Skip to content
جمہوریت میں:بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
دنیا کے تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں کسی نا کسی درجہ کا جمہوری نظام نافذ ہے۔ ڈیموکریسی (جمہوریت) کی اصطلاح دو الفاظ ’ڈیمو‘ یعنی عوام اور کریسی کی بمعنیٰ طاقت کا مرکب ہے۔ اسے’’لوگوں کی طاقت ‘‘کہا جاسکتا ہے ۔ جمہوریت اور انتخابات لازم و ملزوم ہیں اس لیےدونوں کے درمیان چولی دامن کارشتہ ہے۔سترہویں صدی عیسوی سے یورپ اور اٹھارہویں صدی سے شمالی امریکہ میں الیکشن کے انعقاد کا آغاز ہوا۔ جمہوریت میں خواتین کو حق رائے دہی کے لیےبیسویں صدی تک جدوجہد اور انتظار کرنا پڑا ۔ الیکشن کے انتخابی عمل سے ملک کے معاملات اور انتظامات چلانے کے لیے ایک مخصوص مدت کے بعد نئے سرے سے حکمران اور دیگر پارلیمانی نمائندوں کو عوام کے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی دو اہم اقسام میں سے ایک منتخب جمہوریت اور دوسری نمائندہ جمہوریت ہے۔ امریکہ کی پہلی قسم میں سربراہ کا انتخاب براہِ راست اور ہندوستان کے اندر طالواسطہ نمائندوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔
نمائندہ جمہوریت کی بابت یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں انتخاب کا انحصار دولت پر نہیں ہوتالیکن ہندوستان کے 87فیصد کروڈ پتی نمائندے فاقہ کش عوام کی حقیقی نمائندکیسے ہوسکتےہیں۔ ملک میں اگر دلتوں اور قبائلی لوگوں کے لیے ریزرویشن نہ ہوتا تو یہ تعداد صد فیصد ہوتی۔ امریکہ کا تو پورا کھیل ہی دولت کا ہےپھر بھی جمہوری نظام سے توقع کی جاتی ہے کہ معاشرے کے بہترین افراد کے ہاتھوں میں ملک کی زمامِ کار دینے میں یہ معاون و مددگار ہوگا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پورے امریکہ میں حکمرانی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ سے بہتر کوئی اور نہیں ہے؟ دولت کی ریل پیل اور جذباتی انتخابی مہم نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ موجودہ سیاستدانوں کی اکثریت ووٹ لے کر جیتنے کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کاجذباتی ا ستحصال کرنے کی حکمت عملی پر کاربند رہتی ہیں ۔آج کل لوگ کسی کو سزا دینے کے لیے یا اقتدار میں آنے روکنے کی خاطر اس موقع کا استعمال کرلیتے ہیں ۔ مثلاً ہندوستان کے مسلمانوں کا بی جے پی کو ہرانے والے کسی بھی امیدوار کو ووٹ دے دینا۔ سوال یہ ہے کہ امریکیوں کی تو کوئی ایسی مجبوری نہیں تھی اس کے باوجود انہوں نے ٹرمپ جیسے نااہل آدمی کو کیوں کامیاب کردیا؟
کملا حارث کی ایران دشمنی کے قطع نظر وہ بظاہر ایک روشن خیال مہذب اور تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ جہاں تک اسرائیل نوازی کا تعلق ہے اسے امریکہ میں معیوب نہیں سمجھا جاتا اس کے باوجود وہ ایک نہایت بدتمیز اور بدزبان امیدوار کے خلاف وہ عورت ہونے کے سبب ہار گئیں۔ یہ امریکہ جیسے نام نہاد روشن خیال سماج میں حقوق نسواں کی طویل جدوجہد کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے 2020 کے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا تھا۔ اس الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا کر انہوں نے متعدد عدالتوں میں مقدمات درج کروائے مگر کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہےالٹا خود ان پر انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کا تنازع ہنوز زیر تحقیق ہے۔صدر جو بائیڈن کی تاجپوشی کے دن( 6 جنوری 2021) کو یو ایس کیپیٹل ہل پر حملے کے لیے لوگوں کو اکسانے کے الزامات سے وہ ہنوز بری نہیں ہوئے ہیں۔ ٹرمپ پر قصر ابیض خالی کرتے وقت قومی سلامتی امور کی دستاویزات کے صندوق اپنے ساتھ لے جانے کا بھی سنگین الزام ہے۔ سیاسی الزامات کے علاوہ ٹرمپ امریکہ کےواحد صدر ہوں گے کہ جن کو کاروباری اندراج میں ردوبدل کرنے کے جرم میں قصوروار پایا گیا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام ِ سیاست میں یہ کوئی عیب نہیں بلکہ ایک خوبی ہے۔
ٹرمپ کے کارناموں کی یہ چند مثالیں ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ موصوف تقریباً 91 مختلف نوعیت کے الزامات اور مقدمات کے ساتھ اپنی دوسرے صدارتی دور کا آغاز کریں گے بعید نہیں کہ آئندہ دوماہ میں وہ اپنی سنچری مکمل کردیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر عوامی حقوق کے لیے کسی سیاسی احتجاج میں شرکت کا الزام نہیں ہے ۔ ان کو تو نیو یارک میں ایک اداکارہ کو غیر قانونی طور منہ بند رکھنے کی خاطر رقم ادا کرنے پر 34 سنگین جرائم میں قصور وار بھی پایا گیا تھا۔ ان کوپہلی بار سابق صدر کے طور پر باقاعدہ سزا پانے کا اعزا ز حاصل ہے۔ عدالتوں نے ان پرمصنف ای جین کیرول کو بدنام کرنے اور اپنے کاروبار میں مالی فراڈ کا ارتکاب کرنے کے الزام میں نصف ملین ڈالر سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ ان سزاوں کے بعد ٹرمپ کا جرائم میں ملوث ہوناعدلیہ کے اندر ان امیدواری کے حوالے سے ایک تنازع بن گیا تھا ۔
20دسمبر 2023کو ریاست ِ کولوراڈو نے 6جنوری 2020 کے دن کیپیٹل ہل پر واقع قصرِ ابیض پر حملے کے الزامات میں 14 ؍ ویں ترمیم کی دفع تین کے تحت ٹرمپ کوریپبلکن پارٹی میں ہونے والے ابتدائی الیکشن(پرائمری) میں حصہ لینے سے روک دیا اور ان صدارتی امیدوار بننے کے امکانات ختم کردئیے۔ اس کے بعد مزید دو ریاستوں ایلینوس اور مین میں بھی ٹرمپ پر اسی طرح کی پابندی لگائی گئی لیکن 4مارچ 2024کو امریکی سپریم کورٹ کے 9 ججز نے متفقہ طور پر انہیں الیکشن لڑنے کیلئے اہل قراردیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا کہ امریکی ریاستیں ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی امیدوار بننے سے نہیں روک سکتیں ۔ امریکی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ریاستوں کا نہیں بلکہ کانگریس کا کام ہے کہ وہ ایسے قوانین کو وفاقی دفاتر کی امیدوار کے خلاف کس طرح نافذ کرتی ہیں۔ اس کے بعد ہی ان کی امیدواری کا راستہ صاف ہوا۔
اس بات کا قوی امکان ہے کہ کرسیٔ اقتدار پر فائز ہونے کے بعدٹرمپ سب سے پہلے اپنے خلاف سارے مقدمات بند کروادیں کیونکہ جو امریکی عدلیہ اگر ایک سابق صدر کو عہدہ سنبھالنے سے روکنے کی مجاز نہیں ہے تو اقتدار پر فائز سربراہ کی جانب نظر اٹھاکر کیسے دیکھ سکتی ہے؟ یہی ہے قانون کی نظر میں مساوات کا جمہوری دعویٰ کہ جس میں سبھی کو ایک ووٹ دینے کا حق توہے مگر دینے والا اور پانے والا برابر نہیں ہیں۔مودی اور ٹرمپ بہترین دوست ہیں اس کا راز ان کی ہم مزاجی ہے۔ نرگسیت سے لبریز یہ دونوں رہنما اپنے آپ کو خدا کا متعین کردہ نمائندہ بناکر پیش کرتے ہیں۔اقتدار سنبھالنے سے قبل وہ دونوں قومی سیاست میں نووارد تھےاس کے باوجود انہوں نے روایتی طریقوں کو خوب پامال کیا۔ ان دونوں کے بیشتر سابق مشیر اور عملے کے اراکین انھیں ’جھوٹا‘، ’فاشسٹ‘ اور ’نااہل‘ قرار دے کر کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک صلاحیت پر وفاداری اور چاپلوسی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ ٹرمپ کے نزدیک میڈیا کے چند اراکین کا قتل ہو جانا بھی معمولی بات ہے اور ان کی تضحیک پر وہ فخر کرتے ہیں ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی نے امریکی عوام کے بارے میں وہ سب کہہ دیا کہ جس کو بیان کرنے کی خاطر ہزاروں صفحات درکار ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی نے یہ ثابت کردیا کہ نام نہاد ترقی یافتہ ملک کے عوام کس قدر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں ۔ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو دوبارہ بصد شوق اپنے ملک کا سربراہ مقرر کرلیا کہ جو اپنی پچھلی مدت کار میں ہر روز اوسطاً21 مرتبہ کذب گوئی کرتاتھا اور چار سالوں میں اس نے جملہ 30 ہزار جھوٹ بولے۔ ایک تفتیش کے مطابق ٹرمپ کی عوامی گفتگو کا 73 فیصدحصہ جھوٹ پر مبنی ہوتا تھا۔ اس کے باوجود عوام نے ان کو زبردست کا میابی سے نواز کر یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک صدق و حیا جیسے بنیادی اخلاقی اقدار کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ فطرتِ انسانی کے خلاف یہ رویہ کیوں اختیار کیا گیا ؟ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر ایک سبب یہ ہے انسان منافقت سے سخت نفرت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اگر کسی کا نفاق کھل جائے تو نہ صرف اس پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے بلکہ لوگ اپنے آپ کو ٹھگا ہو محسوس کرتے ہیں اور اس کا انتقام لیتے ہیں اور یہ ہوا۔
ٹرمپ اور مودی کے درمیان ایک قدرِ مشترک اپنے سیاسی مفاد کی خاطر بلا جھجک کھلے عام منافرت پھیلاکر تقسیم و افتراق کو بڑھانا بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی اشتعال انگیزی کے سامنے مودی اور شاہ پانی بھرتے ہیں۔ اپنے حریف کی تضحیک اور ان پر پھبتیاں کسنے کے علاوہ ٹرمپ اپنے سیاسی حریفوں کو انتقامی کارروائی کی دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حامی رائے دہندگان کی اکثریت چاہتی ہے کہ موصوف’اپنا منہ بند رکھیں‘۔ ٹرمپ کی رعونت اور انانیت کو اچھال کر کملا حارث نے یہ ماحول بنانے کی کوشش کی کہ ان سے امریکی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے ۔ وہ اگر منتخب ہوگئے تو ملک دوبارہ انتخابات نہیں ہوں گے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلق سے بھی یہی کہا جارہا تھا کہ وہ جمہوریت کو ختم کردیں گے اور دستور منسوخ ہوجائے گا لیکن امریکہ وہ ہندوستان دونوں ممالک کی عوام نےاس خطرے کو قابلِ اعتناء نہیں سمجھا۔ ہندوستان میں تو مودی کو 240پر روک دیا گیا مگر ٹرمپ تاریخی فتح حاصل کرتے ہوئے 300 سے آگے نکل گئے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے دنیا کی عظیم ترین جمہوریت میں جمہوری اقدار کی بقاء اور تحفظ کے نعرے میں کوئی خاص کشش نہیں ہے۔ دانشوروں کی موشگافیوں سے قطع نظر عوام یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ؎
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
Like this:
Like Loading...