Skip to content
مسلمانوں کی معاشی اور سیاسی غربت
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
ارندھتی رائے اپنی کتاب "دی ڈاکٹر اینڈ اے سینٹ” میں غربت کا ایک ایسا تصور پیش کرتی ہیں جو روایتی معاشی تعریفوں سے آگے نکل جاتا ہے۔ ان کا نظریہ ہمیں ایک کڑوی حقیقت سے روشناس کرتا ہے ہندوستان میں غربت محض قلیل آمدنی کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور ادارہ جاتی محرومی کا ایک پیچیدہ جال ہے جو سماجی ناانصافی کو مزید گہرا کرتا ہے۔
ہندوستان میں غربت کی حقیقت محض معاشی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ سرکاری غربت کی حد دیہی علاقوں کے لیے 1,286 روپے ماہانہ اور شہری علاقوں کے لیے 1,481 روپے مقرر کی گئی ہے، یہ اعداد و شمار معاشرے کے پسماندہ طبقات کی متعدد محرومیوں کو بیان نہیں کرتے۔ عالمی بینک کے مطابق 14 کروڑ ہندوستانی اب بھی شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہ تعداد ان کی روزمرہ کی مظلومیت کو بیان نہیں کرتی۔
سیاسی نمائندگی کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہندوستان کے سیاسی منظر نامے میں اقلیتوں کی شرکت انتہائی محدود ہے – سمندر میں ایک قطرے کے برابر۔ 14.2 فیصد آبادی رکھنے والے مسلمانوں کو 17 ویں لوک سبھا میں صرف 27 نشستیں ملیں، جو کل نشستوں کا محض 5 فیصد ہے۔ اگرچہ شیڈول کاسٹ (دلت) اور پسماندہ ذاتوں کے لیے 84 نشستیں مخصوص ہیں، لیکن ان کے نمائندے اکثر برادری کے مخصوص مسائل اٹھانے میں ناکام رہتے ہیں۔ کئی ریاستوں میں اقلیتی نمائندگی میں مسلسل کمی آئی ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔ ہر کوئی اقلیتوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن کوئی حقیقی نمائندگی نہیں کرتا۔
ادارہ جاتی حاشیہ آرائی ہر جگہ نظر آتی ہے، عدالتی نظام سے لے کر معاشی وسائل تک۔ شیڈول کاسٹ کے خلاف جرائم میں 2019 سے 2020 کے درمیان 9.4 فیصد اضافہ ہوا، لیکن ان معاملات میں سزا کی شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔ زیر حراست قیدیوں میں سے نصف سے زیادہ پسماندہ برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ پولیس فورس میں مسلمانوں کی نمائندگی 14.2 فیصد آبادی کے مقابلے میں محض 4 فیصد سے بھی کم ہے۔
روایتی روزگار بحران کا شکار ہیں۔ چمڑے کی صنعت، جو شیڈول کاسٹ کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ تھی، اب شدید چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ مختلف ہنرمند صنعتوں میں مسلم کاریگر معاشی دباؤ کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کھو رہے ہیں۔ مویشیوں کی تجارت اور چھوٹی گوشت کی دکانیں، جو اقلیتی برادریوں کے لیے آمدنی کے اہم ذرائع تھے، سخت ضوابط اور مسلسل پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
حلقہ بندی Delimitation کے ذریعے اقلیتوں کو مزید حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر اور آسام میں 2022 کی حلقہ بندی کے فیصلے نے بہت سے کشمیریوں کے سیاسی وزن کو متاثر کیا ہے۔ اسی طرح، 2026 میں ہونے والی ملک گیر حلقہ بندی نے اقلیتوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ عمل اکثر اقلیتوں کے کثیف آبادی والے علاقوں کو تقسیم کر کے ان کی سیاسی طاقت کو کمزور کر دیتا ہے۔
عدم تحفظ کا سب سے خوفناک مظہر جسمانی تشدد اور سماجی بائیکاٹ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ 2015 سے 2022 کے درمیان اقلیتوں پر بھیڑ کے 400 سے زیادہ حملے Mob lynching رپورٹ کیے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ان حملوں کے متاثرین کو ایف آئی آر درج کرانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشی بائیکاٹ اور سماجی تنہائی اقلیتوں کو کمزور کرنے کے اہم آلات بن گئے ہیں۔ شہروں میں اقلیتوں کو مخصوص علاقوں تک محدود کرنے کا رجحان بھی ان کے تحفظ اور آزادی کے حق پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں صاف صاف لکھا ہوتا ہے "مسلمانوں کی اجازت نہیں ہے”۔
ان تمام مسائل کا حل ایک جامع اور کثیر جہتیسیاسی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ صرف معاشی ترقی کافی نہیں ہوگی۔ سیاسی نمائندگی کو مضبوط کرنا ہوگا – یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی کے بغیر اقلیتوں کی آواز نہیں بن سکتا اور انصاف نہیں دلا سکتا۔
ارندھتی رائے کا غربت کا وسیع تصور ہمیں سکھاتا ہے کہ یہ مسئلہ محض معاشی کمزوری کا نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور ادارہ جاتی استحصال کا ہے۔ ہندوستان کو ایک حقیقی ترقی یافتہ اور منصفانہ معاشرہ بنانے کے لیے، ہمیں غربت کو اس کے تمام پہلوؤں میں پہچاننا اور اس کے حل کی تلاش کرنی ہوگی۔ یہی راستہ مساوات اور انصاف کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنی قیادت کو مضبوط کرنا ہوگا، اپنی سیاسی نمائندگی کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنا ہوگا، اور اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں جا کر انصاف کی آواز بلند کرنی ہوگی۔اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...