Skip to content
مہاراشٹرا کا مستقبل فلاحی ریاست Welfare State بننے میں ہے
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
انتخابات کا اعلان ہوتے ہی مہاراشٹرا میں سبھی سیاسی جماعتیں خواب سے لگتا ہے بیدار ہو گئی ہیں ،وعدوں اور منشور کا سیلاب آ گیا ہے۔ بھاجپا نے اپنی مالی طاقت کے بل پر بڑے پوسٹرز، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اشتہارات کے ذریعے بڑے بڑے وعدے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ خواتین کو ماہانہ تین ہزار روپے، بیروزگار نوجوانوں کو وظائف، اور بزرگوں کو مالی امداد جیسے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بھاجپا کو پچھلے دس سالوں کی ناکامیوں کا اندازہ ہو چکا ہے، لیکن کیا یہ وعدے واقعی عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لا سکیں گے؟ان وعدوں سے ایک بات ثابت ہو گئی ہے ان جماعتوں نے اس بات کا اقرار کر لیا ہے ایک بڑی آبادی غربت و افلاس اور بیروزگاری میں مبتلا ہیں کسان مزدور پریشان ہیں اور اگر ان غریبوں کی فوری طور پر مدد نہیں کی گئی تو ایک سنگین سماجی مسئلہ جنم لیگا ۔
مہاراشٹرا، جو کبھی ملک کی معیشت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج عدم مساوات، بیروزگاری اور زراعتی بحران جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ممبئی جہاں بلند و بالا عمارتوں اور عالمی معیار کی زندگی کا مظہر ہے، وہیں دیہی اور شہری علاقوں کی ایک بڑی آبادی غربت، تعلیم کی کمی اور صحت کی ناقص سہولیات سے نبرد آزما ہے۔ عام آدمی لوکل ٹرین سے سفر کرنے میں بےانتہا پریشانیوں کا سامنا کرتا ہے ہر سال ہزاروں افراد بمبئی میں ٹرین حادثے میں ہلاک ہو جاتے ہیں مگر لوکل ٹرین کو بہتر بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ زیادہ تکلیف ان لوگوں کو ہوتی ہے جو بمبئی میں نہیں رہتے مگر کام کرنے روز بمبئی آتے ہیں۔
مہاراشٹرا کے کسان ریاست کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن قرضوں، خشک سالی، اور فصلوں کی کم قیمتوں کی وجہ سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سالوں میں ہزاروں کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ انتخابی وعدے ان مسائل کا صرف عارضی حل پیش کرتے ہیں، جبکہ کسانوں کو ایسے پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے جو ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں۔پچھلے دس سالوں میں لاکھوں کسان خود کشی کر چکے ہیں۔
مہاراشٹرا میں تعلیمی شعبہ بدحالی کا شکار ہے۔ دیہی اور قبائلی علاقوں میں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اور ڈیجیٹل تعلیم کی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ممبئی کے پرائیویٹ اسکولوں میں لاکھوں روپے فیس ادا کی جاتی ہے، جبکہ دیہی طلبہ مناسب تعلیمی وسائل سے بھی محروم ہیں۔ڈگری ملنے کے باوجود نوکری نہیں ملتی
دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ سرکاری اسپتال محدود ہیں، جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں کے اخراجات غریب عوام کے بس سے باہر ہیں۔ نتیجتاً، لوگ صحت اور دیگر ضروریات کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ صحت کا شعبہ فوری توجہ کا متقاضی ہے تاکہ ہر شہری کو معیاری طبی خدمات میسر آ سکیں۔ لوک ڈاؤن سے دیہی علاقوں میں غربت و افلاس میں اضافہ ہوا ہے ۔
بیروزگاری عروج پر ہے ،مہاراشٹرا کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن روزگار کے مواقع کی شدید قلت ہے۔ ہنر سازی کے موجودہ پروگرام ناکافی ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان ملازمت کے لیے تیار نہیں ہو پاتے۔ ریاست کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو صنعتوں اور نوجوانوں کے درمیان فرق کو ختم کریں۔
مہاراشٹرا کو ایک حقیقی فلاحی ریاست Welfare State بنانے کے لیے ان مسائل پر جامع اور طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے, اس کے لیے سبھی سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
تعلیم: دیہی اسکولوں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں، تربیت یافتہ اساتذہ تعینات کیے جائیں، اور ڈیجیٹل تعلیم کو عام کیا جائے۔
صحت: دیہی علاقوں میں اسپتال اور کلینک بنائے جائیں، اور سب کے لیے سستی صحت کی سہولت یقینی بنائی جائے۔
روزگار کے مسائل حل کرنے کے لئے ہنر سازی کے جدید پروگرام متعارف کروائے جائیں اور دیہی صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔
کسانوں کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی، فصلوں کی منصفانہ قیمت، اور جدید زرعی آلات کی سہولت دی جائے۔
یہ وقت ہے کہ مہاراشٹرا کو ایک فلاحی ریاست Welfare State میں تبدیل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع سب کے لیے یکساں ہوں۔ یہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کا مقصد ہر شہری کو عزت، حقوق اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔
آئیں، اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے متحد ہوں۔سیاسی جماعتوں سے سوال کیجئے پوچھیے اُنہوں نے اب تک کیا کیا ان مسائل کے لئے اُنکے پاس کیا حل ہے ۔بھاجپا والے نفرت پھیلا کر ان مسائل کو پس پشت ڈال دینا چاہتے ہیں۔ آپ سوال ضرور کیجئے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...