Skip to content
جمعہ نامہ: عزت و ذلت کا معیارِحق
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے۰۰۰‘‘۔ہر بندۂ خدا عزت و احترام کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ عزت نفس کی خاطر جان کی بازی لگانے والے اپنی توقیر و احترام کے لیے دھن دولت اور اقتدار تک سے دستبردار ہوجاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم کی تلقین ہے کہ :’’جو شخص عزت کا خواہاں ہے (تواللہ سے مانگے کیونکہ) ساری عزت تو اللہ ہی کی ہے اس کی بارگاہ تک اچھی باتیں (بلند ہو کر) پہنچتی ہیں اور اچھے کاموں کو وہ خود بلند فرماتا ہے‘‘۔ یعنی عزت و احترام کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ والا صفات ہےجو پاکیزہ قول اور صالح عمل کو بلندی عطا فرماکر اپنے فرمانبردار بندوں کو سربلندکردیتا ہے۔ گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش کے راج گڑھ میں اس آیت کی عملی تفسیر سامنے آگئی۔ وہاں پر ایک معمولی نظر پلمبر وارث خان نے سوکھی ندی میں پلٹنے والی ایک گاڑی سے ۷؍لوگوں کو زندہ نکال لیا۔ وارث خان کی اس بے لوثخدمت نے مسلمانوں کے دشمن ریاستی وزیر اعلیٰ موہن یادو کو پذیرائی پر مجبور کردیااور سارے میڈیا میں ان کی تعریف توصیف ہونے لگی ۔ مذکورہ بالا واقعہ یہ ثابت کردیا کہ عزت و احترام کے حصول کی خاطر دھن ، دولت اور اقتدار و دبنگائی وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اخلاص کے ساتھ کی جانے والی خدمت ہی انسان کو معزز اور محترم بنادیتی ہے۔
وارث خان کو انعام و اکرام نوازنے والے موہن یاد و نےتین ماہ قبل چھترپور کے حاجی شہزاد علی کی زیر تعمیر کوٹھی پر بلڈوزر چلواکر چار کروڈ روپئے ملیا میٹ کر دیئے تھے۔ موصوف کو یہ سزا اہانت رسول ﷺ کے خلاف احتجاج کرنے کےعوض دی گئی تھی۔ آیت کے آخر میں ظالم حکمرانوں کا انجام اس طرح بیان کیا گیا کہ:’’ اور جو لوگ تمہارے خلاف بری بری تدبیریں کرتے رہتے ہیں ان کے لیے قیامت میں سخت عذاب ہے اور آخر کار ان لوگوں کے مکر و فریب ملیا میٹ ہو جائیں گے‘‘۔ حضرت سلیمان ؑ کے لشکر کی دھمک سن کر چیونٹیوں کی ملکہ اس اندیشے کا اظہار کرتی ہے کہ :’’ بادشاہوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی بستی میں (بزور فتح) داخل ہوتے ہیں تو اس کو اُجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے‘‘۔
انبیائے کرام ؑ اور صلحائے دین کوایسے ناروا سلوک پرڈھارس بندھائی جاتی ہے:’’اے میرے رسول ﷺ ان (کفار) کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوا کریں اس میں کوئی شک نہیں کہ عزت ساری اللہ کے لیے ہے وہی سب کی سنتا اور حقیقت جانتا ہے‘‘۔ عصرِ حاضر میں جبکہ آئے دن کوئی نہ کوئی دلآزاری ہوتی ہواس آیت میں بڑی نصیحت ہے۔کائنات ہستی میں ایسے نامراد لوگ بھی ہیں جو:’’جو عزت و آبرو کی تلاش میں مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا سرپرست بنا لیتے ہیں‘‘۔ ایسے لوگوں کو آگے خبردار کیا گیا ہے کہ یاد رکھیں :’’ بے شک ساری کی ساری عزت تو اللہ کے لیے ہے‘‘۔ باغی و طاغی حکمرانوں کی پناہ میں جانےوالوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ : ’’ بیشک جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے‘‘ آخرت کا عذاب تو ان کا مقدر بن کر رہے گا مگر دنیوی رسوائی کی بابت آگے کی آیت میں فرمان خداوندی ہے:’’اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہم اُنہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ اُن کے لیے بہتر ہے ہم تو ان کو صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں تا کہ یہ اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کر لیں اور آخر کار ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا ‘‘۔
دنیوی عذاب کے وارد ہونے کا ایک نمونہ ونود تاوڑے کی تذلیل کے طور پر سامنے آیا۔ ویڈیو میں وہ روپیوں کی گڈیوں کے ساتھ رنگے ہاتھ پکڑے گئے۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ ووٹ جہاد کے خلاف نوٹ کا دھر یدھ ایسے ہوتا ہے۔ مشیت ایزادی نے یہ رسوائی اس سیاسی جماعت کے ذریعہ مسلط کروائی جو ان کی حلیف ہے۔ اس میڈیانے یہ معاملہ اچھالا جو ان کی گود میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس سرکار نے ایف آئی آر درج کی جو اس کی اپنی ہے یعنی ساری رکاوٹوں کے باوجود جو ذلت مقدر کردی گئی تھی اس کا مزہ چکھنا پڑا ۔ارشادِ قرآنی ہے:’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے‘‘۔ ذلت کے عذاب کی یہ پہلی قسط دنیا میں مل جاتی ہے آگے جوہونا ہے اس کا علم صرف خدائے برحق کو ہے۔ یہ نہایت دلچسپ اتفاق تھا کہ ایک طرف وارث خان ذرائع ابلاغ کی زینت بنے ہوئے تھے اور دوسری جانب ونود تاوڑے پر ہر کوئی لعنت ملامت کررہا تھا ۔
اس سے قبل منی پور میں دوبارہ تشدد کے پھوٹ پڑنے کے بعد وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ تنقید کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ بی جے پی کا حامی میتئی سماج خود اپنی ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے گھر جلارہا تھا تو جھانسی کے اسپتال میں اپنی جڑواں بچیوں کو گنوانے کے باوجود یعقوب انصاری اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کے بچوں کو بچا رہا تھا ۔یعقوب منصوری نہ فائر بریگیڈ میں کام کرتا ہے اور نہ کوئی سماجی کارکن ہے وہ تو اپنی بچیوں کا علاج کروا رہا تھا ۔ ایسے میں جب آگ لگی تو لوگ وہاں سے فرار ہونے لگے مگروہ کھڑکی سے کود کروارڈ میں داخل ہوگیا اورکئی بچوں کی جان بچائی۔ اس طرح ٹھیلے پرحلال کمائی کرکے اپنا پیٹ بھرنے والے دلیر نوجوان کو رب کائنات نے عزت و شرف کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ دنیا والوں نے عزت و ناموری کو معاشی خوشحالی سے جوڑ دیاہے۔ ایسے لوگوں کی بابت ارشاد قرآنی ہے :’’انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنا دیا اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا‘‘ حالانکہ تعظیم و توقیر کا حقیقی معیار تو یہ ہے کہ :’’۰۰ بے شک اللہ کے ہاں تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے سے زیادہ متقی/پرہیز گار ہے ۰۰‘‘۔
Post Views: 51
عزت اور شان و شوکت کی بلندی کی مثال تو مصعب بن عمیر رض ہیں جنہوں نے تمام دنیاوی آساءشوں کو چھوڑ کر بلند ترین مقام حاصل کیا۔