Skip to content
دین پر سو فیصد عمل ،تعلیم اور معاشی استحکام کیلئے مسلمانوں کو 25سال کاایجنڈہ بنانا چاہئے.
مسجد اسٹڈی سرکل کے افتتاحی اجلاس سے حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی اورداکٹر عبدالقدیر کا خطاب
مولانا عمرین محفوظ رحمانی ”حکیم الملت ایوارڈ“ اور ڈاکٹر عبدالقدیر ”مجدد تعلیم“لقب سے سرفراز
مسلمانوں کو 25سال کا ایک ایجنڈہ بنانا چاہئے اور اس میں تین مقاصد کے حصول میں لگ جانا چاہئے اول مقصد تعلیم اور اس کے ساتھ معاشی اعتبار سے استحکام اور تیسرا اللہ کے دین پر سو فیصد عمل کرنا۔کوشش کریں کہ ان تینوں محاذ پر تمام مسلمان مضبوطی کے ساتھ جم جائیں۔مسجد فیض المبین،مدرسہ تجوید القرآن گلبرگہ کے بالائی منزل پر مسجد اسٹڈی سرکل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے 25سالہ ایجنڈہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات کو زمینی سطح پر پورے سماج میں اتاریں،ہمارے سماج میں غیر اسلامی چیزیں ہماری غفلت کی وجہہ سے آئی ہیں۔ معاشرہ سے سنگھ اور سودی نظام کو نکال باہر کریں،یہ سنگھ اور سودی نظام فردکو بھی تباہ کرے گا اور معاشرہ کو بھی برباد کرے گا۔سودی نظام اللہ اور رسول اللہ ﷺ کیخلاف بغاوت اور جنگ ہے اور اللہ اور رسول اللہ ﷺسے بغاوت کرکے کوئی ترقی نہیں کرسکتا،اس معاملی کی حساسیت کو سمجھیں اور سنگھ و سودی نظام کیخلاف مہم چلائیں،سودی نظام کو ختم کرکے صدقہ خیرات و زکواۃ کا نظام برپا کریں۔
خدمت خلق کے جذبہ کے تحت جتنی غیر اسلامی چیزیں انہیں معاشرہ سے دور کریں کیونکہ یہ معاشرہ کی ترقی میں رکاوٹہیں،صرف تبصرہ کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے بلکہ ہم اپنے حصہ کے کام اپنی ذمہ داری محسوس کرکے کرتے رہیں۔ حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ مسجد فیض المبین اسٹڈی سرکل کے افتتاح کے موقع پر حاضر ہونا ہمارے لئے خوش نصیبی ہے۔خیر کے کسی بھی کام میں شرکت ہم سب کیلئے سعادت ہے۔مولانا نے فرمایا کہ جہاں بارش نہیں ہوتی وہاں فصلیں تباہ ہوتی ہیں اور جہاں تعلیم نہیں ہوتی وہاں نسلیں تباہ ہوتی ہیں تعلیم ہی ہماری مشکل کا حل اور باشعور معاشرہ کی بنیاد ہے،علم ہماری میراث ہے لیکن مشکل یہ ہوئی کہ مسلمانوں نے تعلیم اور علم سے سے رشتہ توڑا تو آسمان کی بلندیوں سے جہالت کی گہرائیوں میں گرگئے، ضرورت یہکہ ہم اپنی نسل کو بہترین دینی تعلیم اور اعلی عصری تعلیم دیں اور ان میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کریں مسجد اسٹڈی سرکل کے ذریعہ مسجد سے جوڑ کر طلباء کیلئے تعلیم اور مطالعہ کا انتظام کرنے کا مقصد یہی ہیکہ ان کا رشتہ تعلیم کے ساتھ اللہ کے گھر مسجد سے جوڑا جائے اور وہ تعلیم کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو بھی جانیں،رسول اللہ ﷺ کی اتباع پوری ملت و انسانیت کیلئے نجات کا باعث ہے،ان کا مسجد سے جڑنا صرف دین کو درست نہیں کرے گا بلکہ ان کی دنیابھی بنادے گا،مسجد سے رشتہ ان کی دینداری میں آبیاری کرے گا۔
مولانا نے فرمایا کہ قیامت کے دن سات قسم کے لوگ عرش کے سائے میں ہونگے ان میں سے ایک وہ ہے جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے یعنی آج جو مسجد کے سائے میں ہے وہ روز قیامت عرش کے سائے میں ہوگا،فکرکریں کہ نئی نسل مسجدوں سے جڑ جائے چاہے وہ کسی بہانہ سے ہو اسٹڈی کے بہانہ سے یا مطالعہ کے بہانہ سے اس سے ان کا مستقبل تابناک اور روشن ہوگا اور مسجد سے ان کا رشتہ دین سے رشتہ کو مضبوط کرے گا۔اس کے برخلاف اگر ہمارے بچے صرف اعلی تعلیم حاصل کریں اور دین سے دور ہوجائیں تو پھر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ہے اگر تعلیم کی روشنی ملے اور دین کا نور چلا جائے تو یہ خسارہ کا سودہ ہے،ہماری بچیاں تعلیم کے راستہ ارتداد تک پہنچ رہی ہیں یہ دین سے دوری کا نتیجہ ہے،ہماری بنیادی ذمہ داری ہیکہ ہم محفوظ اور محتاط ماحول میں تعلیم کا انتظام کریں تاکہ اعلی تعلیم کے ساتھ وہ دین کے داعی بھی بنیں۔
مولانا نے فرمایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی یہ کوشش کہ طلباء کو تعلیم کے ساتھ مسجدوں سے جوڑیں یہ ان کی قابل ستائش کوشش ہے۔اللہ ان کے ذریعہ ملت کیلئے کئی کام لے رہا ہے یہ ان کے خلوص اور حسن عمل کی علامت ہے۔مولانا نے فرمایا کہ حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب خدمت خلق کے تحت ملک بھر میں جو کارنامے انجام دے رہے ہیں وہ اپنی نوعیت کا منفرد کارنامہ ہے، وہ صرف عالم ہی نہیں ایک درد مند دل کے مالک ہیں اور اللہ نے ان کو یہ حوصلہ بخشا ہیکہ وہ ملت کو مستحکم کرنے کے مختلف کام اور خدمت خلق کے مختلف کاموں کو خون جگر سے سیراب کرکے ملت اور انسانیت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ جو آدمی خدمت کر رہا ہو ہمیں کھلے دل سے اس کا اعتراف کرنا چاہئے،ان کے رفیق بن کر ساتھ دینا چاہئے اور فریق نہیں بننا چاہئے اور جہاں تک ہوسکے اچھے کاموں میں اپنی شرکت کو سعادت سمجھیں،اللہ حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب کو جزائے خیر دے اور ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔
مولانا نے فرمایا کہ حضرت مولانا نذیر احمد رشادی بھی خدمت خلق کا یہ مشن جاری رکھے ہوئے ہیں اللہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔مسجد اسٹڈی سرکل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر چیرمین شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس نے کہا کہ پرسکون اور بابرکت ماحول میں طلباء پڑھ سکیں اس مقصد کے ساتھ یہ اسٹڈی سینٹر قائم کیا گیا ہے،اسٹڈی کے ساتھ نمازوں کی بھی پابندی ہوگی۔مسجدوں میں صرف عبادت نہیں بلکہ یہاں مطالعہ،دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت اور کارخیر کے کام بھی ہوں تاکہ لوگ مسجد سے جڑے رہیں، اس کے علاوہ سنگھ مخالف مہم چلائی جارہی ہے آپ لوگ بھی یہ مہم چلائیں،علماء اکرام کی نگرانی میں ہفتہ میں ایک مرتبہ خواتین کا اجتماع رکھ کر اس کیخلاف بیداری پیدا کریں تاکہ ہماری بہنیں اس دلدل اور لعنت سے محفوظ رہیں اس سے دیوثیت سے بھی بچا جاسکتا ہے اور اپنی نسلوں کو بھی اس سے بچایا جائے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے کہا کہ حلال کمائی کیلئے علم و ہنر سیکھنا فرض کی حد تک ضروری ہے دینی و عصری تعلیم کو الگ الگ نہ سمجھیں ان دونوں کا حاصل کرنا فرض ہے، وہ سنہری دور تھا جب ایک چھت کے نیچے دینی و عصری تعلیم دی جاتی تھی آپ کوشش کریں کہ پھر سے وہ ماحول بن جائے، دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم کوالگ کرکے ہم نقصان میں آئے ہیں۔مطالعہ اور اسٹڈی کیلئے مسجد سینٹر آئیں،مسجدوں سے تمام مسائل کا حل ہو ایسا نظام بنائیں ،حضرت مولانا غیاث احمد رشادی کی بڑی فکر ہے کہ منبر و محراب فاونڈیشن کے تحت 10ریاستوں میں اسٹدی سینٹر قائم کئے جائیں۔آپ اپنے بچوں کو مسجد سینٹر بھیجنے کی فکر کریں انشاء اللہ دو چار مہینوں میں ماحول بن جائیگا۔
حضرت مولانا نذیر احمد رشادی نے اس خصوصی افتتاحی اجلاس میں حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں *حکیم الملت ایوارڈ* پیش کیا جس کو مولانا نے خندہ پیشانی سے شکریہ کے ساتھ قبول کیا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کو *مجدد تعلیم* کے لقب کے ساتھ مومنٹو پیش کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے بھی خندہ پیشانی سے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔مولانا نے فرمایا کہ ہم حضرت مولانا غیاث احمد رشادی کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور اکابرین کے ہر پیغام پر جو ہم سے ہو سکتا ہر ممکن کام کریں گے۔
مولانا نے بتایا کہ گلبرگہ ضلع بھر میں غریب طبقہ کو خود کفیل بنانے کیلئے اب تک 200 ٹھیلہ بنڈیاں مستحقین میں تقسیم کی گئی ہیں،5ہزار سے زائد خواتین کو فن سکھایا گیا ہے ایک ہزار سلائی مشینیں تقسیم کی گئی ہیں۔اس خصوصی اجلاس میں مدرسہ تجوید القرآن کے تمام طلباء عزیز و اساتذہ اکرام کے علاوہ کئی ایک مساجد کے ذمہ داران اور عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔مولانا نے آخر میں مہمانان خصوصی سمیت تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی دعاء پر مسجد فیض المبین،مدرسہ تجوید القرآن کے بالائی منزل پر مسجد اسٹڈی سرکل کا افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
Like this:
Like Loading...