنما تھیں ۔ ان پر 1872 کے صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی کوشش کا الزام لگا کر 26 دسمبر 1872 کو نیویارک کی سپریم کورٹ نے 100 ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے اسے نہیں ادا کیا۔ اس کے 150 سال بعد بھی امریکہ خاتون صدر کے لیے ترس رہا ہے۔
’لوٹ کے بدھو گھر پہ آئے‘ والی مشہور مثل نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پوری طرح صادق آتی ہے کیونکہ وہ قصرِ ابیض کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور وہاں سے نکلنے کو علی الاعلان غلطی گردانتے ہیں ۔ اپنی حالیہ انتخابی مہم کے اختتام پر انہوں نے پنسلوانیا میں ببانگ دہل کہا تھا کہ انہیں 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر افسوس ہے، وہ 2024 کی انتخابی مہم کو اسی طرح ختم کر رہے ہیں جس طرح انہوں نے شروع کیا تھا –یہاں سوال یہ پیدا ہوتے ہے کہ جس انتخابی مہم کے اختتام کی بات وہ کررہے تھے اس کا آغاز کب ہوا تھا؟ سچ تو یہ ہے وہ اسی دن شروع ہوگئی تھی جب امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار پچھلے انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی ایوانِ پارلیمان پر حملہ کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ٹرمپ کے نائب صدر کو حمام میں چھپ کر عقب کے دروازے جان بچانا کر جانا پڑا تھا۔ اس شنیع حرکت پر صدر مملکت نے ان بلوائیوں کی سرزنش کرنے کے بجائے انہیں سراہا تھا۔ ان میں سے آج بھی کئی لوگ جیلوں میں بند ہیں اور خود ٹرمپ بھی مقدمات کے اندر ماخوذ لیکن اب جبکہ ’سیاّں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا‘؟ اس ہنگامہ آرائی کے بعد موصوف چار سالوں تک نہایت پرتشدد، توہین آمیز بیان بازی سے لیس ایک دھمکی آمیز مہم میں مصروفِ عمل رہے اور آخر میں یہاں تک کہہ دیا کہ اس بار تو وہ کسی صورت اپنی شکست کو قبول ہی نہیں کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا مطلب صاف تھا کہ انتخابی نتائج کے بعد اگر پھر سے ان کے مداحوں نے وائٹ ہاوس پر ہلہ بول دیا تو وہ ان کے کندھوں پر سوار ہوکر قصرِ ابیض میں داخل ہوجائیں گے اور اس پر قبضہ کرلیں گے ۔ اس ناگہانی واردات کا پورا امکان تھا اور اگر ایسا ہوجاتا تو امریکی جمہوریت کی قلعی کھل کر ساری دنیا کے سامنے آجاتی۔ اس سنگین صورتحال کی رونمائی سے بچنے کی خاطر امریکہ کے رائے دہندگان نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کمزوری کو چھپانے کی غرض سے ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرکے بصد احترام قصر ابیض کی کنجی تھما دی ۔ اس طرح کم از کم عارضی طور دنیا بھر میں امریکی جمہوریت اور اس میں پر امن اقتدار کی منتقلی کا بھرم باقی رہ گیا۔ ملوکیت میں ’جیسا مالک ویسا گھوڑا ، کچھ نہیں تو تھوڑا تھوڑا ‘ ہوتا ہے یعنی عوام بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں ۔ جمہوریت کے اندر’ جیسے عوام ویسا قوام ‘ کا معاملہ ہوتا ہے’ پورا نہیں تو آدھا ادھورا‘ کے تحت رہنما اپنے لوگوں کی مرضی کے مطابق چلنے کا ڈھونگ کرتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ہر دو نظام میں حکمراں کی من مانی چلتی ہے وہ تو اسلام کی نظام سیاست ہے جس میں حکمراں اور عوام دونوں حکم الٰہی کے پابند ہوتے ہیں۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...