Skip to content
اردو ادب کا ماحولیات سے گہرا تعلق۔ قومی و بین الاقوامی دانشوروں کا تاثر
سہ روزہ بین الاقوامی سمینار بہ عنوان ’’ماحولیاتی تنقید اور اردو ادب‘‘ کا سنٹرل یونی ورسٹی آف حیدرآباد میںکامیاب انعقاد
حیدرآباد۔ 17نومبر(پریس نوٹ)
ڈاکٹر عرشیہ جبین کوآرڈینیٹر سمینارکے بموجب شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی جانب سے سہ روزہ بین الاقوامی سیمینارآڈیٹوریم اسکول آف ہیومانٹیز یونیورسٹی آف حیدرآباد میں 13,12 اور 14نومبر 2024 ء کوبعنوان ماحولیاتی تنقید اور اردو ادب کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس سمینار کا افتتاحی اجلاس12؍ نومبرکو اسکول آف ہیومانٹیز کے آڈیٹوریم، یونی ورسٹی حیدرآباد میں سہ پہر 3:00بجے شروع ہوا، جس میں ملک و بیرونِ ملک کے کئی ماہرین نے شمولیت اختیار کی۔ اس افتتاحی اجلاس کا آغازڈین اسکول آف ہیومانیٹیزنے معزز مہمانوں کے ہمراہ شمع جلا کر کیا جب کہ اغراض و مقاصد سمینار کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عرشیہ جبین نے پیش کیے۔
اس بین الاقوامی سمینارکا افتتاحی خطبہ پروفیسر بی جے راؤ، شیخ الجامعہ، یونی ورسٹی آف حیدرآباد کو دینا تھا مگر وہ اپنی مصروفیت کے سبب شامل نہ ہو سکے لیکن سمینار کیکامیابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صدر شعبۂ اردو پروفیسر فضل اللہ مکرم نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ اس سمینار میں مہمان اعزازی کے طور پر پروفیسر محیا عبدالرحمن، تاشقند یونی ورسٹی(ازبیکستان)،ڈاکٹر مروہ لطفی سباعی ہیکل( عین شمس یونی ورسٹی،قاہرہ، مصر) اور ڈاکٹر مظہر اقبال مظہر(نیلسن کالج، لندن) آن لائن شریک ہوئے۔ جب کہ مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر شہاب الدین ثاقب( علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ)، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین(جواہر لال نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی) اور پروفیسر عباس رضا نیّر(لکھنؤ یونی ورسٹی،لکھنؤ) شریک رہے۔
اس بین الاقوامی سہ روزہ سمینار کا کلیدی خطبہ اردو ادب کے نام ور ناقد و محقق پروفیسر ناصر عباس نیر(پنجاب یونی ورسٹی، لاہور)نے آن لائن پیش کیا۔ اس پروگرام کا پہلا صدارتی خطبہ پروفیسر ایم ٹی انصاری، ڈین؛ اسکول آف لینگویجز اور دوسرا صدارتی خطبہ اردو کے سینیر ناقد و انشائیہ نگار پروفیسر محمد زماں آزردہ( سابق صدر شعبۂ اردو و ڈین فیکلٹی آف آرٹس ) نے اپنے مخصوص لب و لہجے میں دیے۔اس افتتاحی اجلاس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد خوشتر اور اظہار تشکر کے فرائض ڈاکٹر محمد کاشف(معاون کوآرڈینیٹر) نے انجام دیے۔
اس سمینار کا پہلا تکنیکی اجلاس عالمی ادب اور ماحولیاتی تنقید کے عنوان سے تھا،جس کی صدارت پروفیسر عباس رضا نیر اور پروفیسر محمد خواجہ کرام الدین نے کی۔ اس اجلاس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں پروفیسر محیا عبدالرحمٰن تاشقند یونی ورسٹی، ازبیکستان نے تاشقند کے افسانوں کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا جبکہ ڈاکٹر مظہر اقبال مظہر، نیلسن کالج، لندن، نے مغربی ادب خصوصاً یوروپی ممالک کے حوالے سے ماحولیات کا جائزۃ لیا ، ڈاکٹر صائمہ نذیر، نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد، پاکستان نے اردو ناول خصوصاً پاکستان میں لکھے گئے ناولوں کا ماحولیاتی نقطہ نظرسے مقالہ پیش کیا، ڈاکٹر مروہ لطفی سباعی ہیکل، عین شمس یونی ورسٹی، قاہرہ، مصر نے جدید اردو افسانے میں ماحولیاتی مسائل کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اور ڈاکٹر اویس احمد بھٹ، شعبۂ اردو، کشمیر یونی ورسٹی، سری نگرنے اردو میںماحولیاتی تنقید کی نظری بنیادیں کے عنوان سے آن لائن موڈ میںمقالہ پیش کیا۔اس اجلاس میں کل پانچ مقالے پیش کیے گئے ۔
دوسرے تکنیکی اجلاس میں، جس کا عنوان بین العلومی ادب اور ماحولیاتی تنقید تھا۔ اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تقریباً ہندوستان کے مختلف علاقوں کی زبان و ادب کا ماحولیاتی تناظر میں جائزہ لیا گیا۔پہلامقالہ پروفیسر واریجا رانی شعبہ ٔ تلگو نے شاعر گوپی کی نظموں کے مجموعے ’’جل گیتم‘‘ کا ماحولیاتی تناظرمیں جائزہ لیا۔پروفیسر وجیا لکشمی شعبۂ تلگو نے اپنا مقالہ تلگو ادب اور ماحولیاتی تناظر میں مقالہ بھیجا ہے وہ کسی مجبوری کے تحت شامل نہ ہوسکیں۔تیسرا مقالہ اردو اور تلگو افسانوں کا تقابلی مطالعہ ماحولیاتی تنقید کے تناظر میںڈاکٹر محبوب بی شیخ نے پیش کیا، انگریزی ادب اور ماحولیاتی تنقید کے عنوان سے ڈاکٹرگریش پوار شعبۂ انگریزی نے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ڈاکٹر بھیم سنگھ شعبۂ ہندی کے استاد نے ماحولیاتی تنقیدکے حوالے ہندی ادب کا جائزہ لیا ۔
کالی کٹ،کیرل سے ڈاکٹر شمس الدین نے ملیالم ادب اور ماحولیاتی تنقید اورڈاکٹر امان اللہ استاد شعبۂ اردو نے تامل ادب اور ماحولیاتی تنقید کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔اس طرح اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے اساتذہ سے مقالے لکھائے گئے اور تمام زبانوں کے مقالہ نگاروں نے پر مغز اور بصیرت افروز مقالے پیش کئے جن کی خوب پذیرائی ہوئی۔شعبہ ہندی کی ریسرچ اسکالر پرینکاپریا درشنی نے اکیسویں صدی کے ہندی ناولوں میںماحولیاتی ڈسکورس ’’ناول رہ گئی دشائیں اس پار تاکہ بچی رہے ہریالی‘‘ عنوان سے جو مقالہ پیش کیا اسے تمام صدور نے بہت پسند کیا اور ریسرچ اسکالر کی خوب حوصلہ افزائی کی۔
ہندی شعبہ کے ایک اور ریسرچ اسکالر اجے پراکاش نے’اپنا مقالہ بعنوان’ آج بھی بھرے ہیں تالاب پریستھیتک سندرش‘‘کے عنوان سے پیش کیا جسے خوب داد ملی۔اس طرح بین العلومی موضوعات پر یہ سیشن نہایت کامیاب رہا۔اس کے علاوہ چھ اور تکنیکی اجلاس ہوئے جن میں جملہ55مقالے پیش کیے گئے ۔ اس سمینار کے اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد زماں آزردہ، پروفیسر شوکت حیات اور پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے کی جس میں کولکاتا، کشمیر، کیرل، تامل ناڈو، دہلی اور لکھنؤ سے آئے مندوبین نے اپنے اپنے تاثرات پیش کیے اور سمینار کو تاریخی اور بے حد کامیاب بتایا۔
اپنے خطاب میں انھوں نے اسے ماحولیاتی تنقید پر اردو کا پہلاتاریخ ساز سمینار بتایاہے۔ تمام اساتذہ اور دانشورانِ ادب کا یہی تاثر رہا کہ یہ اردو ادب کا پہلا ایسا عالمی سمینار ہے، جس میں ماحولیاتی تنقید کو موضوع بحث بنایا گیاہے اور اس حوالے سے ادب کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ چوں کہ ابھی تک پورے ہندستان یا پوری اردو دنیا میں اس عنوان پر کوئی بھی ایسا سمینار منعقد نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا اس کی حیثیت تاریخی ہے، جس میں شعبہ ٔاردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے اساتذہ ڈاکٹر عرشیہ جبین اور ڈاکٹر محمد کاشف نے سبقت حاصل کی ہے۔
سمینار میں تینوں دن تفریحی وتہذیبی پروگرام پیش کیے گئے ۔ افتتاحی اجلاس کے بعد شام تقریباً 5:30 بجے ڈاکٹر معراج الدین مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کی نگرانی میں ڈرامہ کلب کی جانب سے دو مزاحیہ ڈرامے(چچاچھکن نے دھوبی کو کپڑے دئیے اور لال بستہ) پیش کیے گئے۔ ڈرامے کے تقریبا 20 ادکاروں اور ہدایت کاروںکی حوصلہ افزائی کے لئے سرٹیفیکیٹ اور مومینٹو پیش کئیے گئے۔ اس طرح سمینار کے پہلے دن کا کامیاب اختتام ہوا۔ دوسرے دن تکنیکی اجلاس کے بعد غزل کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں استاد صابر حبیب نے اپنی دلکش اور خوبصورت آواز میںغزل گائکی پیش کی۔سامعین اس پروگرام سے خوب لطف اندوز ہوئے۔
سمینار کے آخری دن شام 5:00بجے مشاعرہ رکھا گیا تھا جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے بھرپور طریقے سے شرکت کی۔مشاعرے میںڈاکٹر طیب پاشاہ قادری نے نعتیہ کلام اپنی خوبصورت آوازکے ذریعے پیش کیا ۔کثیر تعداد میں سامعین اور ریسرچ اسکالرز مشاعر ے سے محظوظ ہوئے اوراس طرح مشاعرہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔موضوع کی ندرت کے پیش نظر شاعروں نے اپنے اشعارمیں ماحولیاتی مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی اور طلبہ وطالبات کی پسند کو بھی ملحوظ رکھ کر اشعارپیش کیے گئے اس طرح مشاعرے کے اختتام کے بعد سمینارکی کوارڈینیٹرنے ان تمام ریسرچ سکالرز کی حوصلہ افزائی کے لیے انھیں مومنٹوز اور سند پیش کی ۔
اس طرح یہ سہ روزہ بین الاقوامی سمینار اپنے موضوع کی ندرت اور جدت کے باعث کامیابیوں سے ہمکنارہوا۔اس میںشامل مقالہ نگاروںمیںپروفیسر محمد زماں آزردہ(کشمیر یونی ورسٹی)،پروفیسر شہاب الدین ثاقب صاحب( علی گڑھ یونی ورسٹی، علی گڑھ)،پروفیسر محمدعلی جوہر(علی گڑھ یونیورسٹی،علی گڑھ)،پروفیسر عباس رضا نیر (لکھنو یونیورسٹی ،لکھنؤ) ، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین،ڈاکٹرآصف زہری ،ڈاکٹر پرویز احمد (جواہر لال نہروں یونی ورسٹی،دہلی)، پروفیسر ابوبکر عباد ( دہلی یونیورسٹی،دہلی)،ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی (علی گڑھ)،ڈاکٹر زرینہ زرین کلکتہ یونیورسٹی،ڈاکٹر سعید احمد(عالیہ یونی ورسٹی کلکتہ،کلکتہ) پروفیسر نثار احمد(ایس وی یونی ورسٹی،ترو پتی)، ڈاکٹرامان اللہ (مدراس یونی ورسٹی،چینئی)، ڈاکٹر شمس الدین (کیرلا)،ڈاکٹر الطاف حسین ، کشمیر سینٹرل یونی ورسٹی، ڈاکٹر اویس احمد بھٹ (کشمیر یونی ورسٹی)ڈاکٹر عبدالقوی،ڈاکٹر گل رانا( تلنگانہ یونیورسٹی، نظا آباد)
ڈاکٹر اسماعیل خان(بیدر کرناٹک)،پروفیسر مسرت جہاںڈاکٹراحمد خاں،ڈاکٹر محمودکاظمی،ڈاکٹر بی بی رضا،ڈاکٹر محمد اکبر ( مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد)، ڈاکٹر رفیعہ بیگم،ڈاکٹر رئیس احمد(حیدرآباد یونی ورسٹی،حیدرآباد )،ڈاکٹر نسیم سلطانہ ،ڈاکٹر غوثیہ بانو(مہیلا یونیورسٹی ،حیدرآباد)،ڈاکٹر مخدوم محی الدین (امبیڈ کر یونی ورسٹی،حیدرآباد)،ڈاکٹر عبدلمغنی،ڈاکٹر فریدہ تبسم اور ڈاکٹر واجدہ بیگم (انوارالعلوم کالج ،حیدرآباد)وغیرہ نے اردو ادب اور ماحولیاتی تنقید پر بھرپور اور پر مغزمقالے پیش کیے۔ صدور حضرات میں پروفیسر محمد زماںآزردہ،پروفیسر رحمت یوسف زئی ،ڈاکٹر ادھیش رانی باوا،پروفیسر شہاب الدین ،پروفیسر،محمد علی جوہر،پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین،پروفیسرعباس رضا نیر،پروفیسرصادقہ نواب سحر،ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی،
محترمہ قمر جمالی،پروفیسر نسیم الدین فریس ، آمنہ تحسین ،ڈاکٹر نکہت آرا شاہین ،پرفیسر نثاراحمد، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹر اے آر منظروغیرہ نے آٹھوںاجلاس کی صدارت کے فرائض انجام کئیے۔شعبہ اردو کے تمام طالب علموں نے نظامت اور اظہار تشکر کے علاوہ سمینار کے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔خصوصاً کفیل احمد ،مختار احمد ،جاوید احمد،پنکج کمار،نازیہ ،نسرین ،ارون کمار،غلام عمر کمہار،نیہا نورین ،ریاض احمد،عباس احمد، جاوید یوسف ،سرتاج احمد ،فیصل احمد،امام احمد ،عامر حسین ،مدلاج ،سہاد اور رادھیکا وغیرہ نے تمام مہمانوں کی تواضح اور دیگر انتظامات کی ذمہ داری بڑی خوبی سے انجام دیں ۔
اس طرح تمام اجلاس بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئے۔ماحولیاتی تنقید کے اس تاریخی سمینار کے دوران ہم نے مندوبین کے ساتھ اشوکا ایک درخت لگا یا جو ماحولیات کے تحفظ کی طرف ہماری طرف سے ایک پہل ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہم ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کوایک میمو رنڈم بھیج رہی ہیں ۔پروفیسر عرشیہ جبین سمینار کوآرڈینیٹر اور ڈاکٹر محمد کاشف معاون کو آرڈینیٹر کو تمام شرکا اور اکابرین نے سمینار کے عمدہ انعقاد اور کامیابی کے لیے مبارکبادپیش کی۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...