Skip to content
مہاراشٹرا کی سیاست انتخابات سے حکومت کا پیچیدہ سفر
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور اب حکومت سازی کے لیے تمام جماعتیں اپنی پوری کوشش کریں گی۔ سیاسی ماحول گرم ہے اور اس بار کے انتخابات میں کئی اہم مسائل زیر بحث ہیں۔ 23 تاریخ کو نتائج کا اعلان ہوگا، اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے درمیان اقتدار کی کشمکش اپنے عروج پر ہے۔
بی جے پی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ریاست میں مہا وکاس اگھاڑی دوبارہ حکومت نہ بنا سکے۔ اطلاعات کے مطابق، بی جے پی چاہتی ہے کہ 26 نومبر تک صورتحال غیر واضح رہے تاکہ صدر راج نافذ کیا جا سکے۔ دوسری جانب، مہا وکاس اگھاڑی، جس میں شیوسینا (ادھو گروپ)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس شامل ہیں، بی جے پی کے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کی تیاری میں ہے۔ مہا وکاس کی ایک ذرا سی غلطی مہا وکاس کو اقتدار سے دور کر دےگی اُنہیں آپس میں اتحاد کو ہر قیمت پر قائم رکھنا ہوگا۔ وزیر اعلی کی کرسی سے آگے سوچنا ہوگا۔
دھاراوی کی بازآبادکاری Re-Development کا منصوبہ ان انتخابات میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے ایک انٹرویو میں اس پروجیکٹ کے لیے اڈانی گروپ کی حمایت کی، جس سے سیاسی حلقوں میں کافی بحث چھڑ گئی ہے۔
ادھو گروپ کی شیوسینا اڈانی گروپ کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کئی بار انتخابی جلسوں میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کی حکومت بنی تو دھاراوی پروجیکٹ سے اڈانی کو ہٹا دیا جائے گا۔ یہی بات ان کے بیٹے اور نوجوان رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے بھی بارہا کہی ہے۔
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی اڈانی گروپ کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا سے لے کر اپنی انتخابی تقریروں تک، انہوں نے بارہا اڈانی اور بی جے پی کی کارپوریٹ نواز پالیسیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
مہاراشٹر کی سیاست میں صنعتکاروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ یہ بات عام طور پر کہی جا رہی ہے کہ اس بار صنعتکار بی جے پی اور شیو سینا (شندے گروپ) کے اتحاد کو اقتدار میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔شرد پوار کے فیصلوں کو لے کر ہمیشہ غیر یقینی رہتی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ آخری وقت تک اپنے پتے نہیں کھولتے۔ این سی پی کے اندر شرد پوار اور ان کے بھتیجے اجیت پوار کے درمیان حالیہ اختلافات نے ریاست کی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اجیت پوار پہلے ہی اتحاد میں شامل ہو چکے ہیں، جب کہ شرد پوار اب بھی مہا وکاس اگھاڑی کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔
انتخابی عمل کے دوران مہاراشٹر میں دولت کے بے تحاشا استعمال کو ہم دیکھ چکے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق، ریاست میں پیسہ استعمال کر کے ارکان اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی جائے گی، جو جمہوری اقدار کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
دھاراوی پروجیکٹ سے لے کر اقتدار کی جنگ تک، ہر مسئلہ اس بار کے انتخابات میں اہم کردار ادا کرے گا۔ عوام کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ وہ اپنے لیے کس قسم کی قیادت منتخب کرتے ہیں—ایسی جو ان کے مفادات کا تحفظ کرے یا ایسی جو صنعتکاروں کے دباؤ میں فیصلے کرے۔
مہاراشٹر کا یہ انتخاب صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ ترقی، شفافیت اور جمہوری اقدار کی آزمائش بھی ہے۔ ملک میں آنے والے سالوں میں سیاست کیسی ہو یہ بھی طے کرےگا ۔جہاں بی جے پی صدر راج کے امکانات بڑھانے میں مصروف ہے، وہیں مہا وکاس اگھاڑی اور اڈانی پروجیکٹ جیسے مسائل عوام کے سامنے سوچنے کے لیے بڑے سوالات پیش کر رہے ہیں۔
آنے والے چند ہفتے ریاست کی سیاست کی سمت طے کریں گے۔ یہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا اس بار بھی اقتدار کی سیاست ان کے خوابوں اور خواہشات پر غالب آتی ہے یا پھر روزگار، تعلیم اور ترقی جیسے حقیقی مسائل کو ترجیح ملتی ہے۔
Like this:
Like Loading...