Skip to content
مراد رسولﷺ ،محدث خیر امم ،امام العادلین ، فاتح بیت المقدس،منبع رشد وہدایت، مخزن فہم و فراست
خلیفۃ المسلمین خلیفئہ ثانی امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ
محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ،
حال مقیم ریاض، سعودی عرب
8277465374گلبرگہ
0534614773ریاض
حضور اکرم ﷺ کا فرمان”لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطا ب میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ابن الخطاب ہوتے،بارگاہِ رسالت ﷺسے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کئی خطاب اور فضائل سے سرفراز ہوئے ہیں،حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیںنبی اکرمﷺ نے جنت کی بشارت دی، آپ ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنہیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعاؤں میں مانگا تھا نے جس دن اسلام قبول کیا اسی دن پہلی دفعہ کعبہ کی چھت پہ کھڑے ہوکرحضرت بلال حبشی رضی عنہ نے اذان دی ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا تھا آج سے چھپ کر نماز نہیں پڑھنی کافر کو بھی پتہ چلے عمر اسلام قبول کرچکا ہے ۔امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ وہ صحابی رسول ﷺہیں کہ ایک بار آپ رضی اللہ عنہ عمرہ کے سفر پر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذاتِ خود آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی دعاوں میں یاد رکھنے کا فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ایک بار میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاوں میں نہ بھول جانا۔‘‘ ترمذی میں یہ الفاظ ہیں:اے میرے بھائی! ہمیں بھی اپنی دعاوں میں شریک رکھنا کہیں بھول نہ جانا۔امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اس امت کے محدث ہیں ۔اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عَنْہَاسے روایت ہے کہ رَحْمَۃٌ العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پہلی امتوں میں مُحَدَّثْ ہوتے تھے میری امت میں اگر کوئی مُحَدَّث ہے تو وہ عمر ہے۔‘ علامہ محب طبری عَلَیْہِ رحمہ فرماتے ہیں یہاں مُحَدَّث کا معنی یہ ہے کہ جس پر ربانی الہام ہو، یعنی وہ لوگ جن پر وحی نہیںآتی مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے آئینہ قلب پر اسرار نازل فرماتاہے۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سیِّدُنا عمر بن خطاب کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں۔
امام العادلین ،غیظ المنافقین،امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی کنیت ’’ابو حفص‘‘ اور لقب ’’فاروقِ اعظم‘‘ ہے۔ آپ دراز قد، بھاری جسم اور سفید رنگت والے تھے اورداڑھی مبارَکہ گھنی اور گھنگریالی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ عامُ الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے، یوں آپ رضی اللہ عنہ کی تاریخ ولادت 583 عیسوی ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت سیّدنا عُمَر فاروق رضی اللہ عنہ 39مَردوں کے بعد، رحمت العالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دُعا سے اِعلانِ نبوت کے چھٹے سال ایمان لائے۔آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی یہاں تک کہ کفّار و مشرکین یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ آج ہماری طاقت گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام کے فوراً بعد اس کا اظہار فرمادیا اور بارگاہِ رسالتﷺ میں عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’کیوں نہیں” عرض کیا: ’’پھر اظہار حق میں خوف اور خطرے کا احساس کیوں۔‘‘ بعد ازاں تمام مسلمان دو قطاروں میں کعبۃ اللہ شریف گئے۔تاریخ الخلفاء، ص۰۹۔ قبول اسلام کے بعد آپ رضی اللہ عنہ بڑے بڑے کفار مکہ کے گھروں میں خود گئے اور ان پر اپنا اسلام ظاہر کیا۔ نیز کعبۃ اللہ شریف میں جاکر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس سے تمام کفار مکہ میں یہ بات فی الفور پھیل گئی۔طبقات کبری، ذکر اسلام عمر، ج۳، ص۴۰۲۔آپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے اسلام کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا اسلام کو تقویت ملی، مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے اور اعلانیہ اسلام کی دعوت دی جانے لگی، مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں کفار مکہ کے سامنے اعلانیہ نماز ادا کی، کفار کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمانوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عزت بخشی۔اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعدبھی حضرت سیّدنا عُمَر فاروق رضی اللہ عنہ اشرافِ قریش میں اپنی ذاتی و خاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز تھے۔ آپ ؓنے زمانہ جاہلیّت میں کفّارِ مکّہ کے لئے کئی جنگوں میں سِفارَت کے فرائض بھی سر انجام دئیے تھے۔ (تاریخ الخلفاء، ص99 )جب کفار مکہ کاظلم وستم حد سے بڑھا تو مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنا شروع کردی، تمام مسلمان تقریباً چھپ کر ہجرت کرتے تھے تاکہ کفار کے ظلم وستم سے محفوظ رہیں لیکن حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اِعلانیہ مدینہ منورہ ہجرت کی۔آپ رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں مجاہدانہ شان کے ساتھ کفّار سے لڑتے رہے۔ کئی مَعْرِکوں میں سپہ سالار کے فرائض بھی سرانجام دئیے جبکہ وزیر و مشیر کی حیثیت سے تمام اسلامی معاملات اور صُلح و جنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وفادار رفیقِ کار رہے۔آپ رضی اللہ عنہ زُہد و تقویٰ، عدل و انصاف اور خوف خدا کے جس مقام پر فائز تھے وہ آپ ؓہی کا مقام ہے سفر ہو یا حَضَر، گھر میں ہوں یا باہر آپ ؓنے اپنی زندگی نہایت سادَگی سے گزاری۔ جہاں آرام کرنا ہوتا تو زمین پر چادر بچھاتے اور اس پر لیٹ جاتے، کبھی درخت پر چادر ڈال کر اس کے سائے میں آرام کرلیتے۔ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے تو اس وقت بدن پر موجود چادر میں 12 پیوند لگے ہوئے تھے۔ایک عظیم سلطنت کے عظیم امیر ہونے کے باوجود عاجزی کا یہ عالَم تھا کہ ایک بار کندھے پر پانی سے بھرا ہوا مشکیزہ اٹھایا ہوا تھا، کسی نے عرض کی: اے مسلمانوں کے امیر! یہ کام آپ ؓکے لئے مناسب نہیں ہے۔ فرمایا: میرے پاس لوگوں کے وفد دَر وفد آتے ہیں جس کی وجہ سے مجھے اپنے دل میں فخر و بڑائی کی لہر محسوس ہوئی لہٰذا مشکیزہ اٹھا کر اس لہر کو پاش پاش کردینا چاہتا ہوں۔ پھر انصاری صحابیہ رضی اللہ عنہَا کے گھر کے قریب تشریف لائے اور ان کے برتنوں کو پانی سے بھر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے بچوںسے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کروعمربخشا جائے۔ آپ ؓکی زبانِ اقدس پر اکثر اللہ اکبر‘‘ جاری رہتا تھا۔ آخری عمر میں مسلسل روزے رکھنا شروع کردیئے تھے۔
دنیا نے 22 لاکھ مربع میل پر خلافت کرنے والا ایسا خلیفہ بھی دیکھا ہے،جس کے کپڑوں پر 17 پیوند لگے تھے ۔سن 13 ہجری میں مسندِ خلافت پرجلوہ فرما ہوئے اور دس سال چھ ماہ تک فائز رہے۔ سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اتنے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں کہ انسان اپنی تمام تر شعوری کوششوں کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ آپ کے کس کارنامے کو سب سے بڑا اور اصل کارنامہ سمجھے۔ سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ دینی شورائی بنیادوں پر آئین حکومت وضع کرنااور عادلانہ نظام قائم کرنا ہے جو مسلمانوں کی جملہ سعادتوں اور ترقیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے بنیادی حقوق، بلا تفریق مذہب اور رنگ و نسل کا ضامن تھا۔ جس کے بغیر مضبوط نظام حکومت اور صالح معاشرہ کی تشکیل کا تصور بے سودتھا آپ رضی اللہ عنہ کے قائم کردہ نظام سے دنیا بلاتفریق نسل و مذہب ہمیشہ استفادہ کرتی رہے گی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی سال کاآغاز فرمایا۔ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی خلافت میں بے شمار کارنامے انجام دے کر تاریخ میں ایک باب رَقم کیا ،آپ کا ہرکارنامہ تاریخی ہے،جدھر آپ کی نگاہِ مبارک اُٹھ جائے وہ ملک فتح و نُصرت پاتا تھا۔ ہر طرف آپ کی عظمت کا جھنڈا لہرا رہا تھا ہر وہ طاقت جو اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف اُٹھتی آپ نے اُسے نیست و نابود کردیا۔اس دور میں قیصروکسری سُپرپاور ہوا کرتی تھی قیصرو کسریٰ بھی آپ کے نام سے کانپتے تھے ۔آپ ؓ کے دورِ حکومت میں ایک ہزار سے زائد شہر فتح ہوئے، چار ہزار سے زائد مساجد تعمیر کی گئیں۔کسی شخص کو کسی صوبے پر حاکم مقرّر کرتے تو اس کے تمام مال و اثاثوں کی فہرست لکھوا کر اپنے پاس محفوظ کرلیتے تھے۔ بعد میں جن افسران کے اثاثے زائد ہوتے اور وہ ان کی کوئی صحیح وجہ بیان نہ کرپاتے تو ان اثاثوں کو بیتُ المال میں جمع کروانے کا حکم فرما دیتے۔ آپ رضی اللہ عنہ خود فرماتے تھے: لوگ تب تک راہِ راست پر رہتے ہیں جب تک ان کے راہنما اور سربراہ راہِ راست پر رہتے ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نماز کے معاملہ میں کسی دوسری چیز کو اَہمیت نہ دیتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام صوبوں کے گورنروں کے پاس یہ فرمان بھیجا کہ میرے نزدیک نماز تمہارے سب کاموں میں اہم ہے جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس پر ہمیشگی اختیار کی اس نے اپنا دین محفوظ کرلیا اور جس نے اسے ضائع کیا وہ دیگر معاملات کو بھی ضائع کردے گا۔ حضرت عُمَر فاروق رضی اللہ عنہ جس رستے سے گزرتے تھے شیطان بھی وہ رستہ چھوڑ دیتا۔فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان دیکھئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی صرف دو سطروں سے دریائے نیل آج تک رواں دواں ہے ۔
ایک مرتبہ آپ نے ایک وفد بیت المقدّس بھیجا وہ وَفد کوئی عام آدمیوں کا نہیں بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا وَفد تھا یہ وَفد بیت المقدّس پہنچا یہ اُس دور کی بات ہے جب بیت المقدّس پر پادریوں کا قبضہ تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدّس کو پادریوں کے چُنگل سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پادریوں سے کہا کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب سے یہ پیغام لائے ہیں کہ تم لوگ جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔ یہ سُن کر پادریوں نے کہا ہم لوگ صرف تمہارے امیر المومنین کو دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جو نشانیاں ہم نے فاتح بیت المقدّس کی اپنی کتابوں میں پڑھی ہیں وہ نشانیاں ہم تمہارے امیر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ نشانیاں تمہارے امیر میں موجود ہوئیں تو ہم بغیر جنگ و جدل کے بیت المقدّس تمہارے حوالے کردیں گے یہ سُن کر مسلمانوں کا یہ وَفد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوااور سارا ماجرا آپ کو سُنایا۔امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا ستر پیوند سے لبریز جباپہنا، عمامہ شریف پہنا اور جانے کے لئے تیار ہوگئے سارے صحابہ کرام علیہم الرضوان، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگے امیرالمومنین! وہاں بڑے بڑے لوگ ہوں گے، بڑے بڑے پادری ہوں گے آپ رضی اللہ عنہ اچھا اور نیا لباس پہن لیں۔ ہمارے بیت المال میں کوئی کمی نہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی یہ بات سُن کر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو جلال آگیا اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ یہ سمجھے کہ عمر کو عزت حکومت کی وجہ سے ملی ہے یا اچھے لباس کی وجہ سے ملی ہے؟ ایسا نہیں ہے عمر کو عزت حضور صلی علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ سے ملی ہے آپ رضی اللہ عنہ فوراً سواری تیار کر کے روانہ ہوگئے جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالی عنہ بیت المقدّس پہنچے تو حضرت عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا حُلیہ مبارک دیکھ کر، سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو دیکھ کر پادریوں کی چیخیں نکل گئیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قدموں میں گرپڑے اور بیت المقدّس کی چابیاں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے کردیں اور کہنے لگے کہ ہمیں آپ سے جنگ نہیں کرنی کیونکہ ہم نے جو حُلیہ فاتح بیت المقدس کا کتاب میں پڑھا ہے یہ وہی حُلیہ ہے اس طرح بغیر جنگ کے بیت المقدّس آزاد ہوگیا۔
یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اور تربیَت کا گہرا اثر تھا کہ اسلامی احکامات نافذ کرنے اور ان پر عمل کروانے میں کسی قسم کی رعایت نہیں کرتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ بازار میں ایک بہت موٹا اونٹ فروخت ہوتے دیکھا تو پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا: آپ کے بیٹے کا ہے، فوراً بیٹے کو بلوایا اور اونٹ کے موٹا تازہ ہونے کا سبب دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: یہ اونٹ سرکاری چراگاہ میں چَرتا ہے اس لئے اتنا فربہ ہوگیا ہے۔ آپ ؓنے حکم ارشاد فرمایا: اس اونٹ کو بیچ کر اونٹ کی عام رقم اپنے پاس رکھ لو اور باقی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروادو۔ ایک واقعہ یہ بھی ملتا ہیکہ صحرائے عرب کی چِلْچِلا تی اور سخت دھوپ میں ایک شخص اپنے سَر پر چادر ڈالے مدینہ منورہ کی جانب بڑھ رہا تھا، راستے میں گدھے پر سوار ایک غلام کو دیکھا تو اس سے کہا: گرمی بہت ہے مجھے اپنے پیچھے سوار کرلو، غلام نے اس شخص کو پہچان لیا، فوراً اُتر کر عرض کی: آپ اس پر سوار ہوجائیے، مگر اس شخص نے کہا: تم سوار ہوجاواور میں تمہارے پیچھے بیٹھوں گا، غلام نے پھر عرض کی: آپ سوار ہوجائیے اور میں پیدل چلتا ہوں، مگر وہ شخص نہ مانا بالآخر غلام نے اس شخص کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ دونوں سوار جب مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہوئے تو لوگ اس شخص کو حیرت سے تَک رہے تھے۔ (تاریخِ ابنِ عساکر، ج44،ص318 ملخصاً)غلام کے پیچھے سوار ہونے والا کوئی عام آدمی نہ تھا بلکہ وہ عظیم ہستی تھی جس نے کفر و گمراہی کے شہروں میں ہدایت کی شمع روشن کیں، قیصر و کسریٰ کے غرور کو خاک میں ملایا، جس کے دورِ حکومت میں ایک ہزار سے زائد شہر فتح ہوئے، چار ہزار سے زائد مساجد تعمیر کی گئیں ۔حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رَحْمَۃٌ العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ایک سونے کا محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟‘‘ تو فرشتوں نے عرض کیا یہ محل عمر بن خطاب کا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عمر! اگر مجھے تمہاری غیرت کا علم نہ ہوتا تو میں اس محل میں ضرور داخل ہوتا۔‘‘ یہ سن کر سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ آبدیدہ ہوگئے اور عرض کرنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میںآپ پر بھی غیرت کروں گا۔
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت ﷺسے کئی فضائل حاصل ہوئے ۔ اِن تمام فضائل کی تفصیل بھی کتب اَحادیث میں موجود ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہادت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے آپ رضی اللہ عنہ کی اقتداء کا حکم فرمایا۔آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وزیر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیِّدُنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدناوعمر رضی اللہ عنہ کو اپنے کان وآنکھیں فرمایا۔‘ آپ رضی اللہ عنہ پختہ عمر والے جنتیوں کے سردار ہیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیِّدُنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وسیدناعمر رضی اللہ عنہ کو اپنا رفیق خاص فرمایا۔بروز قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسیِّدُنا صدیق اکبر کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ اپنی قبر انور سے باہر تشریف لائیںگے۔ ‘امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کے وصال پر اسلام رویا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبریل امین نے مجھے بتایا: اسلام عمر ابن الخطا ب کی وفات پر روئے گا۔‘‘
محرم کی پہلی تاریخ کو امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا عظیم سانحہ پیش آیا، وہ عمر رضی اللہ عنہ جن کی شہادت یقیناََ واقعہ کربلا سے زیادہ درد ناک ہے، اس لئے کہ اسلام کو رفعت وعظمت کی بلندیوں تک پہنچانے والے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی تھے جن کو برادر رسول ﷺاور مطلوب اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جن کے سایہ سے بھی شیطان بھاگتا تھا اور جن کی ذات میں خاتم النبین سید المرسلین ﷺ کو صفات نبوت نظر آتی ہیں۔تاریخ عالم کے اس عظیم خلیفہ وحکمران کی پوری زندگی عزّت و شرافت اور عظمت کے کارناموں کی اعلیٰ مثال تھی، 26ذو الحجۃ الحرام کی صبح ایک مجوسی غلام ابو لو لو فیروز نے آپ پر فجر کی نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا اور شدید زخمی کردیا، آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، جب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر آپ ؓکے گھر میں لائے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہوچکی تھی ہوش میں آتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کی پھر چند دن شدید زخمی حالت میں گزار کر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ حضرتِ صُہَیْب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یکم محرَّم الحرام 24ہجری روضہ رسول میں خلیفہ اوّل حضرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔بوقتِ شہادت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک 63برس تھی۔آپ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کی تعداد 537 ہے۔آپ ؓ کی شہادت سے اسلام کے سنہری دور اور فتنوں کے درمیان کی دوری کاباندھ ٹوٹ گیا تھا۔
Like this:
Like Loading...