Skip to content
مہاراشٹر میں سابق وزیر داخلہ پر حملا ، آخر کون سیف ہے۔
ازقلم:شیخ سلیم .ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں روز نئے اشتہارات سامنے آ رہے ہیں جن میں عوام کو تقسیم کرنے والے نعروں اور دعووں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ کسی اشتہار میں کہا جاتا ہے "بٹینگے گے تو کٹیں گے”، تو کسی اور میں دعویٰ کیا جاتا ہے "ایک ہیں تو سیف ہیں”۔ لیکن سوال یہ ہے: آخر کون سیف ہے؟
سابق وزیر داخلہ کی کار پر حملا ہوا ہے اور وہ زخمی ہو گئے ہیں ،مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے ساتھ پیش آئے واقعے نے ریاست کے قانون و نظم کی صورت حال پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ایک سابق وزیر داخلہ خود محفوظ نہیں ہیں، تو عام شہریوں کی حفاظت کا کیا حال ہوگا؟ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں قانون و نظم کا نظام بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے۔ایسا محسوس ہو رہا ہے مہاراشٹرا سرکار حکومت جانے کے خوف سے بوکھلا گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا سوال یہ ہے: اگر یہی واقعہ کسی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کے ساتھ ہوا ہوتا، تو کیا ملک کا میڈیا اس قدر خاموش رہتا؟ کیا کسی کا استعفیٰ نہ مانگا جاتا؟ کیا اپوزیشن اور میڈیا نے اسی غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا ہوتا؟ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ میڈیا اور سیاسی جماعتوں کا رویہ نہ صرف جانبدار ہے بلکہ انصاف کے اصولوں کے خلاف بھی ہے۔
یہ واقعہ حکومت کی ناکامی کی ہے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اگر سابق وزیر داخلہ ہی خود غیر محفوظ ہیں، تو حکومت کس بنیاد پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا دعویٰ کر سکتی ہے؟ عوام کو تحفظ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور اس میں ناکامی پورے نظام پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ مہاراشٹر میں امن و امان کی بحالی ہو سکے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے، اور یہ اعتماد بحال کرنے کے لئے سخت فیصلے لینے کا وقت آ گیا ہے۔
میڈیا اور اپوزیشن سے بھی گزارش ہے کہ وہ انصاف اور غیرجانبداری کو ترجیح دیں اور عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔ عوام کی حفاظت اور انصاف کو یقینی بنانا ہی مہاراشٹر کو ترقی کے راستے پر لے جانے کا واحد ذریعہ ہے۔
Like this:
Like Loading...