Skip to content
ظریفانہ: ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن پرتاپ سنگھ نے کلن یادو سے کہا یار پردھان جی نے ماماجی کی رقابت میں غلط آدمی کو اپنی ریاست کا وزیر اعلیٰ بنادیا ۔
کلن یادو بولا کیوں بھائی ہمارے ’موہن پیارے‘ نے ایسی کون سی غلطی کردی جو تم اس سے اس قدر ناراض ہورہے ہو ۔
ارے بھائی اس نے ایک مسلمان کی تعریف کے پُل باندھ دئیے ۔ اب کچھ لوگوں کو گاڑی سے نکال کر بچا لیا تو اس میں کون سی بڑی بات ہے؟
کلن نے سوال کیااچھا اگر ایسا ہے تو تم یہ کیوں نہیں کردیتے ۔ کیا تمہارے سامنے اس کا موقع کبھی نہیں آیا ؟
آیا تو تھا ۔ ایک بار میں اپنی بولیٹ پر جارہا تھا تو ایک گاڑی والا بازو سے ایسے گزرا کہ سارا کیچڑ میرے کپڑوں پر آگیا ۔
ارے! میں کیا پوچھ رہا ہوں اور تم کیا بول رہے ہو؟کچھ سوچ کر تو بولو۔
دھیرج رکھو اور آگے سنو۔ میں غصے سے تلملا رہا تھا کہ وہ گاڑی آگے جاکر پلٹ گئی ۔
یعنی وہی ہوا جو وارث خان کے سامنے ہوا۔ تو تم نے کیا کیا؟
یار میری تو باچھیں کھِل گئیں۔ میں نے سوچا جئے شری رام کا نعرہ لگا کرگاڑی میں آگ لگادوں اور انتقام لے لوں ۔
اچھا تو کیا تم نے آگ لگاتے ہوئے ویڈیو بھی بنوائی ؟
نہیں یار وارث خان جیسے لوگ وہاں پہنچ کر انہیں بچانے لگے ۔ میرے دل ٹوٹ گیا۔
یار لیکن وہ گاڑی اگر کسی مسلمان کی تھی تو اس کو سزا دینا ضروری تھا۔ اس میں کون تھا ؟
للن بولا یہ میں نے نہیں دیکھا جو بھی ہوتا میں اسے جلا کر راکھ کردیتا ۔ آخر کیا سوچ کر اس نے ایک ٹھاکر پر کیچڑ اچھالنے کی جرأت کی تھی ۔
کلن یادو نے کہا بھیا موہن یادو کی حمایت پر دھیان نہ دو ۔ سیاست میں ایسا ناٹک کرنا پڑتا ہے ۔
خاک کرنا پڑتا ہے وہ خاموش بھی تو رہ سکتے تھے ۔ پڑوس کے یوگی کو دیکھو یعقوب منصوری کے بارے میں کچھ نہیں بولے خاموش رہے ۔
یار یوگی ٹھاکر کو کم از کم پشپیندر یادو کی تعریف کرنی چاہیے تھے اس نے بھی یعقوب کے ساتھ مل کر کئی بچوں کی جان بچائی تھی۔
کیوں کریں یادو کی تعریف؟ وہ یوپی میں ہمیں ہرانے والی ایس پی کو ووٹ دیتے ہیں اور اگر پشپیندر کی پذیرائی کرتے تو یعقوب کا بھی نام لینا پڑجاتا۔
کلن بولا تو اس میں کون سی آفت آجاتی ۔ ڈاکٹر کفیل کی طرح یعقوب کو آگ لگانے والا ماسٹر مائنڈ اور پشپیندریادو کو بچانے والا مسیحا کہہ دیتے۔
یار کلن جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟
ارے بھائی ہر جھوٹ کو سچ بنانے کے لیے یوگی ٹھاکر ہرسال کروڈوں خرچ کرتے ہیں۔ وہ کب کام آتا ۔ اِدھر وہ بولتے اُدھر میڈیا سچ ثابت کردیتا ۔
یار بچوں والی بات نہ کیا کرو ۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ہم مسلمانوں پر کتنا کیچڑ اچھالتے ہیں پھر بھی وہ موقع پاکر انتقام کیوں نہیں لیتے؟
بھیا یہ تو میری سمجھ میں بھی نہیں آتا چلو چوراہے پر جمن حلوائی سے پوچھتے ہیں ۔
جمن کی جانب رواں دواں للن بولا یار کلن ایک بات تو مانناپڑے گا کہ یہ مسلمان بڑی چالاک قوم ہے۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔
کلن نے تائید کی جی ہاں ۔ ان کی سیاسی موقع شناسی نےہمیں400 پار کے بجائے 240 پر اٹکادیا۔
ارے بیوقوف میں الیکشن کی بات نہیں کررہا ہوں ۔ یہ شہرت کے بھوکے ہیں موقع ملتے ہی ہاتھ مار دیتے ہیں۔
میں نہیں سمجھا ۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟
ارے بھائی وہ وہ سلکارہ کی سرنگ میں پھنسے41 مزدور یاد ہیں ۔ ان کو نکالنے والا ہیرو بھی ایک مسلمان وکیل حسن نکل آیا کوئی ہندو کیوں نہیں ملا؟
کلن بولا بھیا کام کریں گے تو نام ہوگا ۔ اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کام کیا اور نام کما لیا ۔
للن بولا لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ اس کوجان بچانے سے زیادہ شہرت گھر بچانے کی وجہ سے ملی ؟
گھر بچانے کا کیا چکر ہے؟ میں نے نہ سنا اور نہ پڑھا ۔
ارے بھائی ہمارے بھگت میڈیا نے اسے دبا دیا مگر مجھے جمن نے ہی اس کے بارے بہت کچھ بتا یا تھا۔
کلن بولا اچھا تو تم مجھے بھی بتا دو ۔
ہوا یہ کہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس کے گھر پر بلڈوزر توچلا دیا مگر سارا سوشیل میڈیا اس کی حمایت میں کود پڑا۔
ارے بھیا مسلمانوں کی ٹی آر پی کے لیے یہ سب کرنا ہی پڑتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟
ارے بھائی ہم لوگوں نے ایک جعلی ویڈیو بناکر ڈال دی کہ وہ گھر پوری طرح غیر قانونی تھا۔
کلن نے سوال کیا تب تو وہ بدنام ہوگیا ہوگا؟
جی نہیں زبیر احمد نام کے پاگل نے ہماری پول کھول کر ویڈیو فیک ثابت کردی۔
اچھا وہی زبیر جسے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا؟ کہاں یہ منہ اور مسور کی دال اور کہاں وہ عالمی انعام ۔ نامز ہوکر ٹھُس ہو گیا۔
للن نے کہا ارے بھیا ہم لوگ تو دن بھر جئے شری رام کانام جپتے رہتے ہیں پھر بھی ہمارا کوئی دیش بھگت تو نامزد تک نہیں ہوتا ۔
کلن نے سوال کیا یار تم وکیل حسن کی بات بتاتے بتاتے زبیر کے چکر میں پڑگئے۔
ہاں بھائی غلطی ہوگئی ۔ میڈیا نے اس کا اس قدر دماغ خراب کیا اس نے ڈی ڈی اے کی آفر ٹھکرا دی۔
ارے پاگل ہے کیا؟ ویسے ڈی ڈی اے کی پیشکش کیا تھی؟
وہ اسے ای ڈبلیو ایس کے تحت نریلا میں فلیٹ دینا چاہتا تھا۔
یار اس کے مزے ہی مزے ہوگئے۔ ہم لوگ سرکار کی اتنی سیوا کرتے ہیں ہمیں تو ایسی پیشکش نہیں کی جاتی ۔
بھیا ہم لوگ گھر کی مرغی دال برابر ہیں ۔
اچھا تو وکیل حسن نے کیا کہا؟
وہ بولا جن افسروں نے اس کا گھر توڑا ہے ان کو سزا دی جائے اور وہ وہیں رہے گا کہیں منتقل نہیں ہوگا۔
کلن نے کہایار یہ تو ہماری سرکار کی توہین ہے ۔
اور نہیں تو کیا مگر میڈیا نے اس کی تعریف و توصیف میں آسمان اور زمین کے قلابے ملا دئیے خیر یہ بات بعد میں وہ دیکھو سامنے جمن کی دوکان آگئی۔
جمن نے للن اور کلن کو دیکھ کر کہا خیر مقدم ۔ بڑے دنوں بعد آنا ہوا۔ بھابی جی میکے گئی ہیں کیاجو مٹھائی بنٹوانے آگئے؟
کلن بولا جی نہیں تم نے وہ وارث خان والی خبر تو پڑھی ہی ہوگی ۔ اسی کے بارے میں بات کرنے کے لیے آئے ہیں ۔
ارے بھائی خبریں آج کل کون پڑھتا میں اس پرمیں کم ازکم دس ویڈیو دیکھ چکا ہوں ۔ اپنے وزیر اعلیٰ کے بیان نے تو دل خوش کردیا ۔
اچھا! للن بگڑ کربولا انعام کے ساتھ بیان بھی دے دیا اس بیوقوف نے؟
جمن نے کہا ارے بھائی انعام سے بڑا بیان ہے کیونکہ آج کل مہنگائی کے زمانے لاکھ روپئے کی قدروقیمت ہی کیا ہے ۔ وہ تو چھٹن پان والا کما لیتا ہے۔
کلن نے کہا بھیا تم کہیں ہمارے موہن یادو کے انعام کی ناقدری تو نہیں کررہے ہو۔
نہیں بھائی میں تو ان کے بیان کی قدر دانی کررہا ہوں ۔ پانچ چینل پر میں ان کا بیان سن کر خوش ہو چکا ہوں بلکہ اب وہ مجھے ازبر ہوگیا ہے۔
للن نے سوال کیا اچھا ! اس نے ایسا کیا کہہ دیا جو تم اتنا خوش ہورہے ہو؟
ارے بھائی پہلے تو وارث خان کی بہادری کو سراہتے ہوئے اس عظیم کام کہہ کر مبارکباد دی نیز 15؍ اگست کو اعزاز دینے کا وعدہ کردیا ۔
للن بولا یار اس میں بہادری کہاں سے آگئی ۔ ایک پلمبر نے گاڑی سے کچھ لوگوں کو نکال لیا تو کیا اسے یوم آزادی کی تقریب میں انعام ملنا چاہیے؟
جمن نے کہا انہوں نے اپیل کی کہ دکھ اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایسے لوگ ریاست اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔
کلن بولا یار تو کچھ زیادہ ہی ہوگیا خیر یہ بتاو کہ ہندو سماج تمہارا بائیکاٹ کرتا ہے ۔ تمہاری ماب لنچنگ ہوتی ہے بلڈوزر چلتے ہیں اور انکاونٹرتک ۰۰۰۰
جمن درمیان میں بول پڑا سمجھ گیا تم کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟ ہم لوگ اس کے باوجود بلا تفریق مذہب و ملت مدد کے لیے آگے کیوں آتے ہیں ؟
للن نے تائید کی اور بولا جی ہاں یہی گتھی سلجھانے کی خاطر ہم لوگ تمہارے پاس آئے تھے ۔
اچھا تو سنو ،دین اسلام میں ہمیں ضرورت مندوں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے، بلکہ سب کے نبی محمدؐ اپنے دشمنوں کے بھی کام آتے تھے ۔
للن بولا ارے لیکن ایسی شہرت کا کیا فائدہ ؟ اس سے ماب لنچنگ جیسے مظالم تھوڑی نا رکیں گے؟
بھیا للن مسلمان یہ کام شہرت و ناموری کے لیے نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی کے لیے یہ کرتے ہیں ۔ شہرت ملے یا نفرت کوئی فرق نہیں پڑتا ؟
کلن بولا نفرت والی بات بیچ میں کہاں سے آگئی ؟
اوہو کیا تم ڈاکٹر کفیل کو بھول گئے ۔ ان کو نفرت کے ساتھ جیل بھی ملی پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹے ۔
للن نے کہا لیکن عدالت نے جب ان کو رہا کیا تو وہ اور بھی مشہور ہوگئے ۔
جی ہاں وہ تو قسمت کی بات ہے۔ عزت یا ذلت تعلق عہدے سے نہیں طرز عمل سے ہے ورنہ یوگی ٹھاکر ذلیل نہ ہوتے۔
کلن بولا یار جمن تم نے یوگی پر تنقید کرکے للن کا دل توڑ دیا ۔ اس لیے ہم لوگ چلتے ہیں ۔
جمن بولا میں معذرت چاہتا ہوں اور کفارے کے طور پر اپنی طرف سے تازہ جلیبی کھلواتا ہوں ۔
للن بولا جی نہیں ذرا جلدی ہے پھر کبھی اطمینان سے بیٹھ کر کھائیں گے۔
اوہو اتنی جلدی ہے تو پارسل بندھوا دیتا ہوں ۔ ایک منٹ لگے گا آرام سے گھر جاکر بچوں کے ساتھ کھائیں اور خوش رہیں ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...