Skip to content
غضب تماشا: بنگلا دیشیوں پر ای ڈی کا چھاپہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جھارکھنڈاسمبلی الیکشن کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوگیا ۔ پولنگ سے قبل جب سیاسی شور شرابے پر پابندی لگی تو بی جے پی نے اپنے غیر سیاسی پیادے میدان میں اتار دئیے ۔ یعنی مودی اور شاہ ڈرانے دھمکانے میں نا کام ہوئے توانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو کام میں لگایا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ معاشی بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے قائم کردہ یہ موقر ادار ہ سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کا تعاقب کرنے کے بجائے پہلی بار غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازی کرنے والوں کے پیچھے پڑ گیا ۔ وہ ان پر نہایت بے حیائی کے ساتھ منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر چھاپے مارنے لگا ۔ امیت شاہ نے مغربی بنگال کی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ بنگلا دیش کے بھوکے ننگے بیروزگار ہندوستان آجاتے ہیں ۔ ویسے تو اس وقت کے بنگلا دیشی وزیر خارجہ عبدالحکیم نے ہندوستانی وزیر داخلہ کوبری طرح پھٹکارہ تھا لیکن اگر امیت شاہ کے اس انتخابی جملے کو سچ مان لیا جائے تو ان کے خلاف ای ڈی کے چھاپےکیا معنیٰ؟ وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے اس ادارے نے اپنے عمل سے وزیر داخلہ کی تردید کردی لیکن جس طرح عوام کی یاد داشت کمزور ہے وہی حال شاہ جی کا بھی ہے۔ وہ اتنےزیادہ جھوٹ بولتے ہیں کہ ان سب کو یاد رکھنا کسی سوپر کمپیوٹر کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔
جھارکھنڈ میں اس بار چونکہ بی جے پی بنگلا دیشیوں کے طفیل انتخاب جیتنا چاہتی ہے ۔ اس لیےشیخ حسینہ کو پناہ دے کر ہم سایہ ملک سے تعلقات خراب کرنے والی مودی سرکار کی ای ڈی نے 17 مقامات پر چھاپہ ماردیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا شیخ حسینہ نے ہندوستان میں آنے سے قبل ویزہ کی درخواست کی تھی اور قانونی لوازمات کی تکمیل کے بعد ملک میں داخل ہوئیں یا ان سب کو بالائے طاق رکھ کر موصوفہ کا خیر مقدم کیا گیا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ قومی سلامتی کے ذمہ دار اجیت ڈوول نے کس ضابطے کے تحت سے ایک فرار سیاستداں سے ملاقات کی۔ وزیر خارجہ نے جس سابق وزیر اعظم کی آمد کو عارضی کہا تھا وہ مستقل کیسے ہوگیا ؟ این آر سی کے تحت صرف غیر مسلم پڑوسی ممالک سے آنے والوں کو شہریت دینے والی مودی سرکار نے شیخ حسینہ کو ہندو تو نہیں سمجھ لیا ؟ شیخ حسینہ کی ملک میں موجودگی مودی سرکار کے پاکھنڈ( منافقت) کا کھلا ثبوت ہے۔ امیت شاہ کے اندر ہمت ہوتی تو کہہ دیتے کہ ہمارے سی اے اے کا قانون حسینہ واجد کو ملک کو پناہ دینے میں رکاوٹ ہےیا اعلان کردیتے کہ ہم نے وہ قانون صرف اپنے ہندو رائے دہندگان کو بیوقوف بنانے کی خاطر وضع کیا تھا اور شیخ حسینہ کے لیے اسے کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیا گیاہے۔
جھارکھنڈ کے اندر بنگلا دیشیوں کا ہواّ کھڑا کرنے کی سازش کے تحت ستمبر میں منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت ایک انوکھا معاملہ درج کیا گیا ۔ اس میں بنگلہ دیشی خواتین کو جھارکھنڈ میں غیر قانونی طور پر بسا کر پیسہ کمانے کا الزام تھا۔امسال جون میں رانچی کے بریاتو پولیس اسٹیشن کے اندر ایک بنگلا دیشی خاتون نے ایک ایف آئی آر کرائی کہ وہ کام کی تلاش میں جھارکھنڈ آئی تو اس سے پیسے وصول کیے گئے۔ اس خاتون کی مدد کرنے کے بجائے اس معاملے میں کئی خواتین کو حراست میں لے لیا گیا ۔ ان میں سے ایک کے پاس سے فرضی آدھار کارڈ برآمد ہوگیا توپولیس نے اس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 420، 467، 46اور وغیرہ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی چونکہ اس بنیاد پر الیکشن لڑنا چاہتی تھی اس لیے یہ معاملہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں پہنچا تو اس نےریاستی حکومت کو بنگلہ دیشی دراندازوں کی شناخت کے لیے تفتیش کی غرض سےایک آزاد پینل بنانے کی سفارش کردی ۔ اس طرح ایک گلی کا معاملہ صوبائی سطح پر پہنچ گیا اور اسے آگے بڑھانے کی خاطر مرکزی حکومت بھی میدان میں کود گئی۔ اس نے بھی عدالت میں حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ ریاست میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن رہ رہے ہیں۔
سرکاری طوطے ای ڈی نے یہ مضحکہ خیز الزام لگایا ہے کہ غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل کرواکے ان خواتین کو کام دلانے کے نام پر ان کا استحصال کیا جا رہا تھا۔ اپنے ملک میں بنگلا دیشی خواتین کا استحصال ظاہر ہے کوئی غیر ملکی توکر نہیں سکتا ؟ ان بنگلا دیشیوں کے پاس اگررشوت دینے کے لیے بڑی رقم ہوتی تووہ امریکہ یا یوروپ جانے کے بجائے نہایت پسماندہ ریاست جھارکھنڈ میں کیوں آتے؟ اس ریاست سے روزگار کی تلاش میں لوگوں کو آس پاس کے صوبوں میں جانا پڑتا ہے ۔ فی الحال تو سب سے زیادہ گجراتی بیرون ملک فرار ہورہے ہیں ۔ اس لیے مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ غریب لوگوں کو پریشان کرکے اس پر سیاسی روٹیاں سینکنے کے بجائے ان ہندوستانی تارکین وطن کی جانب توجہ دےجو دنیا بھر میں ملک کو بدنام کررہے ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نےتویہ الزام لگادیا کہ جھارکھنڈ کو روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازوں کے لیے ‘دھرم شالہ’ بنا دیا گیا ہے۔
بی جے پی کی اس بوکھلاہٹ کے پیچھے اس کی ہیمنت سورین کی گرفتاری کا ہاتھ ہے۔ اس کو توقع تھی کہ جیل جاتے ہوئے ہیمنت سورین کے اپنی اہلیہ کلپنا سورین کو وزیر اعلیٰ بنادیں گے۔ اس سے بی جے پی کے دو فائدے ہوں گے۔ اول تو وہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ پر اقربا پروری بلکہ خاندانی موروثیت کا الزام لگا کر اسے بدنام کرے گی ۔اس سے پارٹی کے اند بددلی پھیلا کر مہاراشٹر کی شیوسینا یا این سی پی کی طرح جے ایم ایم کو توڑ دے گی ۔ اس کے ایک دھڑےکو الگ کرکے بی جے پی کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن یہ سارے خوب ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئے ۔ ہیمنت سورین نے جیل جاتے ہوئے کلپنا کے بجائے چمپئی سورین کو وزیر اعلیٰ بناکر بی جے پی کی پوری سازش کو ناکام بنا دیا۔ہیمنت سورین کے اس ماسٹر اسٹروک سے اول تو ان پر اقربا پروری کا الزام نہیں لگا اور دوسرے پارٹی ٹوٹنے سے بچ گئی۔ خوش قسمتی سے عدالتِ عظمیٰ نے انہیں ضمانت دے دی اور جیل سے باہر آکر انہوں نے پھر سے اپنا عہدہ سنبھال لیا ۔
ہیمنت سورین کو زک پہنچانے کی خاطر بی جے پی نے بھاگتے چور کی لنگوٹی بھلی کے مصداق چمپئی سورین کو توڑ کر اپنی پناہ میں لیا مگر وہ ایک بھی رکن اسمبلی کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوئے یعنی اس معاملے میں بی جے پی منہ کے بل گر گئی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ چمپئی کو ان کے روایتی حلقہ انتخاب سرائی کیلان کے سوا کہیں اور سے الیکشن لڑاکر کامیاب کرنا مشکل ہے۔ ویسے بھی پچھلے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی قبائلیوں کے لیے محفوظ پانچوں نشستوں پر ہار گئی اور آر ایس ایس کے ونواسی آشرم کا سارا کیا دھر ابیکار ہوگیا بلکہ مقامی باشندوں نے بی جے پی سے فادر اسٹین سوامی کی حراست میں موت کا انتقام لے لیا ۔ چمپئی سورین کو کولہان علاقہ کے سرائی کیلان سے کمل کے نشان پر لڑانا بی جے پی کی مجبوری ہے کیونکہ وہ کہیں اور سے جیتنا تو دور اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکتے ۔
موصوف اس حلقۂ انتخاب سے ۶؍ مرتبہ انتخاب جیت چکے ہیں۔ اس لیے ان کے نام کے ساتھ رائے دہندگان کے دماغ میں جے ایم ایم کا نشان تیر کمان آجاتا ہے۔ اس بار رائے دہندگان کو انہیں کامیاب کرنے کی خاطر کمل پر نشان لگانا پڑے گا ۔ قبائلیوں کی دور دراز بستیوں میں انٹر نیٹ کی مدد سے ایک نشان کو مٹاکر نیا نشان ڈال دینا اتنا آسان نہیں ہے اس لیے بعید نہیں کہ بہت سارے چمپئی سورین کے وفادار ووٹرس بھی پھر سے حزب عادت تیر کمان پر مہر لگا دیں ۔ اس بار وہاں پر تیر کمان کے نشان پر ان کے دشمن بی جے پی رہنما گنیش ماہلی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ پچھلے دو انتخابات میں کمل کے نشان پر چمپئی کو ہرانے کی ناکام کوششیں کرچکے ہیں ممکن ہے اس بار نشان کی تبدیلی سے ان کی تقدیر بدل جائے ۔ گنیش ماہلی کے انتخاب سے ایک ہفتہ قبل جے ایم ایم میں داخلہ نے آر ایس ایس کے نظم و ضبط اور تربیت کی قلعی کھول دی۔یہ ظاہر ہوگیا کہ سنگھ پریوار بھی موقع پرستی و ابن الوقتی میں کسی سے پیچھے نہیں ہے اور ہندو راشٹر وغیرہ کے نعرے بکواس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
اس انتخاب میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے پاس تو بس وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین ہے مگر این ڈی اے کے اندر چار عدد چیف منسٹرس اپنی رال ٹپکا رہے ہیں ۔ ان میں نووارد چمپئی سورین کے علاوہ بابو لال مرانڈی اور ارجن منڈا ہیں جن کو مرکزی وزیر بناکر ریاستی سیاست سے دور کیا گیا ہے۔ پچھلی مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی نے رکھوبر داس کو وزیر اعلیٰ بناکر جو تجربہ کیا وہ اس قدر ناکام ہوا کہ وزیر اعلیٰ ریاست تو دور اپنی نشست بھی نہیں بچا سکا۔ فی الحال رگھوبر داس کو ریاست سے تڑی پار کرکے اڑیشہ کا گورنر بنادیا گیا ہے۔ جھارکھنڈ کا قیام 15 نومبر2000 کو ہوا تھا۔ اس کے بعد، بی جے پی نے بابولال مرانڈی کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا مگر 2003 میں انہیں جنتا دل (یونائیٹڈ) کے دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ آگے چل کربابولال مرانڈی نے 2004 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر گریڈیہہ سے لوک سبھا کا الیکشن جیتا لیکن سال 2006 میں سنگھ پریوار کے اس لعل نےپارٹی کو احسانمندی کایہ صلہ دیا کہ بی جے پی سے الگ ہو کر ایک نئی پارٹی ’ جھارکھنڈ وکاس مورچہ‘ قائم کرلی۔ کرناٹک کے بی ایس یدورپاّ کی مانند بابو لال مرانڈی نے 2019 کے جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں دھنوار سیٹ سے بی جے پی کے خلاف کامیابی حاصل کی لیکن پھراپنے میکے میں لوٹ آئے۔ بی جے پی نے مجبوراً ان کو قبول تو کرلیا مگر اب انہیں نظر انداز کرکے رائے دہندگان کو ناراض کررہی ہے۔ اس کا خمیازہ بی جے پی کو انتخاب میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔
Like this:
Like Loading...